چار سالہ بچہ 70 فٹ بلند چٹان سے گرنے کے باوجود بچ گیا

کینٹکی میں چٹان سے گرنے والے بچے کو محض معمولی خراشیں آئیں۔ ریسکیو اہلکار اس واقعے کو معجزہ قرار دے رہے ہیں۔

ولف کاؤنٹی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم نے واقعے کے بعد بچے کے والدین سے ملنے والی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے (ولف کاؤنٹی سرچ اینڈ ریسکیو )

امریکی ریاست کینٹکی میں ایک چار سالہ بچہ اپنے والدین کے ساتھ پیدل سفر کرتے ہوئے پہاڑ سے 70 فٹ نیچے گرنے کے باوجود بچ گیا۔

ریسکیو اہلکار اس واقعے کو ’کسی معجزے سے کم نہیں‘ قرار دے رہے۔

حکام کے مطابق بچہ ریڈ ریور کی گھاٹی پر پرنسز آرک کے قریب اچانک چٹان سے پھسل گیا اور اس کے خوف زدہ والدین دیکھتے رہ گئے۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ لڑکا، جس کا نام نہیں بتایا گیا، حیرت انگیز طور پر نیچے گرتے ہوئے راستے میں کئی دفعہ پہاڑ سے ٹکرایا لیکن اسے کچھ معمولی زخم آئے۔

وولف کاؤنٹی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم نے بچے کی اپنی ماں اور باپ کے ساتھ دوبارہ ملنے کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہیں۔

ولف کاؤنٹی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم نے اپنے فیس بک پیج پرلکھا: ’حیرت انگیز طور پر بچہ معمولی زخمی ہوا۔ وہ بظاہر ٹھیک تھا۔ وہ بہت باتونی اور سپر ہیروز میں دلچسپی رکھتا ہے۔‘ ’وہاں پر صرف وہی سپر ہیرو تھا۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ بچے کا والد اسے اٹھانے تیزی سے چٹان سے نیچے اترا اور اس کی ملاقات ریسکیو ٹیم سے واپسی پر ہوئی جب وہ ریڈ ریور عبور کر کے ہائی وے 715 پر آ گئے تھے۔

موقعے پر پہنچنے والی ریسکیو ٹیم نے بچے کا طبی معائنہ کرنے کے بعد اسے والدین کے حوالے کر دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ریسکیو سروس کی جاری کردہ تصاویر میں بچے کو والدین سے گلے ملتے دیکھا جا سکتا ہے۔

وولف کاؤنٹی سرچ اینڈ ریسکیو کے پبلک انفارمیشن آفیسر ڈریو اسٹیونز نے کہا کہ ’ظاہر ہے اس طرح کے واقعات میں بدترین مناظر دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ میں نے اس علاقے میں متعدد کیسز پر کام کیا ہے اور عموماً ایسے کیس بہت خوف ناک ہوتے ہیں۔‘

’اس علاقے میں چٹانیں چھوٹی نہیں۔ عام طور پر آپ کو 60 سے 70 فٹ کے پہاڑ ملتے ہیں۔‘

کینٹکی کے جنوب مشرق میں ریڈ ریور گھاٹی کی ریت اور پتھر کی محرابیں اور اونچی چٹانیں ہر سال لاکھوں سیاحوں کو راغب کرتی ہیں۔

مئی میں اسی علاقے میں پیدل سفر کرنے والا کینٹکی یونیورسٹی کا ایک طالب علم 150 فٹ کی چٹان کے نیچے مردہ پایا گیا تھا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ