ورلڈ کپ 2019:  میدان میں جھنڈوں کی اجازت ہے، ڈنڈوں کی نہیں

انتظار کی گھڑیاں ختم، کرکٹ شروع، میدانوں کے سکیورٹی انتظامات اس قدر ’ٹیٹ‘ ہیں کہ چڑیاں وغیرہ تو شاید پر مار جائیں، کتے، بلی مرغا مرغی نہ گھس پائیں گے۔

(انٹرنیشنل کرکٹ کونسل)

انتظار کی گھڑیاں ختم، پڑوس میں تاکا جھانکی وارم اپ مقابل بھی مکمل اور اب صحیح معنی میں وقتِ بلے بازی (و گیند بازی) کا آیا ہے۔

جمعرات کو میرے فیورٹس میں اوپر، میزبان انگلینڈ، اوول کے میدان میں ’ویٹنگ ان دا بُش‘ جنوبی افریقہ کو آزمائے گا اور پھر ہے باری 31 مئی کو (عظیم) جمعہ (مبارک) کو میرے فیوریٹس میں شامل (28 مئی کی ایٹمی دھماکہ ساز مملکت خداداد) پاکستان کی جو کالی آندھی ویسٹ انڈیز کو ٹرینٹ برج کے میدان میں شاید برسنے ہی نہ دے۔

انتہائی ایماندارانہ جانبداری کے ساتھ مملکت خداداد کی شان میں جو کہہ سکتا تھا کہہ دیا، باقی کام، ’اللہ ای قسم، سرفراز بھائی اینڈ کمپنی کو کرنا ہے!‘

سٹیڈیم میں آمد اور اپنی نشستیں سنبھالنے کا کام دو سے ڈھائی گھنٹے پہلے شروع ہو گا لیکن اُس سے بھی پہلے جاسوس اور ’بو سونگھ‘ کتّے اپنے ٹھیکیدار (عموماً پولیس) کے ساتھ اپنی ون تھرڈ شفٹ پوری کرکے فرسٹ بریک پر ہوں گے۔ سٹیڈیم کے اطراف مقامی بلدیہ اوسطاً چار گشتی ہسپتال، ایک ایئر ایمبیولنس، چار د مکلؤں (فائر بریگیڈز) اور سٹیڈیم کے اندر اور باہر اوسطاً چار سو پولیس والوں کا اہتمام کر چکی ہوگی۔ ہر شائق کرکٹ کو ایئرپورٹ جیسی جامہ و جسمانی تلاشی سے گزرنا ہو گا۔ داخلہ مختص گیٹوں اور راہداریوں سے ہو گا۔ کسی چور دروازے سے گھس آنے یا کسی اور کی سیٹ پر جا بیٹھنے کی گنجائش نہیں ہے۔

چونکہ یہ کرکٹ ہے، جو شرفا کا کھیل ہے، اور ’پچ انویژن حرکتوں‘ سے پہلے بڑی حد تک آلودہ بھی رہا ہے، اس لیے ہر ممکنہ ہلڑ بازی، انگریز کے نزدیک غیر مہذب حرکتوں، اشتعال انگیز سیاسی و مذہبی نعروں، دھرنا اینڈ کمپنی اور اس قبیل کے تمام سورما ’ریجیکٹیڈ‘  قرار پائے ہیں۔ یعنی گڑبڑ کی نہیں کہ کان پکڑ نکال باہر کیے جائیں گے اور جرمانہ الگ۔ سائے یا چھاؤں کے لیے عام ہیٹ اور بونیٹ وغیرہ کی تو اجازت ہے لیکن ’میکسیکو امیگو‘ سٹائل بالکونی ٹائپ ہیٹ کی نہیں۔ اسی طرح سے اپنی ٹیم کی حمایت کے لیے عام جھنڈے جھنڈیاں پھیرانے کی تو اجازت ہے لیکن ملٹری پریڈ یا بڑی سرکاری عمارات پر لہراے جانے والے جھنڈوں یا ان کے ڈنڈوں کی نہیں ہے۔ مقصد ان تدابیر کا یہ ہے کہ کوئی کسی دوسرے کے منظر کی ناکہ بندی  کرے اور نہ ہی کوئی کنٹینر لگا سکے۔

میدانوں کے سکیورٹی انتظامات اس قدر ’ٹیٹ‘ ہیں کہ چڑیاں وغیرہ تو انگلستانی انٹیلیجنس سے پوچھے بغیر شاید پر مار جائیں لیکن کتے، بلی مرغا مرغی نہ گھس پائیں گے اور نہ ہی اخبارات یا سوشل میڈیا کی زینت بننے کے لیے میدان میں اچانک  کوئی گورا گوری یا کوئی نیلا پیلا ننگ دھڑنگ دوڑ پائے گا۔ آتشیں اسلحہ (لائسنس والا) بھی بند ہے اس جیسی کھلونا بندوق و پستول پر بھی قدغن ہے۔ اور پٹاخے، ورلڈ کپ فٹبال جیسے کان پھاڑ بگل، بھونپو، سائرن وغیرہ بھی ممنوع ہیں۔

سورج مہاراج  کو میدان یا کھلاڑی پر پھینکنے والے آئینے، لیزر بیم، لافنگ گیس، چلی سپرے ممنوع اور ہر قسم کے (ماسوا معذوروں کے رہنما) کتے کتیوں کا داخلہ بھی ممنوع قرار دے کر لیلیٰ کے لیے اپنے بھولو (کتے) اور رومیو کے لیے اپنی جولیٹ (کتیا) کو لانے کا بھی کوئی چانس نہیں چھوڑا گیا۔ اور یوں ان کتوں کتیوں کو  گود میں لیے سہلاتے رہنے کا انگریزی بہانہ بھی جاتا رہا۔ اب یہ بات اور ہے کہ ضلعی عدالت میں اس غیر رومانی اور اور غیر انگلستانی حرکت کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کی جا چکی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لاؤڈ اسپیکر، پی اے سسٹم، پروفیشنل فوٹو گرافی، ہر قسم کی لائیو ریکارڈنگ یا لائیو براڈ کاسٹ اور پیس ٹو کیمرا وغیرہ کی منادی ہے کیونکہ یہی کام کرنے والے ملکی اور غیر ملکی خبر رساں اداروں نے گرمیوں میں تربوز یا تازہ گاجر کے دام براڈکاسٹ کرنے کے لیے تو کروڑوں کے کانٹریکٹ یا سب کانٹریکٹ نہیں کیے ہیں۔

ان ورلڈ کپ میچوں کے لیے بھانت بھانت کے 16 امپائر، ٹی وی امپائر، ’فورتھ امپائر‘ اور چھ ریفری بھی ہیں۔ ان کی (آئی سی سی والوں کی طرف سے) معقول تنخواہیں مقرر ہیں تاکہ ادھر اُدھر ’فکسنگ‘ کرنے یا ’ہاتھ مارنے‘ کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ ویسے بڑے (ایلیٹ) امپائروں کی بڑی (مثلاً پاکستانی آقائی علیم ڈار ایلیٹ) اور نو واردان کی ’کم بڑی‘ تنخواہیں ہیں جو پھر بھی 35 ہزار ڈالر سے لے کر 50 ہزار ڈالر سالانہ تک کی ہیں۔ جو دیگر ’کھاتوں‘ مثلاً میچ فی + او ڈی آئی فی + ڈسٹر بنس الاؤنس + ٹی اے ڈی اے  وغیرہ ملا کر خاصی ’دیر ہضم‘ تنخواہیں لگتی ہیں۔

انہی امپائروں میں سے ایک مالک حویلی (میرے دوست) فورتھ امپائروں میں سے ہیں۔ میں نے کہا کہ ’یار آپ کے تو بڑے مزے ہیں کہ ننخواہ بھی لو اور دل بہلانے کا ’سامان بھی مفت لے لو۔‘

بِھنّا کے بولے، ’کیا مطلب؟‘

میں نے تشریحاً کہا، ’دیکھیں نا آپ تو ’ریلو کٹّے‘ کی مانند ہوئے، کام وام آپ کا کوئی ہے نہیں، سیٹی بجانے یا انگلی دکھانے پر گیند بدل کر دینے والا ڈبہ اُٹھا لائے، کھیل جاری رکھنے کے لیے بتی مدّھم ہے یا نہیں، اسے ناپ دیا یا نپائی آلہ اصلی امپائر کو تھما دیا، ڈرنکس ٹائم پر اصلی امپائروں کو بانی دکھا دیا، لنچ اور ٹی بریک میں بظاہر پچ کی دیکھ بھال کے نام پر خواہ مخواہ کی فوں فاں کرنے کے لیے گولف کار میں لاٹ صاحب کی طرح آنیاں جانیاں۔‘

اس سے پہلے کہ میرا موقف واضح ہوتا، اپنے جیسی دو موٹی موٹی گالیاں دے کر یہ کہتے ہوئے چمپت ہوئے،’آ تو کبھی میرے محلّے فرخ آباد میں!‘         

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ