بینکسی کی ’محبت کوڑے دان میں‘ 43 کروڑ سے زائد میں فروخت

پراسرار آرٹسٹ بینکسی دنیا بھر میں دیواروں پر آرٹ بنانے کے لیے معروف ہیں، جن کی یہ پینٹنگ اندازاً لگائی گئی قیمت سے کہیں زیادہ میں فروخت ہوئی۔  

تین ستمبر کی تصویر میں لندن میں قائم نیلام گھر سوتھبیز میں آرٹسٹ بینکسی کا فن پارہ ’محبت کوڑے دان میں‘  (فوٹو: اے ایف پی/ آرٹسٹ بینکسی)

تین سال قبل ایک نیلامی میں خودکار طور پر ٹکرے ٹکرے ہوجانے والی آرٹسٹ بینکسی کی ایک پینٹنگ 1.85 کروڑ پاؤنڈ (43 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) میں فروخت ہوگئی ہے۔

نیلام گھر سوتھبیز نے آرٹسٹ کی پینٹنگ ’لو از اِن دا بِن‘ (محبت کوڑے دان میں ہے) جمعرات کو 1.6 کروڑ پاؤنڈ میں فروخت کی اور پریمیئم کو شامل کرکے خریدار نے کُل ملا کر 1.85 کروڑ پاؤنڈز ادا کیے۔

توقع کی جارہی تھی کہ پینٹنگ کی بولی 40 سے 60 لاکھ پاؤنڈ کے درمیان لگے گی، تاہم اس کی فروخت کی قیمت اس سے کہیں زیادہ نکلی۔  

نیلام گھر نے کہا کہ اس پینٹنگ کی قیمت بینسکی کے لیے ایک ریکارڈ تھی۔  پراسرار آرٹسٹ بینکسی دنیا بھر میں دیواروں پر آرٹ بنانے کے لیے معروف ہیں، جس میں اکثر سماجی اور سیاسی پیغام ہوتے ہیں۔

یہ پینٹنگ، جس کا پہلے نام ’گرل ود بلون‘ (غبارے کے ساتھ لڑکی) تھا، 2018 میں اسی نیلام گھر میں 11 لاکھ پاؤنڈ کی فروخت ہوئی تھی۔

اس میں ایک بچی ہاتھ بڑھا کر دل نما غبارہ پکڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔  یہ سکیچ پہلی بار 2002 میں مشرقی لندن کی ایک دیوار پر نظر آیا تھا۔

یہ بینکسی کا سب سے مشہور آرٹ ہے اور لاکھوں بار کاپی کیا گیا ہے۔

تاہم 2018 میں جیسے ہی یہ پیٹنگ فروخت ہوئی، کینوس فریم کے نیچے سے نکلنے لگا اور سائرن بجتے ہوئے تصویر ٹکرے ٹکرے (شریڈ) ہونا شروع ہوگئی۔ بعدازاں یہ شریڈندگ کینوس  کے بیچ میں ہی رک گئی، تاہم کہا جاتا ہے کہ بینکسی چاہتے تھے کہ وہ مکمل طور پر ٹکرے ٹکرے ہوجائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سوتھبیز نے کہا کہ انہیں پہلے سے نہیں معلوم تھا کہ فریم میں شریڈر نصب ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ ’ایک نیلامی کے دوران لائیو بننے والا یہ تاریخ کا پہلا آرٹ ورک ہے۔‘

فروخت کے فوراً بعد ہی بینسکی کے نمائندوں نے شریڈر کو ناکارہ بنا دیا، مگر کٹی ہوئی تصویر لٹکی ہوئی ہی چھوڑ دی اور پھر اس کا نام ’گرل ود بلون‘ سے بدل کر ’محبت کوڑے دن میں ہے‘ رکھ دیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق بینسکی کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے تباہ ہونے کا خودکار طریقہ کبھی نیلامی کی صورت میں استعمال کے لیے ہی بنایا تھا۔

سوتھبیز ایشیا کے موڈرن آرٹ کے چیئرمین ایلکس برینزک  نے کہا: ’نیلامی کی تاریخ میں اس صدی کے پرفارمنس آرٹ کے ذہین ترین لمحات میں سے ایک کو گزرے تقریباً تین سال ہوگئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا: ’اس لیجنڈری کام کے سفر کو دیکھنا، اسے واپس ہمارے درمیان پانا اور اسے آج اسی کمرے میں نیلامی کے لیے پیش کرنا جہاں اسے آرٹسٹ نے پہلی بار بنایا، سنسنی خیز تجربہ رہا ہے۔‘

ان کے بقول: ’بینکسی سرخیوں میں رہنے سے ناآشنا نہیں اور ان کی کہانی میں اس نئے باب نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ہے ۔۔۔ ہم بس اندازہ بھی لگا سکتے ہیں کہ آگے کیا ہوگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ خود کار طور پر تباہ ہوجانے نے آرٹ ورک کو ٹکرے ٹکرے کرکے تباہ نہیں کیا ’بلکہ نیا شاہکار بنا دیا۔‘

خودکار طور پر تباہ ہونے والا آرٹ فارم انگلینڈ میں 1950 کی دہائی کے وسط میں منظرعام پر آیا۔ اسے سب سے پہلے آرٹسٹ اور یہودی پناہ گزین گوسٹاو میٹزگر نے دوسری عالمی جنگ سے قبل اور اس میں ہونے والے واقعات کی ہولناکی کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا۔

مارچ میں  بینکسی نے اپنے ایک اور فن پارے کی نیلامی سے صحت سے وابستہ پراجیکٹس کے لیے 16 ملین پاؤنڈ سے زائد جمع کیے۔ ’گیم چینجر‘ نامی یہ آرٹ ورک ہاتھ سے پینٹ کی گئی ایک بچے کی تصویر ہے جو سپر ہیرو گڑیا سے کھیل رہا ہے۔  اس میں بیٹ مین اور سپائیڈرمین کے ایکشن فگر کوڑے دان میں ہیں جبکہ بچے کے ہاتھ میں ماسک لگائے ایک نرس سپرمین جیسی کیپ پہنے ہوئے ہے۔

بینکسی نے مئی 2020 میں کرونا وبا کی پہلی لہر کے دوران یہ پینٹنگ یونیورسٹی ہسپتال ساؤتھ ہیمپٹن کو عطیہ کی تھی۔ دس ماہ بعد اس کی نیلامی ہوئی اور اس سے جمع ہونے والے پیسے ہسپتال اور ملک میں دیگر طبی گروپوں کے حصے آئے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی آرٹ