پاکستان کو تین ارب ڈالر دینے پر وزیراعظم عمران خان کا اظہار تشکر

سعودی ترقیاتی فنڈ نے پاکستانی حکومت کو اپنے غیر ملکی کرنسی کے ذخائر مستحکم کرنے اور کرونا وبا کے اثرات سے نمٹنے میں مدد کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان میں تین ارب ڈالر جمع کروانے کا اعلان کیا ہے۔

15 اکتوبر 2019 کو سعودی شاہی محل کی طرف سے فراہم کردہ ایک ہینڈ آؤٹ تصویرمیں  شاہ سلمان بن عبدالعزیز (دائیں) کو دارالحکومت ریاض میں پاکستان کے وزاعظم  عمران خان  (بائیں) سے ملاقات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے (فائل فوٹو: اےا یف پی)

وزیراعظم عمران خان نے پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کے لیے تین ارب ڈالرز کی امداد کے اعلان پر تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیتا ہے۔

وزیراعظم نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا: ’میں پاکستان کی امداد کے طور پر مرکزی بینک میں تین ارب ڈالر جمع کروانے اور 1.2 ارب ڈالر کے ساتھ ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی مالی معاونت کرنے پر شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب نے پاکستان کی امداد دنیا میں اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود کیا۔

سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ (ایس ایف ڈی) نے پاکستانی حکومت کو اپنے غیر ملکی کرنسی کے ذخائر مستحکم کرنے اور کرونا وبا کے اثرات سے نمٹنے میں مدد کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان میں تین ارب ڈالر جمع کروانے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق ایس ایف ڈی نے کہا تھا کہ پاکستان کے لیے سال بھر میں 1.2 ارب ڈالر کے تیل سے ماخوذ تجارت کے لیے مالی اعانت بھی فراہم کی جائے۔

فنڈ نے مزید کہا کہ یہ اقدام پاکستانی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سعودی کوششوں کا مظہر ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے منگل کی شب اس پیش رفت کی تصدیق کی تھی۔

فواد چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے مرکزی بینک میں تین ارب امریکی ڈالر جمع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سعودی عرب نے سال کے دوران ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں  1.2 ارب ڈالر کی مالی اعانت کا بھی اعلان کیا ہے۔‘

 

وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے بھی سعودی ترقیاتی فنڈ کی جانب سے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر سالانہ کی تیل کی موخر ادائیگی کی سہولت اور سٹیٹ بینک میں تین ارب ڈالر جمع کرنے کا خیر مقدم کیا۔

اپنے ٹوئٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ عالمی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں ہمارے تجارتی اور فاریکس اکاؤنٹس پر دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے گا۔‘

 

سعودی عرب کی جانب سے یہ اعلان وزیراعظم عمران خان کے مملکت کے حالیہ دورے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا تھا۔ 

پیر کو وزیراعظم نے ریاض میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی، جس میں عمران خان نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے گہرے برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے اس اہمیت کو اجاگر کیا کہ پاکستان کے مملکت کے ساتھ سٹریٹیجک تعلقات ہیں۔

انہوں نے ہر اہم موڑ پر پاکستان کے ساتھ ثابت قدمی پر سعودی عرب کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے پہلی بار پاکستان کو مالی امداد اور مؤخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی کی سہولت فراہم نہیں کی جا رہی بلکہ ماضی میں بھی ایسا کئی بار کیا گیا ہے۔ عمران خان کی حکومت کے قیام کے فوری بعد 2018 میں سعودی عرب نے پاکستان کو زرمبادلہ کے ذخائر کے مستحکم رکھنے کے لیے تین ارب ڈالر فراہم کیے تھے۔

 

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان