بلوچستان: عید آ گئی مگر امداد نہ آئی

سیلاب کو گزرے ڈیڑھ ماہ ہو گیا، ماہ رمضان کے بعد عید بھی آگئی لیکن متاثرین کے رہنے کا کوئی بندوبست نہ ہوسکا ہے۔ 

موسمیاتی تبدیلی کے باعث بلوچستان میں غیر متوقع بارشوں نے جہاں خشک سالی کا خاتمہ کیا وہیں سیلاب آنے سے صوبے کے مختلف علاقوں میں لوگ کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ 

بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں ڈیڑھ ماہ قبل آنے والے  سیلاب نے زمینداروں کو ایک ٹیلے پر رہنے پر مجبور کردیا ہے جو ابھی تک امداد کے منتظر ہیں۔ اپریل کے مہینے میں سبی ہرنائی اور ملحقہ علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ہونے کے باعث سیلاب کا پانی منجھوشوری میں آگیا اور فصلیں کاٹنے کی تیاری کرنے والے زمیندار جان بچانے پر مبجور ہوئے۔ سیلاب کو گزرے ڈیڑھ ماہ ہوگیا ماہ رمضان کے بعد عید پر بھی متاثرین کے رہنے کا کوئی بندوبست نہ ہوسکا ہے۔ 

منجھوشوری گوٹھہ واجہ کے زمیندار عبدالغفورکے سات بچے  ہیں، وہ بارشوں سے قبل سہانے خواب سجائے فصل کو کاٹنے کے انتظامات کر رہے تھے کہ سیلاب آگیا جو ان کا سب کچھ بہا کر لے گیا اور ان کو بے گھر کر دیا۔ اب وہ پٹ فیڈر کینال کے ٹیلے پر خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ ایک خیمے میں رہنے پر مجبور ہیں۔   

عبدالغفور نےانڈپینڈنٹ اردو کو بتایاکہ وہ اور گاؤں کے دوسرے لوگ رات کو سو رہے تھے کہ اچانک تیز بارش ہوئی اور سیلاب کا ایک بڑا ریلا ان کے علاقے میں داخل ہوا۔ سیلاب سے بچنے کے لیے وہ خود کو اور کچھ مال مویشیوں کو محفوظ مقام تک پہنچانے میں کامیاب تو رہے مگر سیلاب نے ان کی کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ 

عبدالغفور کے بقول ان کے گاؤں میں رہنے والے زیادہ تر چھوٹے زمیندار ہیں اور سو سے زائد زمینداروں کو سیلاب کی وجہ سے 15 سے 20 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا ہے گندم، چنے کی فصل ڈوب گئی۔

رواں سال کے ابتدائی تین ماہ کے دوران شدید بارشیں ہوئیں جس سے صوبے کے مختلف اضلاع جن میں نوشکی، پشین، قلعہ عبداللہ میں سیلاب آیا جبکہ اپریل کے مہینے میں بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں تیز بارشوں کے بعد سیلاب آیا جس کے باعث ضلع کے مختلف علاقے منجھوشوری، قبولہ اور اس کے آس پاس کے دیہات پانی میں ڈوب گئے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق گوٹھ واجہ میں سو سے زائد مکانوں کو نقصان پہنچا اور سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی گندم، چنے کی تیار فصل تباہ ہوگئی۔

محکمہ موسمیات کے اعداد وشمار کے مطابق بلوچستان میں ماہ اپریل کے دوران صوبے کے مختلف شہروں میں 579.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ 

جہاں ایک جانب سیلاب نے علاقہ مکینوں کو کھڑی دھوپ میں سہارا لینے پر مجبور کر دیا وہاں ثناء اللہ اور اس جیسے دوسرے طالبعلم سیلاب سے سکولوں کے تباہ ہونے پر پریشان  ہیں۔ 

ثناء اللہ نےانڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سیلاب کا پانی ان کے سکول میں بھی داخل ہوگیا جس کے باعث اب وہ سکول نہیں جاسکتے اور وہ اب تعلیم سے محروم ہیں۔ سیلاب آنے کے بعد ان کے گھر کا سارا سامان بھی بہہ گیا۔ 

حکومت بلوچستان نے متاثرہ علاقوں کے لیے خصوصی پیکج کی فراہمی کا اعلان کر رکھا ہے اس سلسلے میں ضلع نصیر آباد سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی اور مشیر تعلیم محمد خان لہڑی کے مطابق سیلاب آنے کے بعد ہم نے لوگوں کی جانیں بچائیں اور اس کے بعد متاثرین میں راشن اور خوراک کا سامان پہنچایا اب متاثرہ افراد کا ڈیٹا اکٹھا کیا جارہا ہے تاکہ حقداروں کو ان کا حق مل سکے۔ 

گو کہ سیلاب کا پانی کم ہو گیا لیکن متاثرین کے گھر بھی سیلاب کی نظر ہوگئے، جن کا مطالبہ ہے کہ نقصانات کے ازالے کے ساتھ ان کے گھروں کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ویڈیو