یارکشائر کے کھلاڑی نے زبردستی شراب پلائی: سابق برطانوی کرکٹر

عظیم رفیق نے ایک واقعے کا بتایا کہ جب وہ 15 سال کے تھے تو ایک یارکشائر کے کھلاڑی نے یہ جانتے ہوئے کہ وہ ایک مسلمان ہیں انہیں زبردستی شراب پلائی۔

یارکشائر کرکٹ کلب کے سابق کھلاڑی عظیم رفیق منگل کو برطانوی قانون سازوں کے سامنے پیش ہوئے جہاں انہوں نے نسل پرستی کے سکینڈل سے متعلق اپنے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے بارے میں بتایا۔

عظیم رفیق نے اپنی بات کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں مسلسل ’***P‘ کا جاتا تھا اور ساتھ میں انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے کئی خاص واقعات کی تفصیلات بھی بتائیں جہاں انہیں کلب میں شامل افراد کی جانب سے ’بے عزتی‘ کا سامنا کرنا پڑا۔

یارکشائر کو ہر طرف سے نسل پرستی کے سکینڈل کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے۔

پاکستان میں پیدا ہونے والے 30 سالہ رفیق عظیم نے منگل کو ڈیجیٹل، کلچر، میڈیا اینڈ سپورٹ کمیٹی میں ارکان پارلیمان کو ثبوت دیے۔

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق عظیم رفیق نے بتایا کہ ان کے  ساتھ ’غیرانسانی‘ برتاؤ کیا جاتا تھا اور پھر اس دوران ان کے ہاں مردہ بچے کی پیدائش ہوئی۔

انہوں نے ایک واقعے کا بتایا کہ جب وہ 15 سال کے تھے تو ایک یارکشائر کے کھلاڑی نے یہ جانتے ہوئے کہ وہ ایک مسلمان ہیں انہیں زبردستی شراب پلائی۔

برطانوی قانون سازوں کے سامنے عظیم رفیق کا کہنا تھا کہ انہوں نے ’نسل پرستی کی وجہ سے اپنا کریئر کھو دیا۔‘

اس سے قبل ایک آزادانہ طور پر شائع ہونے والی رپورٹ میں پتہ چلا تھا کہ پاکستانی نژاد کھلاڑی کو ’نسلی ہراسانی اور پریشانی‘ کا سامنا کرنا پڑا، جب کہ رفیق نے خود بتایا کہ ان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، اس سے ان کے ذہن میں خودکشی کے خیالات پیدا ہوئے۔

اگرچہ ان واقعات کے تناظر میں کاؤنٹی نے معذرت کرلی، لیکن ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ عملے کے کسی بھی رکن کے خلاف نظم و ضبط کی کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ  تھا جس پر کئی حلقوں کی جانب سے تنقید بھی اٹھی۔

عظیم نے پیر کو ٹوئٹر پر پوسٹ کی گئی ایک مختصر ویڈیو میں یہ پیغام دیا: ’سچ کا وقت آگیا ہے!!‘

یارکشائر، جو انگلینڈ کے سب سے کامیاب اور تاریخی کلبوں میں سے ایک ہے، کہ لیے یہ ناگوار صورتحال کم عرصے کے دوران ہی خاصی پریشان کن ثابت ہوئی۔

اس واقعے کے بعد سے ہی کلب کو منافع بخش میچوں کی میزبانی سے بھی روک دیا گیا ہے، جب کہ سپانسرز نے بھی ہاتھ کھینچ لیا ہے۔

یارکشائر کے چیئرمین راجر ہٹن نے اس ماہ کے شروع میں استعفیٰ دے دیا تھا اور چیف ایگزیکٹو مارک آرتھر نے بھی بحران کا شکار کلب کے فرائض سے سبکدوش ہونا مناسب سمجھا۔

ان حالات کے بعد دیگر کھلاڑیوں کی طرف سے نسل پرستی کے الزامات  سامنے آنے لگے ہیں، جس کے بعد سے یارک شائر اور دیگر کلبوں نے مزید تحقیقات شروع کر دیں۔

سابق چیئرمین ہٹن اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے چیف ایگزیکٹو ٹام ہیریسن اس سیشن کے دوران ثبوت دیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پیر کو انگلینڈ کے موجودہ سپنرعادل رشید نے سابق پاکستانی ٹیسٹ کھلاڑی رانا نوید الحسن کی طرز پر یہ الزام لگایا کہ انگلینڈ کے سابق ٹیسٹ کپتان مائیکل وان نے 2009 میں یارکشائر کے ایشیائی نسل کے کھلاڑیوں کے سامنے کہا تھا: ’تم لوگ (یہاں پر) بہت زیادہ ہو، ہمیں اس بارے میں کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

مگر وان نے ایک بار پھر ’واضح طور پر‘ اس واقعے سے انکار کیا ہے۔

انہوں نے کہا: ’11 سال بعد اس واقعے کے الزام کا سامنا کرنا جو مبینہ طور پر ہوا، ایک بدترین چیز ہے جس سے میں گزر رہا ہوں۔‘

یارکشائر کے کھلاڑی راشد، جنہوں نے پیر کو دی کرکٹر ویب سائٹ کے ذریعے ایک بیان جاری کیا، کہا کہ نسل پرستی کے ’کینسر‘ کو ختم کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا: ’میں اس بات سے حوصلہ افزائی محسوس کرتا ہوں کہ ایک پارلیمانی کمیٹی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے، چاہے وہ لوگوں کو جوابدہ بنا رہی ہو یا ادارہ جاتی سطح پر تبدیلیاں لا رہی ہو۔ ‘

نیویارک شائر کے چیئرمین کملیش پٹیل نے راشد کی اس معاملے میں ’ہمت‘ کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ وہ کمیٹی کی سماعت کو بڑی دلچسپی سے سنیں گے۔

انہوں نے مزید کہا: ’ہم نے کیس میں کمیٹی کی قانونی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے مکمل رپورٹ کی کاپی فراہم کر دی ہے۔‘

دوسری جانب، کمیٹی کے چیئرمین جولین نائٹ نے اس ماہ کے شروع میں کہا کہ یارکشائر سکینڈل ’جدید کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ ناگواراور پریشان کن واقعات‘ میں سے ایک ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ