جب بھاگیہ شری کے ایک فیصلے نے انہیں گمنامی میں پہنچا دیا

فلم ’میں نے پیار کیا‘ کی کامیابی کے بعد سلمان خان کی طرح بھاگیہ شری پر بھی فلموں کی برسات ہونے لگی، لیکن یہاں نجانے کیسے انہوں نے یہ اعلان کیا کہ وہ صرف ان فلموں میں کام کریں گی، جن میں ان کے شوہر ہیمالے ڈسانی ہیرو ہوں گے۔

فلم  ’ میں نے پیار کیا‘  میں بھاگیہ شری نے سلمان خان کے  مدمقابل کام کیا تھا (ویڈیو سکرین گریب)

یہ بات تو خود بھاگیہ شری کے کانوں تک پہنچی تھی کہ ان کے والدین ان کے ہاتھ پیلے کرنے کی فکر میں ہیں۔ گھر میں اسی سلسلے میں وقفے وقفے سے مہمانوں کی آمد ہوتی رہتی تھی۔

بھاگیہ شری کے والد وجے سنگھاراؤ فلمی دنیا میں اچھی جان پہچان رکھتے تھے، چھوٹے موٹے ڈراموں کی پس پردہ موسیقی دیتے تھے جبکہ ان کے پڑوسی مشہور اداکار اور ہدایت کار امول پالیکر تھے، جن کے 1987میں نشر ہونے والے ٹی وی ڈرامے’کچی دھوپ‘ میں بھاگیہ شری کو حادثاتی طور پر صرف 18 برس کی عمر میں کام کرنا پڑا۔

وہ اس لیے کہ ’دور درشن‘ کے اس ڈرامے کی ہیروئن عاشق کے ساتھ بھاگ گئی تھی جبھی امول پالیکر نے مشکل کی اس گھڑی میں وجے سنگھاراؤ سے مدد مانگی اور ان کی بیٹی بھاگیہ شری کو اس کردار کی پیش کش کی تو والد نے پڑوسی ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے امول پالیکر سے معذرت نہیں کی۔ اب یہ بھاگیہ شری کی خوش نصیبی ہی کہی جاسکتی ہے کہ یہ ڈراما خاصا مشہور بھی ہوا۔

بھاگیہ شری اس دن کمرے میں مطالعے میں مصروف تھیں، جب والد نے آکر بتایا کہ شام میں کچھ مہمان آئیں گے، اس لیے وہ تیار رہیں۔ظاہری بات ہے کہ بھاگیہ شری نے ذہن بنالیا تھا کہ کوئی رشتے والے ہی ہوں گے۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ بھاگیہ شری جو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک جانا چاہتی تھیں لیکن کالج کے دنوں میں ان کی ملاقات ہیمالے ڈسانی سے ہوئی، جن کے ساتھ انہوں نے جینے مرنے کی قسمیں کھائیں۔ والدین کو معلوم ہوا تو انہوں نے سختی کے ساتھ کہہ دیا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے ہیمالے ڈسانی  سے دور رہیں اور صرف اپنی تعلیم پر توجہ دیں،لیکن بھاگیہ شری دل کے ہاتھوں مجبور رہیں۔جبھی دونوں چھپ چھپا کر ملتے رہتے۔

لیکن پھر بھاگیہ شری اور ہیمالے کے درمیان روایتی محبوب اور محبوبہ کی طرح کچھ اختلافات ایسے ہوئے کہ دونوں نے ایک دوسرے سے نگاہیں پھیر لیں۔ نوبت ’بریک اپ‘ تک پہنچ گئی۔ یہی وجہ ہے کہ بھاگیہ شری اسی ’بریک اپ‘ کے ذہنی بوجھ سے چھٹکارہ پانے کے لیے والدین کی ضد پر شادی کے لیے بھی رضا مندہوگئی تھیں۔

شام میں وہ جب تیار ہو کر گھر کے لان میں پہنچیں تو وہاں دو مرد تھے، انہیں حیرت ہوئی کہ انہیں دیکھنے کے لیے کوئی خاتون کیوں نہیں آئی؟ وہ پھر بھی سر جھکائے مشرقی اور روایتی لڑکی بن کر بیٹھی رہیں۔ وہ تو تب چونکیں جب والد کی آواز سنائی دی کہ ’ایسا کرتے ہیں بچوں کو خود بات کرنے دیتے ہیں۔‘

 

بھاگیہ شری اب شرمائی شرمائی اس نوجوان کے ساتھ دوسرے کمرے تک پہنچیں جو عمر رسیدہ شخص کے ساتھ آیا تھا۔ گھبراہٹ تو بھاگیہ شری کے چہرے پر تھی لیکن ’کچی دھوپ‘ میں کام کرنے کا انہیں یہ فائدہ ہوا تھا کہ چہرے کے تاثرات اور اندرونی کیفیت کو پوشیدہ رکھ سکتی تھیں۔ نوجوان نے کرسی پر بیٹھتے ہی اپنا تعارف کرایا: ’میں سورج برجاتیہ ہوں۔نئی فلم بنانے جارہا ہوں۔ کیا آپ میری فلم میں کام کریں گی؟‘

بھاگیہ شری دم بخود تھیں، چونک کر انہوں نے اب نگاہیں بھر کر اس نوجوان کو دیکھا، جسے وہ اپنے مستقبل کا دلہا خیال کر رہی تھیں لیکن وہ تو بطور ہدایت کار تعارف کروا رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ بھاگیہ شری کچھ بولتیں، سورج برجاتیہ بولے: ’دراصل میں بالکل نئی کاسٹ کے ساتھ پہلی فلم بنانے جارہا ہوں۔ آپ کا ڈراما دیکھا تھا تو مجھے میری کہانی کے مطابق آپ جیسی ہی لڑکی کی تلاش تھی۔باہر میرے والد راج کمار برجاتیہ بیٹھے ہیں اور آپ راج شری پروڈکشن کو جانتی تو ہوں گی۔‘

بھاگیہ شری اس نام سے بخوبی واقف تھیں۔ اس مرحلے پر انہوں نے سورج برجاتیہ کو جواب دیا کہ وہ ڈراما تو انہوں نے ایسے ہی شوق میں کرلیا تھا۔سورج برجاتیہ نے ان کے جواب کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا: ’چلیں آپ کچھ نہ کریں۔ میری فلم کی سٹوری سن لیں۔‘ اب کمرے میں سورج برجاتیہ کہانی سنارہے تھے، جس میں پیار، محبت کی مٹھاس تھی، وہیں بچھڑنا اور ملنا بھی، جس میں یہ احساس بھی تھا کہ ایک لڑکا ایک لڑکی کا اچھا دوست بن سکتا ہے، جس کی مخالفت خود بھاگیہ شری کے والدین کرتے آئے تھے۔کہانی سنتے سنتے بھاگیہ شری کو نجانے کیسے سابق بوائے فرینڈ ہیمالے کی یاد آنے لگی، فلم کا ہر منظر انہیں ایسا لگا جیسے ان کی محبت کا عکاس ہو۔یہاں تک کہ وہ اس حد تک جذباتی ہوئیں کہ ان کی آنکھوں میں نمی آگئی۔

سورج برجاتیہ نے جب کہانی مکمل کی تو بھاگیہ شری چونکیں اور ان سے اپنے آنسو چھپاتے ہوئے بولیں کہ وہ سوچ کر جواب دیں گی۔اس ملاقات کا ایک فائدہ انہیں یہ ہوا کہ انہوں نے بوائے فرینڈ ہیمالے سے گلے شکوے کرکے پھر سے دوستی گاڑھ لی۔ ادھر سورج برجاتیہ کا دباؤ بڑھتا جارہا تھا۔ بھاگیہ شری کے فلم میں کام نہ کرنے کا ہر بہانہ سورج برجاتیہ رد کرتے جارہے تھے۔ بھاگیہ شری نے تو یہ بھی عذر پیش کیا کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے ملک سے باہر جانا چاہتی ہیں۔ جس پر سورج برجاتیہ نے یہ پیش کش بھی کردی کہ وہ ان کی خاطر فلم کی عکس بندی جلداز جلد مکمل کریں گے تاکہ بھاگیہ شری کا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب حقیقت کا روپ دھار لے اور پھر وہ دن بھی آیا جب بھاگیہ شری نے ہتھیار ڈال ہی  دیے۔

سلمان خان اور بھاگیہ شری کی فلم’میں نے پیار کیا‘ جب 1989کے اوائل میں شروع ہوئی تو جیسے بھاگیہ شری تو اس کردار میں ڈھل سی گئیں۔فلم کی سٹار کاسٹ زیادہ تر نوجوان تھی، یہاں تک کہ ہدایت کار سورج برجاتیہ بھی جواں سال تھے۔ اسی لیے بہت جلد ایک ایسی ٹیم بن گئی، جس کی ذہنی ہم آہنگی زبردست رہی۔ بھاگیہ شری کو ہر رومانوی منظر میں بوائے فرینڈ ہیمالے کی یاد آتی، جبھی ان کی اداکاری میں بھی فطری پن حاوی رہا۔بالخصوص ’میں نے پیار کیا‘ کے مدھر اور رسیلے رومانی گیت تو جیسے بھاگیہ شری کو ان کے محبوب کے لیے اور زیادہ تڑپانے لگے۔

ادھر عشق کی چنگاریاں اب ہیمالے کے دل میں آگ کا روپ دھار چکی تھیں، جو انہیں بھاگیہ شری سے زیادہ وقت کے لیے دور نہیں رکھ پارہی تھی۔جبھی وہ ’میں نے پیار کیا‘ کے سیٹ پر تواتر کے ساتھ آنے لگے۔ فلم کی عکس بندی جاری تھی، تب بھاگیہ شری نے فیصلہ کرلیا کہ وہ ہیمالے ڈسانی سے ہی شادی کریں گی۔ والدین کو بتایا  تو انہوں نے اس شادی کی شدید مخالفت کی، جن کا خیال تھا کہ ابھی تو ان کی فلم نمائش پذیر بھی نہیں ہوئی اور شادی شدہ ہیروئن کا کیرئیر تو شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجاتا ہے لیکن بھاگیہ شری بھی ڈٹ گئیں۔ والدین نے شادی میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا اور ایسا ہی ہوا لیکن بھاگیہ شری عشق کے ہاتھوں مجبور تھیں اور سورج برجاتیہ کے علم میں لاتے ہوئے سادگی سے بھاگیہ شری اور ہیمالے ڈسانی کا بیاہ ہوگیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فلم ’میں نے پیار کیا‘ جب سینیما گھروں میں لگی تو اس نے چاروں طرف اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑھے۔ بھاگیہ شری، سلمان خان اور ہدایت کار سورج برجاتیہ تو جیسے راتوں رات سٹار بن گئے۔ اگلے سال ہونے والے فلم فیئر ایوارڈز میں اس تخلیق کی 12 نامزدگیاں ہوئیں،جن میں سے چھ ایوارڈ اس فلم کے حصے میں آئے۔ ان میں بہترین نیا چہرہ کا اعزاز بھی بھاگیہ شری کو ملا۔فلم کے گانے تو آج تک اسی دور کی یاد دلاتے ہیں جب چاروں طرف ان کا ڈنکا بجتا تھا۔

سلمان خان کی طرح بھاگیہ شری پر بھی فلموں کی برسات ہونے لگی، لیکن یہاں نجانے کیسے انہوں نے یہ اعلان کیا کہ وہ صرف ان فلموں میں کام کریں گی، جن میں ان کے شوہر ہیمالے ڈسانی ہیرو ہوں گے۔کچھ فلم سازوں نے بھاگیہ شری کے اس فیصلے پر شدید تحفظات ظاہر کیے لیکن بھاگیہ شری بھی ٹس سے مس نہیں ہورہی تھیں۔بیشتر ہدایت کار انہیں دوسرے ہیروز کے ساتھ پیش کرنا چاہتے تھے لیکن بھاگیہ شری نے کوئی لچک نہیں دکھائی۔

کچھ فلم سازوں نے یہ خیال کرکے کہ شاید بھاگیہ شری کی مقبولیت ’کیش‘ ہوجائے، ہیمالے ڈسائی کو مجبوری کا نام شکریہ سمجھ کر ان کے مقابل پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان فلموں میں ’قید میں ہے بلبل،‘ ’تیاگی‘ اور ’پائل‘ نمایاں ہیں لیکن یہ فلمیں بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئیں۔بدقسمتی سے بالی وڈ میں جب کسی اداکارہ پر ’ناکامی‘ کا داغ لگ جاتا ہے تو اسے دھونے اور پھر سے مقبولیت کا سورج طلوع کرنا دنیا کا مشکل ترین کام بن جاتا ہے۔ کچھ ایسی ہی صورت حال بھاگیہ شری کے ساتھ بھی پیش آئی۔ جو پھر بعد میں بھوج پوری، تیلگو اور بنگالی زبان کی فلموں کی ہیروئن ہی بن کر رہ گئیں۔اس دوران انہوں نے ٹی وی ڈراموں میں بھی کام کیا لیکن شہرت کی راہ سے ایسی بھٹکیں کہ پھر گمنامی کے سوا کچھ نہ ہاتھ آیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم ’میں نے پیار کیا‘ کے 30 سال بعد بھاگیہ شری کے بیٹے ابھیمنیو ڈسانی نے فلم ’مرد کو درد نہیں ہوتا‘ کے ذریعے بالی وڈ میں قدم رکھا لیکن والدہ کے برعکس اور والد ہیمالے کی طرح وہ بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئے۔ اسی طرح ان کی بیٹی اونتیکا ڈسانی جو بھاگیہ شری سے خاصی مشابہت رکھتی ہیں، تیلگو زبان کی فلم میں قسمت آزمانے والی ہیں جبکہ سلمان خان کا بھی ارادہ ہے کہ وہ بھاگیہ شری کو کسی فلم میں موقع دیں۔ کہا جاتا ہے کہ بھاگیہ شری کے بھاگ بھی 90کی دہائی کی دیگر سپر سٹارز جوہی چاؤلہ، روینہ ٹنڈن، دیویا بھارتی،انو اگروال یا پوجا بھٹ کی طرح جاگ اٹھتے، اگر وہ اپنی فلم  ’قید میں ہے بلبل‘  کی طرح اپنے شوہر کی بلبل بننے کے بجائے دیگر ہیروز کے ساتھ بھی سکرین پر جلوہ افروز ہوتیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم