لاہور: مدرسے میں مبینہ تشدد سے طالب علم ہلاک، ملزمان فرار

جان سے جانے والے مدرسے کے 14 سالہ طالب علم کے والد نے ایف آئی آر میں بتایا کہ وہ محنت مزدوری کرتے ہیں جبکہ ان کا بیٹا حافظ حمزہ جامعہ المدینہ میں درس نظامی سال اول کا طالب علم تھا۔

سول سوسائٹی کے کارکنان آٹھ  جون 2020 کو کراچی میں چائلڈ لیبر اور بچوں پر تشدد کے خلاف احتجاج کے دوران پلے کارڈز اٹھائے ہوئے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

لاہور کے علاقے بادامی باغ کے ایک مدرسے جامعہ المدینہ میں مبینہ طور پر استاد اور ان کے ساتھیوں کے تشدد کے نتیجے میں اتوار (14 نومبر) کو جان سے جانے والے 14 سالہ محمد حمزہ واجد کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا جبکہ ملزمان کی تلاش میں چھاپے مارے جارہے ہیں۔

حمزہ کے والد واجد حسین کی مدعیت میں مدرسے کے مولوی محمد ماجد اور ان کے دو دیگر نامعلوم ساتھیوں کے خلاف مقدمہ تھانہ بادامی باغ میں دفعہ 302/34 کے تحت درج کیا گیا۔

ایف آئی آر میں حمزہ کے والد نے موقف اختیار کیا کہ وہ محنت مزدوری کرتے ہیں جبکہ ان کا بیٹا حافظ حمزہ جامعہ المدینہ ملک پارک میں درس نظامی سال اول کا طالب علم تھا۔

ان کے بیان کے مطابق: ’11 نومبر کی دوپہر ایک بجے وہ اپنے بیٹے کو مدرسے میں کھانا دینے پہنچے تو دیکھا کہ مولوی محمد ماجد دیگر دو اساتذہ کے ساتھ مل کر حمزہ پر تشدد کر رہے تھے۔‘

یہ دیکھتے ہی واجد نے حمزہ کو ان اسے چھڑوایا تو حمزہ بے ہوش تھا۔ واجد نے انہیں فوری قریبی فیملی ہسپتال مزنگ منتقل کیا، جہاں سے اسے لاہور کے میو ہسپتال بھیج دیا گیا، جہاں وہ 14 نومبر کو جان کی بازی ہار گیا۔  

انڈپینڈنٹ اردو نے حمزہ کے والد سے رابطے کی کوشش کی مگر ان کی والدہ نے بتایا کہ وہ اور ان کے شوہر اس وقت دکھ سے نڈھال ہیں اور کسی سے بات نہیں کرنا چاہتے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے جامعہ کی انتظامیہ سے بھی رابطہ کیا لیکن انہوں نے بھی کسی قسم کی بات کرنے سے انکار کر دیا۔  

دوسری جانب حمزہ پر مبینہ تشدد کرنے والے مولوی محمد ماجد اور ان کے ساتھ دیگر دو اساتذہ تاحال فرار ہیں۔

سی سی پی اور لاہورفیاض احمد دیو کے مطابق پولیس اپنی تفتیش کر رہی ہے، ملزمان کو پکڑنے کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں اور جلد ہی ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق تفتیش و کارروائی کی جائے گی۔  

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ مدرسے میں یا کسی سکول میں بچوں پر اس حد تک تشدد کیا جائے کہ وہ شدید زخمی ہو جائیں یا جان سے چلے جائیں۔ آئے روز سماجی رابطوں کی سائٹس پر ایسی ویڈیوز گردش کر رہی ہوتی ہیں۔ 

کیا کوئی ایسا قانون ہے جو بچوں پر تعلیمی اداروں میں تشدد سے روک سکے؟ 

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے لاہور ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ احمرمجید نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ بچوں پر جسمانی تشدد کے حوالے سے بدقسمتی سے پنجاب میں کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا: ’اصل میں پاکستان پینل کوڈ کا سیکشن 89 اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ بچے کی بہتری کے لیے یا اسے کچھ سکھانے کے لیے مار پیٹ کی جاسکتی ہے۔ ہاں اس مار پیٹ میں اسے جسمانی یا جانی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔‘

’دوسری جانب پنجاب میں فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ 2014، جو سکولوں کے حوالے سے ہے تو اس میں بھی سکولوں میں جسمانی تشدد کے حوالے سے کچھ واضح نہیں کیا گیا تھا، اس لیے اس پر عمل بھی نہیں ہوتا اور مدارس تو ویسے بھی فری اینڈ کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ کے تحت نہیں آتے۔‘

2017 میں لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب حکومت کے خلاف ایک پٹیشن دائر کی گئی تھی، جس کے فیصلے میں عدالت عالیہ نے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو ہدایات دیں تھیں کہ سکولوں میں بچوں پر تشدد کو ایکٹ میں واضح کریں، جس کے بعد 2018 میں سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے سکولوں کی حد تک بچوں پر تشدد کو وضع کیا اور جسمانی تشدد پر سکولوں کی حد تک پابندی عائد کی۔

ایڈووکیٹ احمر کا کہنا ہے کہ مدارس ویسے بھی ڈائریکٹر جنرل برائے مذہبی تعلیم اوروزارت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کے ماتحت آتے ہیں۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لاہور کے مدرسے میں مبینہ طور پر تشدد کے باعث جان سے جانے والے طالب علم کے حوالے سے ایڈووکیٹ احمرکا کہنا تھا کہ اس کیس کی ایف آئی آر دفعہ 302 (قتل) جبکہ دفعہ 34 کے تحت درج ہوئی ہے۔ دفعہ 34 کے تحت جو بھی اس استاد کے ساتھ اس وقت موجود تھے چاہے انہوں نے بچے کو ایک ہی تھپڑ لگایا ہو، ان پر بھی وہی جرم عائد ہو گا جو قتل کرنے والے پر ہو گا۔

ستمبر 2021 میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے بچوں کو جسمانی سزا دینے کی ممانعت کے بل کو متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔ ویسے تو یہ بل خاص طور پر دارالحکومت کے لیے تھا، لیکن اس بل کو پیش کرنے والی مسلم لیگ ن کی رکن قومی اسمبلی مہنازعزیز نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’یہ بل سینیٹ میں گیا اور وہاں سے لیپس ہو کر واپس آگیا۔ اب وہ جوائٹ سیشن میں پیش ہوگا میرے خیال میں یہ بل افسر شاہی کا شکار ہو گیا ہے۔‘

اس بل کے مطابق بچوں کو سزا دینا جرم ہوگا اور سزا دینے والے پر جرمانہ عائد کرنے کے علاوہ اس کو ملازمت سے برخاست کیا جائے گا، نیز بچوں پر جسمانی سزا کی مکمل ممانعت ہوگی۔ 

بل میں مزید کہا گیا: کوئی شخص،  تعلیمی ادار ؤہ (نجی یا سرکاری)، دینی مدرسہ، بحالی مراکز، بچوں کی حفاظت کرنے والے سرکاری یا غیر سرکاری اداروں میں بچوں کے بال کھینچنا، کان پکڑنا، کرنٹ لگانا، ہاتھ، بیلٹ یا چمچہ مارنا، جوتے سے مارنا وغیرہ جیسی سزا نہیں دی جاسکے گی۔ 

اسی طرح سزا یافتہ ملزم کو وفاقی محتسب میں اپیل کا حق ہوگا۔

دیگر صوبوں میں جسمانی تشدد کے حوالے سے بنے قوانین کے حوالے سے مہناز نے بتایا: ’صوبہ سندھ میں تو یہ بل پاس ہو چکا ہے۔ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان میں یہ ایکٹ موجود ہیں کہ بچوں پر تشدد نہیں کرنا چاہیے لیکن اس طرح کا قانون نہیں ہے۔ میں نے سوچا تھا کہ یہ بل پاس ہو جائے گا تو ہم اسے ایک مہم بنا لیں اور پورے پاکستان میں پھیلائیں گے لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس بل کو فوری پاس کیا جائے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان