ہاٹ مینگو چٹنی ساس

میشا شفیع کا نیا گانا ’ہاٹ مینگو چٹنی ساس‘ سنتے ہوئے ہم اپنے بچپن میں جا پہنچے، ہماری امی ہر سال گرمیوں میں کیریوں کی کھٹی میٹھی چٹنی بنایا کرتی تھیں جو ہم سب گھر والے ہر کھانے کے ساتھ لازمی اور شوق سے کھایا کرتے تھے۔

اس گانے میں کئی اور اسباق بھی موجود ہیں۔ مثال کے طور پر یہ آپ کو بتاتا ہے کہ اگر کبھی زندگی آپ پر لیموں پھینکے تو ان پر غصہ یا مایوس ہونے کی بجائے انہیں اچھے سے ’کیچ‘ کریں اور ان کے ساتھ ہری مرچیں ملا کر لیموں ہری مرچ کا اچار ڈال لیں (تصویر: انسٹاگرام میشا شفیع)

میشا شفیع کا نیا گانا ’ہاٹ مینگو چٹنی ساس‘ سنتے ہوئے ہم اپنے بچپن میں جا پہنچے، ہماری امی ہر سال گرمیوں میں کیریوں کی کھٹی میٹھی چٹنی بنایا کرتی تھیں جو ہم سب گھر والے ہر کھانے کے ساتھ لازمی اور شوق سے کھایا کرتے تھے۔

ہماری امی چٹنی کے لیے کیریاں پیستی نہیں تھیں بلکہ ہم سے کدو کش کرواتی تھیں۔ پھر اس میں ثابت سرخ مرچ، چینی اور سرکہ ملا کر پکاتی تھیں۔ آخر میں کلونجی اور چٹکی بھر زردے کا رنگ شامل کرتی تھیں اور یوں سنہرے رنگ کی کھٹی میٹھی سی چٹنی تیار ہو جاتی تھی۔   

ہم وہ چٹنی ہر چیز کے ساتھ کھایا کرتے تھے۔ پراٹھے کے ساتھ۔ دال چاول کے ساتھ۔ سبزی پلاؤ کے ساتھ۔ کچھ نہ ملتا تو ویسے بھی کھا لیتے تھے۔

ہماری امی ہر سال مرتبان بھر کر آم کا اچار بھی ڈالا کرتی تھیں۔ ہمارے گھر صحن تو نہیں ہے۔ وہ گیراج میں ہی چٹائی بچھا کر بیٹھ جاتی تھیں۔ کیریاں چار حصوں میں کٹی ہوئی ہوتی تھیں۔ ہم سب مل کر ان میں سے گٹھلی کے حصے الگ کیا کرتے تھے۔ پھر اچار کا مصالحہ تیار ہوتا تھا۔ سرسوں کا تیل منگوایا جاتا تھا۔ آم مرتبان میں ڈالے جاتے تھے۔ مصالحہ تیل میں پکا کر ان کے اوپر انڈیلا جاتا تھا۔ بقیہ تیل بھی پکا کر مرتبان میں شامل کر دیا جاتا تھا۔

پھر مرتبان گھر میں کسی بھی ایسی جگہ جہاں دھوپ آتی ہو رکھ دیا جاتا تھا۔ دن میں دو بار اسے اچھے سے ہلایا جاتا تھا تاکہ وہ خراب نہ ہو۔ کچھ ہفتوں بعد اچار کھانے کے لیے تیار ہو جاتا تھا۔ کچھ سالوں سے ہم نے اپنی امی کو اس مشقت سے روک دیا ہے۔ ہر دو ماہ بعد سوپر مارکیٹ سے اچار کی بڑی سی بوتل اٹھا لاتے ہیں۔ جس نے اچار کھانا ہو وہی کھا لیتا ہے۔  

خیر، ہم اپنی چٹنی پر واپس چلتے ہیں جو اس کہانی کے دوران ساس بن چکی ہے۔ جیسے چلی گارلک ساس، ہاٹ ساس، مِنٹ ساس، رائتہ ساس یا میشا شفیع کے گانے کا مرکز و محور ہاٹ مینگو چٹنی ساس۔ اسی طرز پر نان بریڈ اور چائے ٹی بھی ہیں۔ اچار کو اب بھی اچار ہی کہا جاتا ہے۔ تاہم پِکل بھی موجود ہے۔ موجودہ دور میں کچھ لوگ دال چاول کے ساتھ آم، لیموں، لہسن یا دیگر دیسی اچار چھوڑ کر گھرکن یا جیلیپینو کھانا پسند کرتے ہیں۔

یہاں ہمیں ہماری ماسٹرز کی ایک ہم جماعت بھی یاد آ رہی ہیں۔ ہماری طرح ان کا تعلق بھی پاکستان سے تھا۔ ہم نے کیا انہیں برگر کہنا تھا وہ خود ہی اپنے آپ کو برگر کہتی اور ثابت کرتی تھیں۔

ایک روز ہم ہاسٹل کے باورچی خانے میں کھڑے پلاؤ بنا رہے تھے۔ انہیں خوشبو پہنچی تو وہ ہم تک پہنچ گئیں۔ سلام دعا کے بعد، کیا پک رہا ہے؟ پوچھا گیا، ہم نے کہا پلاؤ ہے۔ کھاؤ گی؟ کہنے لگیں، ضرور۔ ہم نے کہا، بس بیس منٹ میں آ جاؤ۔

پلاؤ دم پا چکا تو ہم نے انہیں بلاوا بھیج دیا۔ ہمارے پاس اس وقت برتنوں کے نام پر دو پلیٹیں، ایک چمچ، ایک گلاس اور ایک کپ موجود تھا۔ ہم نے پلیٹوں میں سے ایک پلیٹ انہیں پکڑائی، دوسری خود پکڑ لی۔ چمچ انہیں ہی دے دیا کہ وہ مہمان تھیں۔ ہم خود ہاتھ سے چاول کھانے لگے۔ ویسے بھی ہم اکیلے ہوں تو ہاتھ سے ہی چاول کھاتے ہیں۔

ہمیں ہاتھ سے چاول کھاتا دیکھ کر وہ کھانا کھانا بھول گئیں۔ پلیٹ سامنے رکھے بس ہمیں ٹکر ٹکر دیکھ رہی تھیں۔ ہم نے پوچھا: کیا ہوا؟ تو حیرانی سے پوچھنے لگیں کہ تم ہاتھ سے چاول کھاتی ہو؟ ہم نے کہا: ہاں ہم اکثر ہی ایسے کارنامے کرتے رہتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دو ہفتے بعد وہ خاتون ساری کلاس کو حیرانی سے ہمارے ہاتھ سے چاول کھانے کا بتا رہی تھیں جیسے ہم ایسا کرنے والے کرہ ارض پر پہلے اور واحد جاندار ہوں۔ اس گانے سے ہمیں ان کا مسئلہ بھی سمجھ میں آ چکا ہے۔      

اس گانے میں کئی اور اسباق بھی موجود ہیں۔ مثال کے طور پر یہ آپ کو بتاتا ہے کہ اگر کبھی زندگی آپ پر لیموں پھینکے تو ان پر غصہ یا مایوس ہونے کی بجائے انہیں اچھے سے ’کیچ‘ کریں اور ان کے ساتھ ہری مرچیں ملا کر لیموں ہری مرچ کا اچار ڈال لیں۔

لیموں سے لوگ لیمونیڈ بھی بناتے ہیں۔ پہلے سکنجبین بنائی جاتی تھی۔ اب اس کا فیشن نہیں رہا۔ اچار فیشن کی جنگ سے باہر ہے۔ ہر موسم میں چلتا ہے بلکہ دوڑتا ہے۔ 

اس گانے میں ان انکلز اور آنٹیز کا حل بھی موجود ہے جو ہمارے کچھ کرنے پر ہا ہائے اور اپنے بچوں کے وہی کچھ کرنے پر ماشاءاللہ، سبحان اللہ کرتے ہیں۔ ایسے انکلز اور آنٹیز ہا ہائے کریں تو انہیں کہیں سب کر لیندے اِف دے کوڈ۔ ہم نے کر لیا تو کیا ہو گیا۔ ہمیں بھی اپنا بچہ سمجھتے ہوئے ماشااللہ اور سبحان اللہ کہیں اور آگے بڑھیں۔

اتنا بھی نہ کہہ سکیں تو میشا شفیع کا یہ گانا چلا دیں۔ خود بھی سنیں اور انہیں بھی سنائیں۔ اللہ نے چاہا تو وہ آپ کا جواب آپ کے کہے بغیر سمجھ جائیں گے۔ ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ