وہ خاتون جنہوں نے امریکہ کے طاقتور ترین گورنر کا کیریئر تباہ کر ڈالا

لنزی بوئلن پہلی خاتون ہیں جنہوں نے نیو یارک کے گورنر اینڈریو کومو کی جنسی ہراسانی کے خلاف آواز بلند کی اور جس کے نتیجے میں بالآخر ان کا سیاسی کیریئر تباہ ہو گیا۔

لنزی بوئلن  سابق نیو یارک اینڈریو کومو پر ہراسانی کا الزام  لگانے والی 11 خواتین میں منظر عام پر آنے والی پہلی خاتون ہیں (فرانسس ایف ڈینی، دی انڈپینڈنٹ/ اے ایف پی فائل)

جب لنزی بوئلن سان ڈیاگو شہر میں اپنا بچپن گزار رہی تھیں تو ان کے آس پڑوس میں ایک لڑکا تھا جو ایک ظالمانہ کرتب دکھایا کرتا تھا۔ 

وہ زبردستی آس پڑوس کے بچوں کو گھر بلوا کر اپنے پالتو سانپ کو زندہ چوہا کھلانے کا نظارہ کرواتا۔ وہ چوہے کو سانپ کے ڈبے میں پھینکنے سے پہلے اس کا سر دیوار سے دے مارتا تاکہ وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو جائے۔

’اور پھر وہ چکرا جاتا۔ ایسا ہی محسوس ہوتا تھا، جب گورنر کے ماتحت کام کرنے والی (میری طرح) کوئی بھی خاتون انہیں دلکش لگتی تھی۔‘

بوئلن کہتی ہیں کہ بدسلوکی کی حوصلہ افزائی کرنے والے ماحول کی وجہ سے دفتری نظام مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔

وہ استعاراتی اسلوب میں بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہاں سانپ گورنر اینڈریو کومو تھے او ’آپ کو کچھ پتہ نہیں کہ آپ کسی بھی وقت زندہ ہڑپ کر لی جا سکتی ہیں۔‘

2015 اور 2018 کے دوران بوئلن نے اینڈریو کومو کے ماتحت ریاست نیو یارک کی معاشی ترقی کے لیے مخصوص تنظیم ایمپائر سٹیٹ ڈویلپمنٹ کی چیف آف سٹاف کے طور پر کام کیا اور پھر اکنامک ڈویلپمنٹ کی ڈپٹی سیکرٹری اور گورنر کے معاون خصوصی کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔

2018 میں انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ ’میرے صبر کا پیمانہ چھلک گیا، حالات میرے لیے تلخ سے تلخ تر ہو گئے تھے۔‘

بوئلن کو ضلع مین ہیٹن کی صدر بننے کے لیے اپنی سیاسی مہم شروع کیے ابھی دو ماہ ہی ہوئے تھے (وہ 2019 میں امریکہ کی رکن پارلیمان بننے کے لیے بھی میدان میں اتریں تھیں) کہ دسمبر 2020 میں صدر بائیڈن کے ماتحت اٹارنی جنرل کے ممکنہ امیدوار کے طور پر کومو کا نام سامنے آ گیا۔

’اپنے سابق باس کے ممکنہ طور پر ملک کے طاقتور ترین قانون ساز بننے کی خبر نے بوئلن کو ٹویٹس کا سلسلہ کرنے پر مجبور کردیا جس کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ یہ ’اپنے کیریئر اور زندگی پر جوہری بم گرانے جیسا تھا۔‘

13 دسمبر کو وہ اپنے خاوند اور چھ سالہ بیٹی کے ساتھ کار میں تھی۔ ’میں مسلسل دیکھتی رہی کہ اٹارنی جنرل کے ممکنہ امیدوار کے طور پر ان کا نام ٹوئیٹر پر گردش کر رہا تھا۔ میں نے فوراً اپنا ردعمل لکھنا شروع کر دیا۔‘

انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا: ’جی ہاں @NYGovCuomo نے کئی سال تک مجھے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا۔ کئیوں نے اسے دیکھا اور مشاہدہ کیا۔ میں کبھی پہلے سے اندازہ نہیں کر سکتی تھی کہ اگلا قدم کیا ہو گا: کیا میرے کام کی وجہ سے مجھ پر سخت تنقید کی جائے گی (جو ہمیشہ اچھا ہوتا تھا) یا اپنی جسمانی ساخت کی وجہ سے ہراساں کیے جاؤں گی۔ یا اس ایک گفتگو میں یہ دونوں چیزیں شامل ہوں گی؟ کئی سال تک ایسے ہی ہوتا رہا تھا۔‘

ان ٹویٹس کے نتیجہ میں اس معاملے کا دائرہ بوئلن  کے حدود سے نکل کر بہت پھیل گیا۔ ایسے ہی الزامات کے ساتھ جب دوسری خاتون شارلوٹ بینیٹ سامنے آئیں تو نیو یارک کی اٹارنی جنرل لٹیشیا جمیز نے الزامات کی تحقیق کے لیے انکوائری شروع کر دی۔

بوئلن  کے کئی بار انٹرویو لیے گئے اور کئی گھنٹوں تک اٹارنی جنرل کے وکلا اور ریاستی اسمبلی کے تفتیشی عملے کے سامنے پیش ہو کر وہ حلیفہ طور پر گواہی ریکارڈ کرواتی رہیں۔

تین اگست کو 165 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کی گئی۔ تحقیقات اس نتیجے پر پہنچیں کہ ’گورنر نے نیو یارک کے کئی موجودہ اور سابق ریاستی ملازمین کو جنسی طور پر ہراساں کیا جس میں دیگر چیزوں کے علاوہ ناپسندیدہ انداز اور بغیر رضامندی کے چھونا شامل ہے، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے جنسی نوعیت کے متعدد ناپسندیدہ معنی خیز تبصروں کے ذریعے ایسا ماحول پیدا کیا جس میں خواتین کے لیے کام کرنا نہایت تکلیف دہ تھا۔‘

اس کے نتیجے میں بالآخر امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اہم ترین اراکین میں سے ایک اینڈریو کومو کو استعفی دینا پڑا جس سے نہ صرف ان کی بطور گورنر 10 سالہ اننگز کا خاتمہ ہو گیا بلکہ 50 برسوں پر محیط ان کے خاندان کی سیاسی وارثت بھی بری طرح تباہ ہو کر رہ گئی۔

رپورٹ میں 11 خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور دفتر کی زہریلے ماحول کا تفصیل سے ذکر کیا گیا جہاں بنیادی ترین اخلاقیات پر گورنر سے وفاداری کو ترجیح حاصل تھی۔

اس کے بارے میں کہا گیا کہ ’خوف، دہشت اور انتقام کی فضا‘ جو ’گورنر کی روزمرہ کی چھیڑ چھاڑ اور صنفی امتیاز پر مبنی تبصروں کو قابل قبول اور معمول کے مطابق‘ بناتی رہی تھی۔ ایک خاتون نے دفتر کے ماحول کو ’ٹوائلائٹ زوز‘ قرار دیا جہاں عام قوانین لاگو نہیں ہوتے تھے۔‘

23 اگست کو اینڈریو کومو نے استعفیٰ دے دیا۔ ریکارڈ شدہ 21 منٹ پر مشتمل تقریر میں انہوں نے اٹرنی جنرل جمیز کی رپورٹ کے متعلق کہا: ’میں ایک جنگجو ہوں اور اس تنازعے میں آخر تک لڑنا میری جبلت میں شامل ہے کیونکہ میں واقعی سمجھتا ہوں اس اقدام کے پیچھے سیاسی مفادات ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ غیر منصفانہ اور جھوٹ پر مبنی ہے۔‘

کومو نے جان بوجھ کر ہراساں کرنے اور جنسی پیش قدمی کے الزامات کا مسلسل انکار کیا۔

بوئلن طویل عرصے سے ڈیموکریٹک پارٹی میں تبدیلی لانے کا سوچ رہی تھیں لیکن اس انداز میں ہرگز نہیں۔

وہ آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے اپنے خاندان کی اس پہلی نسل سے ہیں جس نے امریکہ میں جنم لیا، ان کے خاندان میں خواتین کی تعداد زیادہ تھی۔ ان کا بچپن اپنی دادی اور آنٹی کے ساتھ مل کر ایک خاندان کی صورت گزرا اور 16 سال کی عمر میں ان کی ماں ان کی بہن کو جنم دے چکی تھی۔

جب میں ایسی خواتین کے قصے جاننے کی بات کرتی ہوں جو زندگی میں کچھ اچھا نہ کر سکیں تو وہ میرے اپنے خاندان کی خواتین ہوتی ہیں۔

میرے خیال میں ان کے اردگرد موجود معاشرے نے انہیں ایسے سازگار مواقع فراہم نہیں کیے جو ان کی کامیابی کے لیے ضروری تھے۔

میرے دل میں ہمیشہ یہ جذبات رہے کہ اسے ٹھیک کرنے کے لیے میرے ہاتھ میں کچھ نہیں سو اسی لیے میں گورمنٹ سروس میں گئی تاکہ خود کو دوسروں سے زیادہ باصلاحیت، زیادہ قابل بنا کر ایسی پوزیشن میں پہنچ سکوں جہاں میرے لیے چیزیں تبدیل کرنا ممکن ہو۔‘

ہائی سکول کے دنوں سے ہی بوئلن  سیاست بالخصوص ہیلری کلنٹن سے متاثر تھیں جو 2001 میں ایوان بالا کی رکن بنیں۔

کلنٹن پہلی بار سینیٹر بنی تھیں اور خواتین کے رکن پارلیمان بننے کا ایک بالکل نیا جذبہ امڈ آیا تھا۔

میں نے کہا: ’تو ہاں یہ خواتین کچھ کر رہی ہیں۔ میرے خاندان میں ایسی خواتین نہیں جو باہر نکل کر اپنی آواز بلند کرتے ہوئے طاقت کا مظاہرہ کر سکیں۔ تو ٹھیک ہے، یہ ہیلری کلنٹن کونسے سکول میں پڑھی ہیں؟ وہ ویلیسلی کالج گئیں۔‘

بوئلن نے بھی اسی کالج میں داخلہ لیا اور پھر نظریہ سیاست پڑھنے کے بعد کولمبیا یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ پہلی خاتون تھیں جنہیں شہری منصوبہ بندی کی نیو یارک کی ایک چھوٹی کمپنی نے بلایا اور پھر انہوں نے وہاں برائنٹ پارک کی بہتری اور ترقی کے لیے کام کیا جسے مین ہیٹن ٹاؤن سکوائر بھی کہا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’سمندری طوفان ماریا  کے بعد پورتو ریکو میں ریاستی سطح پر کی گئی امدادی کاروائیوں کی میں نے نگرانی کی۔

’میں نے آفس آف سٹورم ریکوری کی نگرانی کی جس نے سینڈی (سمندری طوفان) کے بعد بھی امدادی سلسلہ جاری رکھا۔

’سو میں موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بہت بڑے اور فوری نوعیت کے بحران سے نمٹنے کے لیے کام کر رہی تھی۔ کیونکہ میں بہت ہی بڑا کام کر رہی تھی اس لیے اسے چھوڑنا بہت مشکل تھا۔

’یہ غیر منصفانہ بات ہے کہ خواتین ایسی صورت حال میں دھکیل دی جاتی ہیں۔ دراصل یہ ایک طرح سے ذلت آمیز ہے کیونکہ اسے کرتے ہوئے میرے اندر یہ خیال آیا جیسے میری قدر کم کی جا رہی ہے: اس کام کے لیے میری ایلیت میں کئی حوالوں سے اس بات کا بھی عمل دخل تھا کہ میں اس گورنر کو خوش کرنے کے لیے خدمات پیش کر رہی تھی۔‘

اس دوران ان کے بقول انہیں کمر، ٹانگوں اور بازؤں پر نامناسب انداز میں چھوا جا رہا تھا اور ایک بار ان کے منہ پر زبردستی بوسہ دیا گیا۔

وہ دعویٰ کرتی ہیں کہ نجی جہاز میں مغربی نیو یارک سے گھر جاتے ہوئے گورنر نے انہیں اپنے ساتھ strip poker کھیلنے کی دعوت دی۔

اور جب کومو کا کتا چھلانگ لگا کر بوئلن  پر سوار ہو گیا تو ان کے بقول کومو نے کہا وہ بھی ان پر ’سوار ہونا‘ چاہتے ہیں۔ سابق گورنر ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ چھٹی کے دن ایک پارٹی کے دوران کومو کے حفاظتی دستے کے ایک اہلکار نے انہیں کو باہر نکالا اور گورنر کے نجی دفتر ون آن ون ملاقات کے لیے لے گیا جہاں وہ صدر بل کلنٹن کی طرف سے دیے گئے ایک سگار باکس کو گھورتے ہوئے اس میں گم تھے۔

وہ کہتی ہیں اس ملاقات نے انہیں پوری طرح خوفزدہ کر دیا۔ اینڈریو کومو کے وکیل نے زور دے کر کہا کہ یہ معمول کا دورہ تھا جس کا مقصد ’مسز بوئلن کو پریشان کرنا‘ یا ’ایسا تاثر دینا نہیں تھا کہ انہیں رومانی دلچسپی ہے۔‘

بوئلن کہتی ہیں انہیں معلوم ہے اور بھی ایسی خواتین ہوں گی جن کے پاس بتانے کو ایسے واقعات ہوں گے جیسے ان ہیں لیکن انہیں بہت کم توقع تھی کہ کوئی اور بھی سامنے آئے گی۔

اس واقعے کے بعد آنے والے کئی ہفتوں تک کومو اور ان کی ٹیم نے بوئلن کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے بھرپور تیاری کی۔

بعد ازاں اس مہم کو جیمز رپورٹ نے ’غیر قانونی انتقامی کارروائی‘ قرار دیا۔

ایک شائع شدہ آڈیو ریکارڈنگ میں کومو کی چیف آف سٹاف میلیسا ڈی روسا، مسز بوئلن کی انتظامی امور والی فائل البانی کے اخبار ٹائمز یونین کے دو صحافیوں کو بھیجتے ہوئے سنی جا سکتی ہیں، مبینہ طور پر فائل میں یہ معالومات تھیں کہ بوئلن  کے ماتحت کام کرنا کس قدر دشوار عمل تھا۔

اس میں گم نام افراد کی طرف سے ان پر الزام عائد کیے گئے کہ وہ عملے پر دھونس جمایا کرتی تھیں۔

جب ڈی روسا سے گورنر آفس میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں اور گرومنگ سے متعلق سوالات پوچھے گئے تو انہوں نے کہا ’کیا اس صورت حال میں میں گزلین میکسویل ہوں؟‘ مسز ڈی روسا نے نو اگست کو استعفیٰ دے دیا۔

ان کے وکیل شان ہیکر نے انڈیپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا: ’کسی شکایت کو کس طرح سنبھالنا چاہیے یا کیا انتظامی امور کی فائلیں عوام کے سامنے لانی چاہیں، ایسے قانون سوالات کے لیے ڈی روسا نے مشاورتی کونسل سے رائے لی اور پوری طرح اسی پر انحصار کیا۔ ‘

گزلین میکسویل کا نام لینے پر ڈی روسا کے ترجمان رچ آزوپردی نے کہا:  ’جب پہلی بار الزامات سامنے آئے تو اس کے بعد ان کے خلاف خاص طور پر ری پبلیکنز سے منسوب اکاؤنٹس سے غلیظ اور غیر منصفانہ ٹویٹس آنے لگے سو وہ ان کا جواب دے رہی تھیں۔‘

بوئلن اب کہتی ہیں: ’خوفناک بات یہ ہے کہ یہ سب باتیں عام ہو چکی تھیں۔ کومو کے پاس دکھانے کے لیے کس قدر طاقت اور دھمکیاں تھیں کہ مجھ پر بہتان تراشی کے معاملے میں کوئی شخص انہیں ’انکار‘ نہیں کر سکا۔‘

’میں جو کرنے جا رہی تھی وہ بس لوگوں سے ایسا کہنا تھا کہ براہ مہربانی تباہ شدگی کے اس عمل میں میرا ساتھ دیجیے۔ آپ لوگوں کو مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ خود کو مشکل صورت حال میں پھنسا لیں۔‘

اس کے باوجود ایک ایک کر کے کومو کے مدعی سامنے آنے لگے۔ بوئلن کہتی ہیں یہ بات بالکل درست ہے کہ کومو کا زوال ان عورتوں کی اجتماعی بہادری کا نتیجہ ہے جنہیں وہ مسلسل خوف زدہ کرتے رہے۔ وہ کہتی ہیں: ’ہم سب کو نہایت کمزور سمجھنا ان کے برے رویے کا حصہ تھا۔ جو دراصل ان کی بربادی کا حصہ تھا۔‘

جس وقت بوئلن  نے یہ جرات مندانہ قدم اٹھایا ان دنوں نیو یارک سے روزانہ ٹی وی پر کرونا وبا کی صورت حال سے آگاہ کرنے کی بدولت کومو کو ’امریکہ کے گورنر‘ کہا جانے لگا تھا۔

وہ ایسی مقبولیت اور عزت افزائی کے اس مقام پر تھے جس کی مثال نہیں ملتی۔

وہ اپنے بھائی کرس کومو کے سی این این پر چلنے والے پروگرام میں آ کر وبا سے نمٹنے کی اپنی کارگزاری سناتے، جہاں اینڈریو اور ان کے بھائی کرس لائیو شو میں ایک دوسرے سے چھیڑ خانی کرتے ہوئے نہایت بھونڈے انداز میں اپنی خوش اخلاقی کا ڈھنڈورا پیٹتے۔

کومو نے اپنی یادداشتیں قلم بند کرنے کے لیے 50 لاکھ ڈالرز کا معاہدہ کیا جو اکتوبر 2020 میں امریکی بحران: کوڈ 19 کی عالمی وبا سے حاصل ہونے والے رہنما اسباق کے نام سے شائع ہوئی۔

بوئلن کہتی ہیں لیکن اس سب کے دوران کومو کا بدمعاش ہونا ایسی حقیقت ہے جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔

مبینہ طور پر انہوں نے اپنے مضبوط آدمی ہونے کے تاثر کو اپنے عیش و عشرت کے لیے استعمال کیا، جن پر غصہ اور چیخ و پکار جچتی تھی۔

بوئلن کہتی ہیں: ’یہ چیخ و پکار سب سے زیادہ بھیانک چیز نہیں تھی۔ ان کا مجھے یا کسی اور کو زبانی کلامی میں برا بھلا کہنا تو عام سی بات تھی۔

جب وہ ناخوش ہوتے تب تک حالات قابل برداشت ہوتے۔ لیکن ایسی چیزیں کہ کسی تقریب کے دوران مجھے ایسی جگہ پر بیٹھانا جہاں وہ مجھے دیکھ سکیں۔

یہ بات معلوم ہونے کا خوف کہ پس پردہ تمام نظام آپ کی نگرانی پر تعینات کر دیا گیا ہے، سب سے زیادہ خوفناک چیز تھی۔‘

کومو کے حلقہ احباب میں شامل افراد کے احتساب کا سلسلہ ابھی تک رکا نہیں۔ اس میں نہ صرف سابق گورنر کے دفتر میں کام کرنے والے وفادار شامل ہیں بلکہ بیرونی معاونین بھی جو ہراسانی کے الزامات کا جواب دینے کے لیے گورنر کی مدد کرنے کے لیے پیش کیے گئے تھے۔

اس میں ہالی وڈ کی خواتین کی 2018 میں قائم کردہ ملکی تنظیم ٹائمز اپ بھی شامل ہے جس کا مقصد جنسی ہراسانی کا سد باب اور صنفی مساوات کا علم بلند کرنا تھا۔

ٹائمز اپ کے دو رہنماؤں روبرٹا کیپلن اور ٹینا چین اور پوری نگران کمیٹی اب استعفیٰ دے چکی ہے۔

جیمز رپورٹ کے مطابق وہ بوئلن  کے الزامات کے جواب میں کومو اور ان کی ٹیم کی مدد کرتی رہیں اور کومو کے ایک اخبار کے لیے لکھے گئے کالم پر بھی نظر ڈالی جو بالآخر چھپی نہیں۔

ہر طبقے کو جنسی آزادیوں کا حق دینے کے زبردست حامی گروہ حقوق انسانی مہم کے سربراہ ایلفانزو ڈیوڈ کا نام بھی سامنے آیا۔ انہیں چھ ستمبر کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔

بوئلن کہتی ہیں کہ انہیں دیوار سے لگانے کے لیے ٹائمز اپ کی کوششیں آج بھی انہیں شدید ترین تکلیف سے دوچار کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’یہ بس دل دہلا دینے والا ہے، یہ دل خراش ہے۔ میری باقی ماندہ زندگی کے لیے یہ سب سے زیادہ تکلیف دہ چیز ہو گی۔

’یہ میری زندگی کا سب سے مشکل تجربہ رہا۔ اس طرح کا تجربہ خاص طور پر جب اسے بہت زیادہ کوریج ملے تو انتہائی بڑے پیمانے پر پھیل جاتا ہے۔

یقیناً گذشتہ ایک برس کے دوران کئی بار یہ انتہائی تکلیف دہ محسوس ہوا۔‘

معروف شخصیت کا پیچھا کرتے رہنے والے فوٹو گرافرز نے کئی بار پر ان کے گھر کے سامنے ڈیرے ڈالے۔ ان کی اس وقت تصاویر کھینچی گئیں جب وہ اپنی بیٹی کے ساتھ تھیں۔

اب بھی ان کے گھر ان کے لیے حوصلہ شکن ڈاک آتی ہے، ایک آدمی ان سے کومو اور ان کی ساتھ تصویر پر ان کے دستخطوں کا مطالبہ کرتا ہے۔

انہیں ایسے خطوط ملتے ہیں جنہیں وہ ’خوفناک سازشی نظریات‘ کے حامل گردانتی ہیں۔‘ انہیں روزانہ ٹوئٹر پر ہراساں کیا جاتا ہے۔

جرات مندانہ اقدام اٹھانے سے ایک ماہ پہلے بوئلن  کو اسقاط حمل کی تکلیف سے گزرنا پڑا۔ ’میں یقیناً ایسا محسوس کرتی ہوں اس میں اس (دباؤ) کا بھی کردار ہے۔‘

’اس تجربے سے گزرنا بالکل ایسے تھا جیسے اسقاط حمل کے تجربے سے گزرنا ہو۔ میں جانتی تھی کہ یہ بہت بھیانک ثابت ہو گا، مجھے معلوم تھا اس کا انجام خوف ناک ہو گا۔

’میں نے یہ وحشی ماحول دیکھا تھا اور مجھے پتہ تھا کہ انہوں نے لوگوں سے کیا سلوک کیا۔ انہوں نے شروع سے ہی یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ میرے پس پردہ سیاسی عزائم ہیں: میں یہ سب کچھ اپنی انتخابی مہم کے لیے کر رہی تھی۔ سب سے زیادہ مقبول نہیں تو مقبول ترین ڈیموکریٹک ممبران میں سے ایک جو ملک کا طاقتور ترین گورنر ہے اس پر ہراسانی اور بدسلوکی کے الزامات عائد کرنا کیسے میرے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے؟‘

انہوں نے کہا: ’یہاں بہت سے سسٹمز ہیں جو مجھے یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ سچ بول کر میں نے بہت مہلک غلطی کی ہے، جو خواتین کو نشانہ بنانے یا پر کاٹنے یا مجھے زمین پر گرا کر میرے اردگرد چار دیواری کھڑی کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مستقبل کی خواتین کے لیے یہ سب بدلنے کی ضرورت ہے۔‘

بوئلن کہتی ہیں کہ ان کا دوسروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ ابھی اس میں سابق گورنر کے صحافی بھائی کرس کومو رہتے ہیں جو ایک ہفتے کے وقفے کے بعد سی این این پر رات کے وقت براہ راست چلنے والے اپنے ٹی وی شو پر واپس آ چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے بھائی سے تعاون کی ذمہ داری اپنے خاندان سے وفاداری کے سر ڈال دی، کرس کومو نے اپنے ناظرین کو بتایا؛ ’میں نے اپنے بھائی کے لیے وہاں موجود ہونے کی کوشش کی۔ میں کوئی مشیر نہیں۔ میں بھائی ہوں۔ میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں تھا۔ میں وہاں سننے اور اپنی رائے پیش کرنے کے لیے تھا۔‘

بوئلن کہتی ہیں کہ انہیں کرس کی وضاحت قابل قبول نہیں۔ ’میرا خیال ہے جو شخص وبا کے عروج کے دنوں میں اپنے بھائی کی ایسے تشہیر کرے جیسے یہ اس کا کوئی ذاتی قسم کا شو ہے تو یہ بات خود بخود واضح ہوتی ہے کہ دونوں کو کس قدر خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

’مجھے اپنے خاندان سے محبت ہے لیکن میں اپنے خاندان کے افراد کو کبھی بھی یہ نصیحت نہیں کروں گی کہ وہ دوسروں کو نقصان پہنچائیں۔ یہ صحیح چیز نہیں ہے۔

’اور ان کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ یہ کام (نہیں) کر رہے تھے تمام لوگوں کو بیوقوف سمجھنے کے مترادف ہے۔

’اس سے یہ بھی واضح ہے کہ وہ اپنے لیے کیا اور باقیوں کے لیے کیا سوچتے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کس حد تک عورت کی تحقیر اور خود کو خصوصی درجہ دیتے ہیں۔

’وہ کہتے ہیں یہ سب محض خاندان کا معاملہ ہے۔ میرا خیال ہے یہ ان کے اپنے طرز زندگی کا معاملہ بھی ہے۔

’اگر ان کا بھائی اس وجہ سے زوال کا شکار ہو سکتا ہے، اگر معاشرہ اسے قبول کرنے کو مزید تیار نہیں جو ان کے بھائی نے کیا تو شاید وہ کرس کومو کے طرزِ عمل کو بھی برداشت کرنے والا نہیں۔‘

اس پر ردعمل دیتے ہوئے سی این این نے بتایا کہ کرس کومو نے اپنے ناظرین سے اپنی مداخلت کے بارے میں کہا: ’آواز بلند کرنے والی کسی خاتون پر میں نے کبھی حملہ کیا نہ کسی دوسرے کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ایسا کرے۔ میں نے کبھی اپنے بھائی کے معاملے سے متعلق  میڈیا میں رابطے نہیں کیے۔ میں نے کبھی اپنے خاندان سے متعلق سی این این کی کوریج پر اثر و رسوخ یا طاقت استعمال کرنے کی کوشش نہیں کی۔‘ 

جون میں بوئلن ضلع مین ہیٹن کی صدر بننے کی دوڑ سے دستبردار ہو گئیں۔ ان کے بقول وہ اپنے وکلا کو پیروی سے متعلق ہدایات دیتی رہتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کی لیے بھی کوشش کر رہی ہیں۔

بوئلن کہتی ہیں: ’مستقبل کی میری قانونی چارہ جوئی کا محور جوابی کارروائی ہو گی۔ کیونکہ اس طرح میں زیادہ موثر تبدیلی لا سکتی ہوں۔

’میں اپنی توجہ احتساب پر مرکوز کرنا چاہتی ہوں۔ کسی حد تک احتساب ہوا بھی (لیکن) وہ میرے لیے اور بہت سی دیگر خواتین کی تسلی کے لیے کافی نہیں۔

’یہ انتقامی کارروائی ہے جو خواتین کو آواز بلند کرنے سے روکتی ہے کیونکہ مجھ پر جو بہتان تراشی کی گئی وہ انہیں یاد رہے گی۔

’فی الحال میں کچھ وقت خود کو تازہ دم کرنے کے لیے خرچ کرنا چاہتی ہوں۔ جب آپ اس طرح کے کسی تکلیف دہ تجربے سے گزریں تو ذہن سے خوشگوار چیزیں غائب ہو جاتی ہیں۔

’اس لیے میں اپنی بیٹی کے ساتھ کچھ وقت اس طرح سے گزاروں گی جس کی وہ حقدار ہے۔ اس کے بعد میں دوبارہ لڑنے کے لیے میدان میں اتروں گی کیونکہ یہی وہ کام ہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین