’چائلڈ پورنو گرافی ویڈیوز کے  ملزم ضمانت کے مستحق نہیں‘

سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے تین صفحات پر مشتمل فیصلے میں تحریر کیا کہ ’ٹرائل کورٹ اس کیس کا جلد از جلد فیصلہ کرے۔ چائلڈ پورنوگرافی بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی بڑی وجہ ہے۔‘

سپریم کورٹ نے ملزم کے وکیل کی یہ دلیل بھی مسترد کر دی کہ ’کوئی متاثرہ فریق سامنے نہیں آیا‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

سپریم کورٹ کی جانب سے آج اپ لوڈ  کیے گئے فیصلے کے مطابق چائلڈ پورنو گرافی پھیلانے میں ملوث ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے والے ملزم ضمانت کے مستحق نہیں ہیں۔‘

یکم نومبر کو اس کیس کی سماعت ہوئی اور آج آنے والے تحریری فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ نے عمرخان نامی ملزم کی ضمانت مسترد کر دی ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ ’انہوں نے ایک بچے کی نازیبا وڈیو اپنے موبائل سے فیس بک پر اپلوڈ کی جس کے بعد فیس بک انتظامیہ نے براہ راست ایف آئی اے سے رابطہ کر کے معاملے کی نشاندہی کی تو ایف آئی اے سائبر کرائم نے مقامی قوانین کے مطابق تحقیقات کیں اور ملزم کے خلاف ایبٹ آباد میں مقدمے کا اندراج کر کے انہیں حراست میں لے لیا۔‘

ملزم پر جو دفعات لگائی گئی ہیں ان کے مطابق اس جرم کی سزا سات سال قید ہے۔ ملزم کے وکیل نے یہ موقف اپنایا تھا کہ ’اس بات کا ثبوت موجود نہیں کہ ملزم نے متنازع جنسی مواد فیس بک پہ شئیر کیا۔‘

استغاثے کے مطابق ایف آئی اے نے ملزم کا موبائل جب فرانزک کے لیے بھیجا تو بچے کی متنازع جنسی وڈیو اورتصاویر کا ریکارڈ موبائل میں موجود تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے تین صفحات پر مشتمل فیصلے میں تحریر کیا کہ ’ٹرائل کورٹ اس کیس کا جلد از جلد فیصلہ کرے۔ چائلڈ پورنوگرافی بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی بڑی وجہ ہے۔ چائلڈ پورنوگرافی معاشرے کا بڑا ناسور اور تباہی کا باعث بنتی جا رہی ہے۔ بچوں کے مستقبل اور اخلاقیات کے لیے چائلڈ پورنوگرافی سنگین خطرہ ہے۔‘

عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں مزید قرار دیا کہ ’چائلڈ پورنوگرافی کے بڑھتے خطرے کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا۔ چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز پھیلانا معاشرے کو کھوکھلا کرنے کا جرم ہے۔ ملزم عمر خان پر کیس بچوں کی گندی ویڈیو پھیلانے کا ہے بنانے کا نہیں نیز ملزم کے وکیل کی یہ دلیل قابل قبول نہیں کہ کوئی متاثرہ فریق سامنے نہیں آیا۔‘

پاکستان میں چائلڈ پورنوگرافی کی صورت حال

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطفال میں ایف آئی اے کی ایک رپورٹ کے مطابق ’گزشتہ برس چائلد پورنو گرافی کے تیرہ کیسز رجسٹر ہوئے تھے۔‘ رپورٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ ’پاکستان میں چائلڈ پورنو گرافی میں ملوث گروہ موجود ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر چائلڈ پورنو گرافی کے جو گروہ کام کررہے ہیں، ان کے رکن پاکستان میں موجود ہیں۔ جن کو مختلف کارروائیوں میں اور نشاندہی پر حراست میں لیا جا رہا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان