آسٹریلوی حکومت کے خلاف ’ہراسانی اور تشدد‘ کا دعویٰ

آسٹریلیا کی آبائی نسل سے تعلق رکھنے والی خاتون نے کینبرا کی جیل میں ریمانڈ کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر آسٹریلین کیپیٹل ٹیریٹری (اے سی ٹی) حکومت کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔

انڈیجینس آسٹریلوی خاتون اپنے قومی دن کے موقعے پر چھ جولائی 2015 کو تمباکو نوشی کی ایک رسم ادا کر رہی ہیں۔ مقامی آسٹریلوی قدیم النسل باشندوں کو 1920 کے بعد سے حقوق کی پامالی کا سامنا ہے (فائل تصویر: اے ایف پی)

آسٹریلیا کی آبائی نسل سے تعلق رکھنے والی خاتون نے کینبرا کی جیل میں ریمانڈ کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر آسٹریلین کیپیٹل ٹیریٹری (اے سی ٹی) حکومت کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے والی 37 سالہ مقامی ’نگوناوال‘ خاتون، جن کو مبینہ طور پر جنسی حملے کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا، نے عدالتی دستاویز میں دعویٰ کیا ہے کہ رواں سال جنوری میں الیگزینڈر میکونوچی اصلاحی مرکز میں پولیس افسران نے انہیں متعدد بار ظالمانہ سلوک کا نشانہ بنایا تھا۔

خاتون نے دعویٰ کیا کہ گارڈز نے ان کی زبردستی کپڑے اتار کر تلاشی لی جب کہ جیل کے مرد قیدی بھی یہ منظر دیکھ رہے تھے۔

خاتون کے بیان کے مطابق ان کے جسم میں پیس میکر نصب کیا گیا جس سے ان کے پھیپھڑے متاثر ہوئے اور وہ بارڈر لائن پرسنلٹی ڈس آرڈر کا بھی شکار ہو گئیں۔

خاتون نے یہ بھی کہا کہ انہیں اپنی دادی کی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی جس سے وہ افسردگی کا شکار بھی ہو گئیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں جیل کے کرائسز سپورٹ یونٹ میں منتقل کر دیا گیا کیونکہ ’وہ میری حفاظت اور دماغی صحت کے حوالے سے فکر مند تھے۔‘

یہیں پر یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ پولیس افسران کی ایک ٹیم کے پاس چاقو موجود تھا جب انہوں نے زبردستی ان کی برہنہ تلاشی لینے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ واقعے کی سی سی ٹی وی کیمرہ فوٹیج جیل کے آپریشن روم میں لائیو دیکھی گئی۔

اے بی سی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق عدالتی دستاویزات، جن میں آڈیو ریکارڈنگ شامل تھی، میں برہنہ تلاشی والے واقعات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ ایک افسر نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے خاتون کو اپنے جسم کے نجی حصوں کو ہاتھوں سے چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا تھا۔

خاتون نے یہ بھی کہا کہ ایک اہلکار کے پاس چاقو موجود تھا جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ ان کے کپڑے پھاڑنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ آڈیو ریکارڈنگ میں ایک افسر کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’چاقو کس کے پاس ہے؟‘

اے بی سی کی رپورٹ کے مطابق خاتون کی جانب سے برہنہ تلاشی کی تعمیل کے بعد حکام نے چاقو کا استعمال نہیں کیا۔

ونونگا نیمیتجاہ ایبوریجنل ہیلتھ سنٹر کی چیف ایگزیکٹو جولی ٹونگس، جو اس جیل میں روزانہ کلینک چلاتی ہیں، نے ’دا گارڈین‘ کو بتایا کہ حکام کو جوابدہ ٹہرایا جانا چاہیے۔

جولی ٹونگس نے کہا: ’انسانی حقوق کے قانون کے حوالے سے بہت سی ناکامیاں اور اصلاحی ایکٹ کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔ اور پھر بھی کچھ بھی نہیں بدلا۔ کچھ نہیں ہوا۔ سفارشات میں ایک دوسری باڈی سکیننگ مشین کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ان کے پاس پہلے سے ہی باڈی سکیننگ مشینیں کیوں نہیں تھیں؟ انہیں انسٹال کیا جانا چاہئے۔‘

ان کے بقول: ’ہم ونونگا کی طرف سے ہر ممکن تعاون فراہم کر رہے ہیں اور ان کو اپنے خاندان سے بھی ملوایا گیا ہے لیکن لوگ اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے کہ یہاں اے ٹی سی اور جیل میں کیا ہو رہا ہے اور اسی لیے ہمیں ایک رائل کمیشن کی ضرورت ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب اے سی ٹی کے انسپکٹر آف کوریکشنل سروسز نے واقعے کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد ایک رپورٹ جاری کی اور کہا کہ اگرچہ یہ تلاشی قانونی تھی لیکن افسران نے خاتون کے انسانی حقوق کا ’درست طریقے سے خیال‘ نہیں کیا۔

انسپکٹر آف کوریکشنل سروسز نیل میک ایلسٹر نے رپورٹ جاری کرنے کے وقت کہا کہ ’طاقت کے استعمال کے ساتھ آگے بڑھنے کے فیصلے نے ان کی خراب صحت کو زیادہ خطرے میں ڈال دیا اور یہ فیصلہ انسانی حقوق کے قانون سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔‘

انہوں نے اس واقعے کو ’ذلت آمیز اور تکلیف دہ‘ بھی کہا اور جیل میں دو باڈی سکینر نصب کرنے کی سفارش بھی کی تاکہ مستقبل میں برہنہ تلاشی سے بچا جا سکے۔

خاتون نے اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے فوراً بعد اس کے بارے میں ایک خط کے ذریعے دردناک بیان لکھا تھا۔

دا گارڈین کی جانب سے حاصل کیے گئے اس خط میں انہوں نے لکھا: ’یہاں میں آپ کو یہ یاد دلاتی ہوں کہ میں ریپ کا شکار ہوئی تھی۔ اس لیے آپ صرف اس وحشت، چیخ و پکار، ذلت آمیز احساس، خوف اور شرمندگی کا تصور کر سکتے ہیں جس کا میں نے سامنا کیا تھا۔ اس کے علاوہ اپنی دادی کی آخری رسومات میں شرکت نہ کرنے سے غم اور افسردگی کا شکار بھی ہوں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا