کوئی مسئلہ ہو کوئی پریشانی ہو، ’بھائی کرائے پر‘ حاضر ہے

کراچی سے تعلق رکھنے والے کشور باقر ’رینٹ آ برو‘ کے نام سے ایک منفرد سروس چلا رہے ہیں، جس کا مقصد اکیلے پن کے شکار افراد کی مدد کرنا ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے کشور باقر نے ایک منفرد سروس کا آغاز کیا ہے جس کا نام ہے ’رینٹ آ برو‘ یعنی ’بھائی کرائے پر حاصل کریں۔‘

کشور کی عمر 36 سال ہے، وہ ایک بزنس مین ہیں اور تاریخ کے شعبے میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کشور نے اپنی اس سروس کے حوالے سے بتایا:’ماسٹرز کے دوران مجھے یہ خیال آیا کہ میں ایک سروس شروع کروں رینٹ آ برو کے نام سے۔ میں ایک ریسرچ کر رہا تھا تو اس وقت مجھے پتہ چلا کہ ہمارے معاشرے میں اکیلا پن، نامنظوری اور ناقبولیت کا بہت مسئلہ ہے۔ اس لیے میں نے یہ قدم اٹھایا اور یہ بہت اچھا جارہا ہے۔‘

رینٹ آ برو نام رکھنے کی وجہ بتاتے ہوئے کشور کا کہنا تھا کہ ’رینٹ آ برو نام اصل میں ’رینٹ آ سسٹر‘ سے متاثر ہے۔ یہ ایک جاپانی کمپنی ہے، جن کا کام اکیلے پن کے شکار افراد، جنہوں نےخود کو معاشرے سے الگ کرلیا ہے، ان کی مدد کرنا اور انہیں معاشرے کی طرف واپس لانا ہے، لیکن کیوں کہ میں خود بھی ایک مرد ہوں اس لیے مجھے لگا کہ پاکستان میں رینٹ آ برو نام  ہی ٹھیک ہے نہ کہ رینٹ آ سسٹر۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کشور نے بتایا کہ ان کی ٹیم اس وقت چار سے پانچ افراد پر مشتمل ہے۔ ان کی ٹیم میں خواتین سسٹرز بھی شامل ہیں جس سے خواتین کلائنٹس باآسانی بات کرسکتی ہیں، مگر وہ اس کی زیادہ پروموشن نہیں کرتے کیونکہ اکثر لوگوں کو خواتین کے حوالے سے نامناسب پیغامات آجاتے ہیں جو ان کی سروس کو ایک جنسی سروس سمجھتے ہیں۔

رینٹ آ برو میں خواتین کے سیشنز آن لائن ہوتے ہیں جن میں پرائیویسی کا بے حد خیال رکھا جاتا ہے مگر مردوں کے سیشز زیادہ تر آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ آن لائن سیشن 45 منٹ سے ایک گھنٹے کا ہوتا ہے جب کہ روبرو ملنے والے سیشن کا دورانیہ دو گھنٹوں کا ہوتا ہے۔

رینٹ آ برو کے انسٹاگرام پیج پر میسج کرنے کے بعد ایک فارم بھرا جاتا ہے جس میں کلائنٹ کی ذاتی معلومات سے متعلق کئی سوالات پوچھے جاتے ہیں اور کلائنٹ کے جوابات کا تجزیہ کرنے کے بعد ان کے ساتھ میٹنگ کا ٹائم رکھا جاتا ہے۔

رینٹ آ برو کی کسی خاتون کلائنٹ نے پرائیویسی کے مسائل کی وجہ سے ہم سے بات نہیں کی مگر ان کے ایک مرد کلائنٹ حسن نے ہمیں بتایا کہ ’انہیں یہ سروس کافی اچھی لگی اور وہ اس سروس کو ان لوگوں کے لیے تجویز کرتے ہیں جو کچھ کہنا چاہتے ہیں مگر ان کے پاس بات کرنے والا کوئی نہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا