پاکستان بمقابلہ انگلینڈ:جارحانہ کھیل ہی کامیابی کی کنجی ہوگی

یہ ناقابل یقین حقیقت ہے کہ پاکستان موقع ملنے پرکسی بھی ٹیم کو زیر کرسکتا ہے چاہے سامنے کتنے ہی تسلسل کے ساتھ جیتنے اورتیاری کر کے آئی ہوئی ٹیم ہو۔

(اے ایف پی)

ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ کے بعد یہ سوچ درست تھی کہ 2017 کی چیمپئنز ٹرافی کے فاتح صرف دو سال بعد ہی عالمی کپ میں اس طرح عبرتناک شکست نہیں کھا سکتے۔ اس میچ کے بعد غم و غصہ بجا تھا لیکن آج یہ حل تلاش کرنا ہے کہ نوجوانوں پر مشتمل اس ٹیم کا حوصلہ کیسے بڑھایا جائے تاکہ وہ اپنے مخالفین کے خلاف میچ جیت سکیں اور عالمی کپ میں آگے بڑھیں۔ 

پاکستان کی ٹیم شکست کے بعد اگلے میچوں میں جیتنے کی روایت رکھتی ہے اسی لیے پاکستان کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ یہ ’ان پریڈکٹ ایبل‘ ٹیم ہے جو کسی بھی وقت کچھ بھی کر گزرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ 

مجھے ایسی شہرت اچھی نہیں لگتی اور میں اس کو کوئی قابل فخر بات بھی نہیں سمجھتی۔ بے ربط کارکردگی اور غیرمنظم ہونا قابل تعریف نہیں ہو سکتا لیکن ہمارے سامنے سچ یہی ہے۔ یہ ناقابل یقین حقیقت ہے کہ پاکستان موقع ملنے پرکسی بھی ٹیم کو زیر کرسکتا ہے چاہے سامنے کتنے ہی تسلسل کے ساتھ جیتنے اورتیاری کر کے آئی ہوئی ٹیم ہو۔

ہر کسی کو علم ہے کہ پاکستانی ٹیم کا مورال لو ہے اور اس کو بلند کرنے کے لیے کسی چوٹی کی ٹیم کو ہرانا ضروری ہے۔ 

پاکستان کا اگلا میچ نوٹنگھم میں انگلینڈ کے خلاف ہے جو اس وقت دنیا کی نمبر ون ٹیم ہے۔ پاکستان نے عالمی کپ سے پہلے اپنی آخری دو طرفہ سیریز انگلینڈ کے خلاف کھیلی تھی جس میں انگلینڈ نے پاکستان کو مکمل طور پر ہرایا تھا۔ 

انگلینڈ کی بیٹنگ لائن بلاشبہ بہت اچھی ہے۔ پاکستان کو سب سے پہلے تو انگلش بلے بازوں کو گیم پر چھا جانے سے روکنا ہو گا۔ اس کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ پاکستان بولرز اچھی بولنگ کر کے انہیں آؤٹ کرنے کا سوچیں نا کہ سکور روکنے کی دفاعی حکمت عملی اپنائیں۔

اس مقصد کے لیے انہیں کبھی باؤنسرز اور کبھی یارکرز کا استعمال کرنا ہو گا۔ اس کے علاوہ آج کے جدید طریقہ وائیڈ آف کریز یارکرز کو آزمانا چاہئے۔ اگر ذہانت کے بغیر صرف ’سلاٹ‘ بولنگ کی گئی تو انگلش بلے باز بہت دھلائی کریں گے۔

ایک اور طریقہ کراس سیم کے ذریعے ’کٹر‘ مارنا ہے جس کا بلے باز کو پہلے سے اندازہ نہیں ہونے دینا چاہئے۔ اس لیے تیز بولرز کو میرا یہ مشورہ ہے کہ وہ جارحانہ کھیلیں اور وکٹ لینے کا سوچیں۔ ’سلاٹ‘ یا مشینی انداز میں ایک جیسی لینتھ بولنگ کریں گے تو بلے باز آپ کو اٹھا کر سٹیڈیم سے باہر پھینکے گا، اس لیے ایسی گیندیں نہ کرائیں اورسکور روکنے کا سوچنا بند کر دیں۔ 

انگلینڈ کے پاس سب سے خطرناک بلے باز جاس بٹلر ہے جو چند منٹ میں ہی مخالف ٹیم سے میچ  چھین کر اپنی ٹیم کے کھاتے میں ڈال سکتے ہیں۔ مورگن، روٹ، بائسٹرو اور رائے بھی کسی طرح کم خطرناک نہیں۔ انہیں آؤٹ کر کے ہی شاید 400 کے مجموعی سکور کا پہاڑ کھڑا کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ اگرانگلینڈ کی ٹیم اس پچ پر جہاں انہوں نے 481 رنز کا عالمی ریکارڈ بنایا تھا وہاں 400 سکور کر لیتی ہے تو پھر میچ جیتنا ناممکن ہو جائے گا۔

اس لیے انگلینڈ ٹیم کو روکنے کا واحد طریقہ انہیں آؤٹ کرنا ہے۔ یہ بلے باز 50 اوورز کھیل گئے تووہ گیم آپ سے لے جائیں گے بےشک وہ پہلے بیٹ کریں یا چیز کریں۔ ایک اوراہم کام جو پاکستان کر سکتا ہے وہ یہ ہے کہ سپنرز کا استعمال جارحانہ طریقے سے کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے انہیں سپنرز کو بتانا ہو گا کہ فلائیٹڈ بال دی جائے تاکہ بلے باز اپنی کریز سے باہر نکل کر کھیلنے پر مجبور ہوں اور خطرہ مول لیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہیں صرف ایک جیسی گیندیں نہیں دینا چاہیے بلکہ مختلف ورائٹی کی بولنگ کروا کر بلے بازوں کو مخمصے میں ڈالے رکھنا ہے۔ مثال کے طور پر اگر عماد یا شاداب اپنے 10 اوورز میں 70 رنز دیتے ہیں اور اس میں دو یا تین وکٹیں گرا دیتے ہیں تو یہ اس قسم کی پچ پر بہت اچھی کارکردگی ہو گی۔ سرفراز کو سپنرز اور وہاب ریاض کو جارحانہ کھیل کے لیے استعمال کرنا چاہئے۔ شاداب پاکستان کے سب سے اہم سپنر ہیں۔ سرفراز کو چاہیے کہ انہیں قیمتی ہتھیار کے طور پر ذہانت کے ساتھ استعمال کریں۔ شاداب لیگ سپن کے ساتھ گوگلی اور فلپر مارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ بہت اہم ہو گا کہ شاداب گیند کو ہوا میں گھمائیں اور فلائٹیڈ گیند زمین پر پڑتے ہی گھومے۔ انہیں ہر بال ایک جیسی ہرگز کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے تاکہ بلے باز سوچتا ہی رہے کہ اگلی گیند کونسی أنے والی ہے۔

اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ بولرز کامیاب ہوں تو فلیڈرز کو بلے بازوں کی طرف سے دیئے جانے والے چانس نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اگر آپ نے بٹلر، روٹ یا رائے جیسے بلے بازوں کو چانس دے دیا تو پھر اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ 

جدید دور کی کرکٹ میں کپتان کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ وہ ہوم ورک کرے، اسے مخالف بلے باز کی کمزوری اور طاقت کا بخوبی علم ہو اور اس کے مطابق فلیڈرز کھڑے کرے۔ مثال کے طور پر رائے بہت اچھے بلے باز ہیں مگر شروع میں وہ باڈی سے دور بلا رکھ کر کھیلتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ اس کے لیے سل پاور شارٹ کور کا فیلڈر لیا جائے۔ اسی طرح جب آپ باؤنسر کرا رہے ہوں توشارٹ لیگ اور ایک فیلڈر ’45‘ پر لینے میں کوئی حرج نہیں۔

اسی طرح جب سپنر بولنگ کرا رہا ہو تو ابتدائی طور پر فلیڈرز کو قریب لایا جائے اور بلے باز پردباؤ بڑھایا جائے، اسے آسان سنگلز نہ دی جائیں، مڈ آن اور مڈ آف کے فیلڈرز دائرے کے اندر رکھے جائیں۔ دباؤ کم نہ کیا جائے اور بلے باز کو غلطی پر اکسایا جائے۔ پاکستان کو صرف حوصلہ مندی اور نئے نئے حربے آزما کر اور رسک لے کر کھیلنے کا ہی صلہ جیت کی صورت میں مل سکتا ہے۔

یہ وہ طریقے ہیں جو پاکستان کو آزمانا ہوں گے اور کسے خبر کہ پاکستان ابتدا میں ہی چند بلے بازوں کے وکٹ لے جائے جس سے انگلینڈ کو دباؤ محسوس ہونا شروع ہو جائے۔ یہ سب کچھ کرنے کے لیے کپتان کو ’پروایکٹو‘ ہونا پڑے گا۔

اب پاکستان کی بیٹنگ کی طرف آتے ہیں۔ میرے خیال میں آصف کو ٹیم میں شامل کیا جانا چاہئے۔ میں نے کہا کہ سرفراز کو پروایکٹو ہونا چاہئے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں آصف کو شامل کرنے کے لیے فیصلہ کرنا ہو گا کہ کس کو ڈراپ کیا جائے۔ وہ حفیظ ہو سکتے ہیں اور حارث کو بھی باہر بٹھایا جا سکتا ہے۔ آصف کی ٹیم میں شمولیت درست سمت میں ایک بڑا قدم ہو سکتی ہے۔ وہ پاور ہٹر ہیں اور ہمیں ایک ایسے کھلاڑی کی شدید ضرورت ہے۔ وہ دلیری کے ساتھ کھیل سکتے ہیں۔ ایک کپتان کو دلیری دکھانا ہوتی ہے اور چند فیصلے لینا ہی ہوتے ہیں۔ اگر یہ فیصلےغلط ثابت ہوں تو نتائج سے خوفزدہ ہونے کی بجائے ان کی ذمہ داری بھی قبول کرنا چاہئے۔

بلے بازوں کو تیار رہنا ہو گا کہ ان کے رب کیج کو نشانہ بنایا جائے گا۔ انہیں باؤنسرز کو چھوڑنا ہو گا اور اگر کھیلنا ہے تو انہیں مخمصے سے نکل کر کھیلنا ہو گا۔ مجھے گھسے پٹے لفظ ’مثبت کھیل‘ سے چڑ ہے مگر پاکستانی بلے بازوں کوفرنٹ فٹ اور بیک فٹ کی شارٹس مثبت سوچ کے ساتھ کھیلنا ہوں گے۔ یاد رکھیں کہ ایک اوور میں ایک باؤنسر کی اجازت ہے اور اگر آپ اس کو چھوڑ دیتے ہیں تو کوئی قیامت نہیں آ جائے گی۔

کپتان کو حسن کو ریسٹ کرانے کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے کیونکہ وہ ابھی پوری فارم میں نظر نہیں آ رہے۔ جیسا میدان ہو ویسے گھوڑے ہونا چاہئیں اور یہ بات انگلینڈ میں بہت ہی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ موسم اور مخالف ٹیم کو دیکھ کراپنے گھوڑے میدان میں اتارے جائیں۔

پی سی بی میں بیٹھے ’مفکرین‘ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایک رات پہلے ٹوئٹر پر گیارہ یا بارہ کھلاڑیوں کا اعلان کریں۔ یہ کپتان کا استحقاق ہے کہ وہ ٹاس سے پہلے اپنے گیارہ کھلاڑیوں کا انتخاب کرے۔ یہ بات فہم سے بالاتر ہے کہ پی سی بی کیوں اپنے کپتان کو کمزور ثابت کرکے اس کے خلاف سازش کر رہا ہے۔ أخری بات جو سب سے زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ گھبرانا نہیں، ریلیکس رہیں اور اس کے لیے تھوڑی موج مستی کریں۔

اگر میرے مشورے پر عمل ہو سکے اور باڈی لینگوئج مضبوط ہو تو پاکستان مشکلات پر قابو پا کر انگلینڈ کو ہرا سکتا ہے۔ اگر یہ نہیں ہو سکتا اور وہی بےڈھنگی چال رکھنی ہے تو پاکستان کو واپسی کے لیے اپنے بیگ تیار رکھنے چاہئیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر