نہیں جانا بھائی آسٹریلیا، آج ہے بدلے کا دن!

ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں آج پاکستان اور آسٹریلیا کا ٹاکرا ہونے جارہا ہے اور گرین شرٹس سب حریف ٹیموں سے بدلے کے موڈ میں ہیں۔

خبردار آپ کو آسٹریلیا سے واپس بھیج دیا جائے گا۔ کبھی نہیں، آپ آسٹریلیا کو اپنا گھر نہیں بنا سکیں گے ۔۔۔ جا کون رہا ہے بھائی؟ آج کے میچ میں بدلہ لیں گے ہم!

ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں آج شام پاکستان اور آسٹریلیا کا ٹاکرا ہونے جا رہا ہے اور گرین شرٹس سب حریف ٹیموں سے بدلے کے موڈ میں ہیں۔

چلیں بھارت، نیوزی لینڈ اور نیمیبیا کا تو سمجھ آگیا، لیکن آسٹریلیا سے کس بات کا بدلہ؟ آئیں آپ کو بتاتے ہیں۔

2014 سے آسٹریلیا نے پاکستانی اخبارات، رکشے اور ایف ایم ریڈیو چینلز اس اشتہار سے بھرنا شروع کر دیے۔ انگریزی اردو کی بات چھوڑیں پشتو، دری اور ہزارگی میں بھی یہ کرخت قسم کا اشتہار بار بار چلایا گیا۔ 

’No way you ll not make Australia Home‘
’The rule apply to everyone: families, children, unaccompanies children, educated and skilled‘

انسانی سمگلروں کے خلاف چلائی گئی اس آسٹریلوی مہم کا نام ’آپریشن سوورن بارڈرز‘ ہے، جو ان کی بحری فوج نے حکومت سے چلوائی۔ 

ورلڈ ڈیٹا ڈاٹ انفو ویب سائٹ کے مطابق بھی پاکستانی آٹھ دیگر ممالک کے بعد نویں نمبر پر آسٹریلیا کو سیاسی پناہ کے لیے لفٹ کرواتے ہیں۔

پناہ گزین دنیا بھر میں ہوتے ہیں، انہیں روکا بھی جاتا ہے، پناہ کے لیے قانونی طریقے سے جانے کے لیے بھی حکومتیں تاکید کرتی ہیں لیکن ایسی زبان؟

مر جائیں گے بھائی ادھری، نہیں آتے آسٹریلیا۔ آپ زبان ٹھیک کریں پہلے۔ 

گلوبل ٹائمز چائنا کے مطابق 2012 کی بنی اس آف شور پالیسی کے بعد آسٹریلیا کی سرحدوں تک پہنچنے والا کوئی بھی پناہ گزین دور دراز اور سرحدوں سے باہر ہی ریفیوجی کیمپس میں بھیج دیا جاتا ہے، جہاں انہیں تشدد اور ہراسانی سمیت مخلتف مظالم کا سامنا رپورٹ کیا گیا۔ ۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمشنر تک نے اس قانون کو انسانی حقوق کے بالکل متضاد قرار دیا ہے۔ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے بھی اسے ’ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک‘ قرار دیا۔

نہیں جا رہے بھائی ہم نہیں جا رہے۔ تم لوگ خالی اپنے ملک میں اونٹوں کو بے دردی سے مارنا ہی بند کر دو!

2019 میں آسٹریلیا نے قانون پاس کیا کہ جنگلوں میں موجود دس ہزار اونٹوں کو ہیلی کاپٹر سے گولی مار کے ہلاک کیا جائے۔ یہ اونٹ 1840 میں آسٹریلیا نے منگوانا شروع کیے تھے تاکہ وسیع و عریض صحراؤں میں ریل کا ٹریک بن سکے۔

جہاں لوگ نہیں چل سکتے وہاں بے چارے اونٹ اور ان کے ہندوستانی شتربان چلے جو اونٹوں کے ساتھ ہی منگوائے گئے تھے۔ منصوبے مکمل ہونے کے دوران کچھ اونٹ بھاگ گئے اور دور پار کے نخلستانوں اور جنگلوں میں چھپ گئے جبکہ باقی کام پورا ہونے کے بعد مالکوں نے چھوڑ دیے۔ اس وقت آسٹریلیا میں 12 لاکھ سے زیادہ اونٹ ہیں۔ 

قحط اور خشک سالی کا خوف ہے تو مارو مت بھائی، ذبح کرکے افریقہ یا غریب ملکوں میں بھیج دو، جہاں لوگ بھوک سے مرتے ہیں۔ لیکن نہیں، بڑے ملکوں کی باتیں بڑی! ویسے دنیا بھر کے حقوق کا شور اور خود ہیلی کاپٹر سے اونٹ ماریں گے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ