اسلام آباد میٹرو سٹیشن: والد کا بیٹی کے قتل کا اعتراف

رمنا پولیس کے خیال میں صالح فاطمہ کو کسی دوسری جگہ قتل کر کے اس کی لاش سیکٹر جی الیون کے میٹرو سٹیشن میں ایک واش روم میں چھوڑ دی گئی تھی، جسے اگلی صبح دیکھا گیا۔

اسلام آباد کا رمنا پولیس سٹیشن جہاں پر جی 11 کے میٹرو بس سٹیشن سے قتل ہونے والی بچی کا مقدمہ درج ہوا ہے(تصویر: اے ایف پی)

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے دعوی کیا ہے کہ سیکٹر جی الیون کے میٹرو سٹیشن سے مردہ حالت میں ملنے والی بچی صالحہ فاطمہ کو ان کے اپنے والد نے قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔

اسلام آباد کے رمنا ماڈل پولیس سٹیشن میں 12 سالہ صالحہ فاطمہ کے قتل کے تفتیشی افسر انسپکٹر شاہد شاہ شنواری نے بتایا کہ بچی کے والد نے تفتیش کے دوران بیٹی کے قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ 8 اکتوبر کو سیکٹر جی الیون کے میٹرو سٹیشن سے 12 سالہ بچی کی لاش برآمد ہوئی تھی جس کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔

بچی کے تایا محمد ریاض نے فیس بک پر بھتیجی صالح فاطمہ کی تصویر دیکھ کر اسے شناخت کیا اور لاش حاصل کر کے تدفین کی تھی۔

محمد ریاض نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ بچی اپنے والد محمد واجد کے ساتھ اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں رہتی تھی، اور بچی کے لاپتہ یا قتل ہونے کا انہیں علم نہیں تھا۔

انسپکٹر شاہد شاہ شنواری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ملزم محمد واجد نے تفتیش کے دوران اپنی بیٹی کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

تاہم انہوں نے واجد کو کب گرفتار کیا گیا،  مبینہ قتل کی وجہ اور طریقہ واردات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

انہوں نے کہا کہ محمد واجد سے تفتیش ابھی جاری ہے اور قتل کی وجہ کے سلسلے میں مزید شواہد حاصل کیے جا رہے ہیں۔

تاہم واضح رہے کہ ابتدا میں پولیس بچی کے والد محمد واجس کی گرفتاری سے انکار کرتی رہی ہے، جبکہ اب بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے تفتیش کے دوران اقبال جرم کر لیا ہے۔

رمنا پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ محمد واجد کو بچی کی لاش ملنے کے اگلے ہی روز گرفتار کر لیا گیا تھا اور اس سے تفتیش کی جاری تھی۔

دوسری طرف محمد ریاض نے بھی دو روز قبل اپنے چھوٹے بھائی کے ٹھکانے سے لا علمی کا اظہار یہ کہہ کر کیا تھا کہ تقریبا آٹھ سال قبل اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد محمد واجد نے خاندان سے تعلق ختم کر دیا تھا۔

تاہم جمعے کو انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں محمد ریاض نے کہا کہ ان کے بھائی نے بچی کی لاش ملنے کے اگلے ہی روز پولیس سٹیشن فون کر کے بتایا تھا کہ مردہ بچی ان کی بیٹی صالح فاطمہ ہے۔

’پولیس نے میرے بھائی کو رمنا پولیس سٹیشن بلایا اور اسے گرفتار کر لیا۔‘

محمد ریاض نے کہا کہ وہ بچی کے جنازے کے اگلے روز اپنے بھائی سے تھانے میں ملے اور انہوں نے رو رو کر بتایا کہ اس نے بچی کو قتل نہیں کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا: ’میرے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ بچی کے ساتھ گولڑہ شریف کی زیارت گئے تھے، اور رات کو باپ بیٹی مزار میں ہی سو گئے، لیکن جب وہ صبح اٹھا تو بچی وہاں نہیں تھی۔‘

محمد ریاض نے کہا کہ اس نے اپنے چھوٹے بھائی سے بچی کی گمشدگی کی اطلاع نہ کرنے کی وجہ دریافت کی تو اس نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔

’وہ مزار میں اعلان کروا سکتا تھا، پولیس کو اطلاع کرتا یا ہمیں بلاتا، بچی غائب ہو گئی تھی، کوئی چھوٹی بات تھوڑی تھی۔‘

یاد رہے کہ دو روز قبل محمد ریاض اور خاندان کے دوسرے لوگ محمد واجد کی گرفتاری کو چھپا رہے تھے۔

رمنا پولیس کے خیال میں صالح فاطمہ کو کسی دوسری جگہ قتل کر کے اس کی لاش سیکٹر جی الیون کے میٹرو سٹیشن میں ایک واش روم میں چھوڑ دی گئی تھی، جسے اگلی صبح دیکھا گیا۔

ابتدا میں پولیس نے میٹرو سٹیشن کے دو گارڈز کو بھی تفتیش کے لیے گرفتار کیا تھا۔

رمنا پولیس کے مطابق بچی کی لاش سے حاصل کیے گئے نمونوں کے ٹیسٹس کے نتائج ابھی موصول نہیں ہوئے ہیں اس لیے اس کے ساتھ جنسی زیادتی سے متعلق کوئی بات حتمی طور پر نہیں کی جاسکتی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان