بیٹرز کو کپتانی کے لیے فاسٹ بولرز پر ترجیح کیوں دی جاتی ہے؟

ٹیسٹ کرکٹ میں آسٹریلیا کی 144 سالہ تاریخ میں پیٹ کمنز پہلے فاسٹ بولر (آل راونڈرز کے علاوہ) ہیں جنہیں مستقل بنیاد پر کپتانی سونپی گئی ہے۔

پیٹ کمنز آئی سی سی کی فاسٹ بولرز کی رینکنگ میں پہلے نمبر پر موجود ہیں  (اے ایف پی)

ٹم پین کے آسٹریلوی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی چھوڑنے کے بعد فاسٹ بولر پیٹ کمنز کو ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کر دیا گیا ہے۔

آئی سی سی کی ٹیسٹ بولرز کی رینکنگ میں پہلے نمبر پر موجود پیٹ کمنز آسٹریلوی ٹیسٹ ٹیم کے 47ویں کپتان ہوں گے۔

یاد رہے کہ پیٹ کمنز سے قبل آسٹریلوی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کرنے والے ٹم پین نے ایک ساتھی خاتون کے ساتھ ’انتہائی نجی نوعیت‘ کے پیغامات کے معاملے پر اچانک کپتانی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

ٹیسٹ کرکٹ میں آسٹریلیا کی 144 سالہ تاریخ میں پیٹ کمنز پہلے فاسٹ بولر (آل راونڈرز کے علاوہ) ہیں جنہیں مستقل بنیاد پر کپتانی سونپی گئی ہے۔

تو اس کی کیا وجہ ہے کہ عام طور پر دنیائے کرکٹ میں فاسٹ بولرز کم ہی کپتانی کرتے دکھائی دیتے ہیں؟

ایسا نہیں ہے کہ فاسٹ بولرز کپتان کے روپ میں بالکل ہی نظر نہیں آتے، لیکن ایسی مثالیں کم ہیں۔

جیسا کہ ماضی میں ہم عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس، شان پولاک، کپل دیوو، جیسن ہولڈر، ڈیرن سیمی اور کورٹنی والش جیسے بہترین بولرز کو بطور کپتان دیکھ چکے ہیں مگر ایسی مثالیں پھر بھی کم ہی ہیں۔

دوسری جانب دیکھا جائے تو زیادہ تر بلے باز ہی آپ کو کپتان کی ذمہ داریاں نبھاتے ملیں گے۔

لاسٹ ورڈ آن سپورٹس نامی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں اس سوال کا جواب کچھ اس انداز میں دیا گیا ہے کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ کرکٹ بلے بازوں کا کھیل ہے۔

اگر آپ دیکھیں تو زیادہ تر شائقین بولرز کی نسبت بلے بازوں کے سٹائل اور انداز کی جانب راغب دکھائی دیتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس مضمون میں ایک دوسری وجہ یہ بھی بتائی گئی ہے کہ بولرز کے مقابلے میں بلے بازوں کا کریئر تھوڑا زیادہ طویل ہوتا ہے، کیونکہ انہیں انجریز کا خطرہ کم ہوتا ہے اور وہ بولرز کے مقابلے میں لمبے عرصے تک بلا تعطل کرکٹ کھیل سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ بطور کپتان بلے باز کا میدان پر صرف ایک ہی کام ہوتا ہے اور وہ فیلڈ سیٹ کرنا اور فیصلے لینا جبکہ دوسری جانب بولرز کو ان ہی کاموں کے علاوہ اپنی بولنگ اور کارکردگی پر بھی توجہ دینا ہوتی ہے۔

بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی میچ میں جہاں بولرز کی ضرورت پڑ رہی ہو تو بطور کپتان ایک بولر ٹیم کے کام آنے کے مقصد سے خود پر زیادہ دباؤ ڈال دیتا ہے۔

مثال کے طور پر اینڈریو فلنٹوف کو ہی لے لیجیے جنہوں نے بطور کپتان دن میں 30 اوورز تک کرانے شروع کر دیے حالانکہ کہ جب وہ بطور آل راؤنڈر کھیلتے تھے تو 10 اوورز تک ہی کراتے تھے۔

اسی طرح سے فاسٹ بورلز کو بلے بازوں کے مقابلے میں زیادہ انجریز کا خطرہ رہتا ہے۔ ایسی صورت میں بار بار میچ سے باہر ہونے سے دباؤ ٹیم کے نائب کپتان پر پڑتا ہے جس سے چیزیں مزید خراب ہو سکتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ دنیائے کرکٹ میں ٹیمیں زیادہ تر کسی بلے باز کو ہی کپتانی کی ذمہ داریاں سونپتی ہیں تاکہ ٹیم اور کپتان کا تسلسل طویل عرصے تک برقرار رہ سکے۔

جب بولرز کی انجریز اور مختصر کریئر کی بات ہو رہی ہے تو یہاں ایک اور وجہ بھی شامل کر ہی لیتے ہیں اور وہ فاسٹ بولرز کا جارحانہ انداز ہے۔ عام طور پر فاسٹ بولرز کو جارحانہ انداز میں ہی دیکھا گیا ہے۔ غصے میں بھاگتے ہوئے آنا اور تیز سے تیز تر گیند کرانا ان کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔

جیسا کہ پاکستان کے سابق اور دنیا کے تیز ترین بولر شعیب اختر بھی کئی مرتبہ اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ فاسٹ بولر کو ہمیشہ جارحانہ ہی ہونا چاہیے۔

تاہم کپتان کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اسے ہمیشہ تحمل کے ساتھ صورتحال دیکھتے ہوئے فیصلے لینے چاہییں اور ایسا فیلڈ پر موجود ایک بلے باز ہی کر سکتا ہے کیونکہ اس وقت وہ صرف میچ کی صورتحال پر ہی نظر رکھے ہوتا ہے۔

یہ تو تھیں چند وہ وجوہات جن کو دیکھتے ہوئے بولرز اور خاص طور پر فاسٹ بولرز کو کم ہی کپتانی کرنے کا موقع ملتا ہے، تاہم یہ موقع اب پیٹ کمنز کو تو مل گیا ہے بس دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس ذمہ داری کو کب تک نبھاتے ہیں۔

یہ پیٹ کمنز کے لیے ایک کڑا امتحان بھی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ان کا کرکٹ کا تجربہ تو زیادہ ہو سکتا ہے مگر کپتانی کا تجربہ انتہائی کم ہے۔ وہ مارش کپ کے دوران صرف چار 50 اوورز پر مبنی میچز کی کپتانی کرچکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ