اسلام آباد میں بچی کا پراسرار قتل، والد ایک ہفتے سے لاپتہ

اسلام آباد کے میٹرو سٹیشن سے مردہ حالت میں ملنے والی بچی کے قتل کا معاملہ پراسرار ہو گیا ہے کیونکہ گذشتہ ایک ہفتے سے اس بچی کے والد لاپتہ ہیں اور تدفین میں بھی شریک نہ ہوئے۔

صالحہ کی لاش آٹھ نومبر کی صبح اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں واقع میٹرو سٹیشن کے واش روم سے ملی تھی جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر وائرل ہوگئی تھیں(اے ایف پی فائل)

اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں میٹرو سٹیشن سے مردہ حالت میں ملنے والی 12 سالہ بچی کے تایا محمد ریاض نے بتایا ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی بھتیجی کو پہچانا تھا۔

مقتولہ بچی کی شناخت صالحہ فاطمہ ولد محمد واجد کے طور پر ہوگئی ہے۔

صالحہ کے تایا محمد ریاض نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر تصویر دیکھ کر انہوں نے اپنی بھتیجی کو پہچانا اور پیر کی صبح اسلام آباد کے رمنا پولیس سٹیشن پہنچے۔

محمد ریاض نے بتایا: ’اتوار اور پیر کی درمیانی رات میں نے فیس بک پر بچی کی تصویر دیکھی اور اگلی صبح ہم نے اسلام آباد سے اس کی لاش حاصل کر کے ترلائی میں تدفین کر دی۔‘

یاد رہے کہ صالحہ کی لاش آٹھ نومبر کی صبح اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں واقع میٹرو سٹیشن کے واش روم سے ملی تھی جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر وائرل ہوگئی تھیں۔

اسلام آباد کے رمنا پولیس سٹیشن میں صالحہ فاطمہ کے قتل کی تفتیش کرنے والے پولیس افسر انسپکٹر شاہد شاہ شنواری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بچی کے جسم سے نمونے حاصل کرکے ڈی این اے اور دوسرے ٹیسٹس کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’ٹیسٹس کے نتائج آنے پر ہی طریقہ قتل اور جنسی زیادتی سے متعلق کوئی حتمی رائے قائم کی جا سکے گی۔‘

شاہد شاہ شنواری نے کہا کہ ’اس سلسلے میں ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں کی گئی ہے لیکن مختلف لوگوں سے  پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس معاملے میں مقتولہ بچی صالحہ فاطمہ کے والد محمد واجد کا کردار پراسرار ہو گیا ہے جو ابھی تک لاپتہ ہیں۔

بچی کے تایا کے مطابق: ’ہمیں ابھی تک نہیں معلوم کہ میرا بھائی محمد واجد کہاں ہے وہ اپنی بیٹی کے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوا۔‘

انہوں نے بتایا کہ تقریباً آٹھ سال قبل محمد واجد نے اپنی بیوی اور بچی صالحہ فاطمہ کی ماں کو طلاق دے دی تھی اور تب سے باپ بیٹی اکیلے رہ رہے تھے۔

’محمد واجد ذرا مختلف طبیعت کا انسان ہے اور طلاق کے بعد اس نے ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھا تھا۔‘

اس خاندان کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی وادی جہلم سے ہے لیکن گذشتہ کئی عشروں سے اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں مقیم ہیں۔

محمد ریاض نے اپنی بھائی محمد واجد کی گرفتاری کے امکان سے بھی لاعلمی کا اظہار کیا ہے تاہم انسپکٹر شاہد شاہ شنواری نے بتایا کہ محمد واجد کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں محمد ریاض نے لاعلمی کا اظہار کیا کہ 12 سالہ صالحہ فاطمہ ترلائی سے سیکٹر جی الیون کیسے پہنچی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سب کچھ بچی کے والد محمد واجد ہی بتا سکتے ہیں لیکن اس کا بھی ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان