ترکی میں خطاطی کا عالمی مقابلہ جیتنے والے پہلے پاکستانی

محمد علی زاہد گذشتہ ماہ ترکی میں ہونے والا خطاطی کا معروف بین الاقوامی مقابلہ جیتنے والے پہلے پاکستانی بن گئے۔

اس سے پہلے ہونے والے خطاطی کے تمام مقابلے ترکی اور دوسرے ملکوں کے خطاطوں نے جیتے(تصویر: محمد علی زاہد)

محمد علی زاہد گذشتہ ماہ ترکی میں ہونے والا خطاطی کا معروف بین الاقوامی مقابلہ جیتنے والے پہلے پاکستانی بن گئے۔

پاکستانی خطاط کا کہنا تھا کہ مقابلہ جیت کر ان کی سب سے بڑی خواہش پوری ہو گئی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق محمد علی زاہد پہلے پاکستانی خطاط ہیں جن کی تخلیقی صلاحیتوں کا خطاطی کے البرکہ ترک عالمی مقابلے میں اعتراف کیا گیا ہے۔ خطاطی کے اس مقابلے کو ترکی میں سب بڑی ثقافتی تقریبات میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔

یہ مقابلہ 2005 سے ہرسال کروایا جا رہا ہے جس میں دنیا بھر سے بہترین خطاط حصہ لیتے ہیں۔

اس سے پہلے ہونے والے خطاطی کے تمام مقابلے ترکی اور دوسرے ملکوں کے خطاطوں نے جیتے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جیوری نے فنی مہارت کے اعتراف کرتے ہوئے پاکستانی خطاط کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔

محمد علی زاہد کا کہنا تھا کہ ’میرے لیے یہ انعام جیتنا اس خواب کی طرح ہے جو سچ ثابت ہوا۔ یہ لمحہ نہ صرف میرے لیے بلکہ ملک کے لیے بھی فخر کا سبب ہے۔ انہوں نے پہلی بار کسی پاکستانی فن کار کے کام کو تسلیم کیا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسلامی تہذیب کے آغاز سے ہی مسلمانوں کے لیے خطاطی فن کے اظہار کا بڑا ذریعہ چلا آ رہا ہے۔

 اس انتہائی خاص طرز تحریر کو ثقافتی اعتبار سے مساجد اور دوسرے مقامات کی آرائش میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں کسی دوسرے تصویری آرائش کا خیرمقدم نہیں کیا جاتا ہے۔

زاہد کا کہنا تھا کہ ’ترکی میں ہونے والے اس سال کے مقابلے کا موضوع’معاشرہ اور حسن اخلاق‘تھا۔ انہوں نے بتایا کہ شرائط کے مطابق انہیں اس مقابلے کے تصور کو عملی شکل دینے میں چھ ماہ لگے۔

 ان کے بقول: میں نے کام کے 10 مختلف نمونے تیار کیے جن میں سے بالآخر ایک کا انتخاب کیا جس نے پہلا انعام جیتا۔

زاہد، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، عراق اور ملائشیا میں ہونے والے خطاطی کے 17 بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لے کر متعدد انعامات جیت چکے ہیں۔

 ان کا کہنا ہے کہ ’کسی فن کار کے لیے سب اہم بات اس پیشے سے وابستہ برادری کے دوسرے ارکان کی اس کے حق میں دی جانے والے رائے ہے۔ میرے کام کو بعض بڑے عرب اور ترک خطاطوں نے سراہا ہے جس سے مجھے بے حد خوشی ہوئی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی آرٹ