بالی وڈ میں ’نسلی امتیاز‘ کا مسئلہ ’اقربا پروری‘ سے بڑا ہے: نوازالدین

نواز الدین صدیقی نے کہا کہ ’میں نے کئی سالوں تک نسل پرستی کے خلاف جنگ کی اور مجھے امید ہے کہ سانولی رنگت کی حامل اداکارائیں بھی ہیروئن بنیں گی۔ یہ بہت اہم ہے‘

بالی وڈ ایکٹر نواز الدین صدیقی اپنی فلم منٹو کی نامزدگی کے لیے کانز فلم فیسٹیول میں آمد پر 14 مئی 2018 کو تصویریں بنوا رہےہیں (تصویر: اے ایف پی فائل)

بالی وڈ کے نامور اداکار نواز الدین صدیقی کا کہنا ہے کہ بالی ووڈ میں ’نسل پرستی‘ کا مسئلہ ’اقربا پروری‘ کے مسئلے سے زیادہ بڑا ہے۔

2020 ایمی کے لیے نامزد اپنی فلم ’سیریس مین‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے 47 سالہ بھارتی اداکار نے بالی وڈ ہنگامہ کو بتایا کہ انہوں نے بالی ووڈ یں ’کئی سالوں سے‘ نسل پرستی کا مقابلہ کیا ہے۔

رنگینیت کے موضوع پر نواز الدین صدیقی نے اپنی شریک اداکارہ اندرا تیواری کا ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ جب ڈائریکٹر سدھیر مشرا نے انہیں ’سیریس مین‘ میں مرکزی کردار میں کاسٹ کیا تو بالی ووڈ میں بہت سے فلمساز ان کی رنگت سے متعلق باتیں کرنے لگے۔

بالی وڈ اداکار نے مزید بتایا کہ کس طرح انہوں نے ذاتی طور پر بالی ووڈ میں رنگ و نسل پرستی سے متعلق امتیازی سلوک کا مقابلہ کیا۔

نواز الدین صدیقی نے کہا کہ ’میں نے کئی سالوں تک نسل پرستی کے خلاف جنگ کی اور مجھے امید ہے کہ سانولی رنگت کی حامل اداکارائیں بھی ہیروئن بنیں گی۔ یہ بہت اہم ہے‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ بالی وڈ میں ایک تعصب موجود ہے جسے بہتر فلمیں بنانے کے لیے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنے انٹرویو کے دوران انہوں نے مزید بتایا: ’مجھے کئی سالوں سے صرف اس وجہ سے مسترد کیا گیا کہ میں چھوٹا ہوں اور میں خاص طرح کا دکھتا ہوں، حالانکہ میں اب شکایت نہیں کرسکتا۔ لیکن بہت سے دوسرے عظیم اداکار ہیں جو اس قسم کے تعصب کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘

نواز الدین صدیقی کی تازہ ترین فلموں میں ’نو لینڈز مین‘ اور ’رات اکیلی‘ شامل ہیں۔

اداکار انوراگ کشیپ کی 2012 کی فلم ’گینگز آف واسے پور‘ میں اپنے کردار سے مشہور ہوئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم