ملالہ کا طالبان کے نام خط: ’لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کو ختم کیا جائے‘

ملالہ یوسف زئی اور افغان خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم متعدد کارکنان نے ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ ’لڑکیوں کی تعلیم پر جاری پابندی کو ختم کیا جائے اور لڑکیوں کے سیکنڈری سکولز کو فورا کھولا جائے۔‘

اس سکرین گریب میں پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی 16 مئی 2020 کو گریجویٹ ٹوگیدر کے دوران گفتگو کر رہی ہیں (تصویر: اے ایف پی فائل)

امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی نے جنہیں پاکستانی طالبان نے گولی مار کر زخمی کر دیا تھا افغانستان کے نئے حکمرانوں پر زور دیا ہے کہ وہ لڑکیوں کو سکول واپس آنے دیں۔

افغان طالبان نے افغانستان میں حکومت قائم کرنے کے بعد سے لڑکیوں کو سیکنڈری سکول واپس جانے سے روک رکھا ہے جبکہ لڑکوں کو کلاس میں واپس آنے کی اجازت ہے۔

طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اسلامی قانون کی تشریح کے تحت سکیورٹی اور طلبہ و طالبات کے درمیان سخت علیحدگی کو یقینی بنانے کے بعد لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے واپس آنے دیں گے۔

ملالہ یوسف زئی اور افغان خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم متعدد کارکنان نے ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ ’طالبان حکام کے لیے۔۔۔۔۔ لڑکیوں کی تعلیم پر جاری پابندی کو ختم کیا جائے اور لڑکیوں کے سیکنڈری سکولز کو فوراً کھولا جائے۔‘

ملالہ یوسف زئی نے مسلم اقوام کے رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ طالبان پر واضح کریں کہ ’مذہب لڑکیوں کو سکول جانے سے روکنے کا جواز نہیں پیدا کرتا۔‘

مصنفین جن میں گذشتہ امریکی حمایت یافتہ حکومت کے تحت افغان انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ بھی شامل تھے کا کہنا ہے کہ ’افغانستان اب دنیا کا واحد ملک ہے جو لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کرتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مصنفین نے جی 20 کے عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان بچوں کے تعلیمی منصوبے کے لیے فوری فنڈنگ ​​فراہم کریں۔

خط کے ساتھ اسی معاملے پر دی جانے والی ایک درخواست پر پیر کو چھ لاکھ 40 ہزار سے زیادہ دستخط موصول ہوئے۔

تعلیمی کارکن ملالہ یوسف زئی کو 2012 میں سکول بس میں وادی سوات میں تحریک طالبان پاکستان کے شدت پسندوں نے گولی مار دی تھی۔

ملالہ اب 24 سال کی ہیں اور وہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے سرگرم ہیں۔ ان کے غیر منافع بخش ملالہ فنڈ نے افغانستان میں20 لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین