کشمیر جہاں انسان غائب، حقوق غائب

خرم پرویز کی گرفتاری کے بعد جموں و کشمیر میں انسانی یا سماجی حقوق کے بچے کھچے کارکن روپوش ہوگئے ہیں۔

خرم پرویز کی رہائی کے لیے سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم میں استعمال ہونے والی ایک تصویر ( ڈیوک سلمان خان ٹوئٹر اکاؤنٹ)

یہ تحریر آپ یہاں مصنفہ کی آواز میں سن بھی سکتے ہیں

 

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کے سرکردہ کارکن خرم پرویز کی گرفتاری پر جہاں مقامی آبادی دم بخود رہ گئی ہے، وہیں عالمی سطح پر وادی میں جاری انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں اور گرفتاریوں کے خلاف نمایاں آوازیں پیدا ہو رہی ہیں۔

انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی آوازیں دبانے کے لیے انہیں فرضی کیسوں میں پھنسائے جانے کا عمل جاری ہے۔

بھارت کی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے ایک ہفتہ قبل خرم پرویز کے گھر پر چھاپہ مارا۔ چار گھنٹے کی تلاشی کے بعد ان کا لیپ ٹاپ، فون، کتابیں اور دیگر دستاویزات ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو گرفتار کرلیا گیا۔

ایجنسی نے خرم پرویز پر خیراتی اداروں کو ملنے والے عطیے کا غلط استعمال کرکے اسے علیحدگی پسندوں اور غیرسرکاری اداروں کو فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

خرم پرویز کو انسانی حقوق کے کارکن کے طور پر 2006 میں ریباک انعام سے نوازا گیا ہے۔ وہ لاپتہ افراد سے متعلق ایشیائی فیڈریشن اور جموں و کشمیر سول سوسائٹی کولیشن کے بھی سربراہ ہیں۔

44 سالہ خرم پرویز کا تعلق سری نگر سے ہے۔ انہوں نے صحافت میں ڈگری حاصل کی ہے۔ سال 2006 میں وہ کپوارہ میں اس وقت بال بال بچ گئے جب وہ پارلیمانی انتخابات کی نگرانی کے دوران بارودی سرنگ کے ایک حملے کی زد میں آگئے۔ ان کے ساتھ انسانی حقوق کی ایک اور کارکن آسیہ جیلانی اور ڈرائیور اس حملے میں ہلاک ہوگئے تھے جبکہ خرم کی ایک ٹانگ متاثر ہوگئی تھی۔

امیراکدل میں واقع تین کمروں پر مشتمل ان کا دفتر لوگوں سے کھچا کھچ بھرا رہتا تھا، جہاں دور دراز دیہاتوں سے متاثرین قانونی چارہ جوئی کے لیے آتے رہتے تھے۔

کنن پوش پورہ کی اجتماعی زیادتی اور انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق بعض معاملات کی تفصیل جاننے کے لیے میں نے کئی بار ان کے دفتر کا رخ کیا ہے جہاں ہر طرف فائلوں کے انبار پڑے ہوتے تھے۔ ان کا یہ واحد ادارہ ہے جہاں جنسی زیادتیوں، لاپتہ افراد اور اجتماعی قبروں کے تقریباً ہر معاملے کی تفصیل موجود ہے۔

انہوں نے نامور وکیل پرویز امروز کے ساتھ کشمیر میں مسلح تحریک کے دوران حراست کے بعد لاپتہ ہونے والوں کی ایک مکمل فہرست تیار کی جسے عالمی سطح کے اداروں نے کافی سراہا ہے۔

پاکستان نے خرم پرویز کی گرفتاری پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت فرضی کہانیاں بنا کر کشمیر میں انسانی حقوق چھین رہی ہے، جسے سرکاری دہشت گردی سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔

خرم پرویز کو پہلے بھی 2016 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ سوئٹزرلینڈ میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق ایک کانفرنس میں شرکت کرنے والے تھے۔ ان کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل میں رکھا گیا لیکن عالمی دباؤ کے بعد انہیں 76 روز بعد رہا کرنا پڑا۔ اس ایکٹ کے تحت انہیں دو سال تک بغیر کسی الزام کے بند رکھا جاسکتا تھا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے خرم پرویز کی گرفتاری کے فوراً بعد ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کی جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ سن 90 میں اپنے دادا کی ہلاکت کے بعد وہ کشمیر میں انسانی حقوق کا کام کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

اقوام متحدہ کی خصوصی رپوٹیر میری لا لور نے اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے بیان جاری کیا کہ ’خرم پرویز انسانی حقوق کے کارکن ہیں، دہشت گرد نہیں۔ مجھے فکر ہے کہ انہیں دہشت گردی کے فرضی الزامات میں پھنسایا جائےگا۔‘

خرم پرویز کی گرفتاری کے بعد جموں و کشمیر میں انسانی یا سماجی حقوق کے بچے کھچے کارکن روپوش ہوگئے ہیں۔

بیشتر وکلا ایسے معاملات لینے سے کتراتے ہیں جو انسانی حقوق یا شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالیوں سے متعلق ہوتے ہیں جبکہ ایک معروف قانونی ماہر کے مطابق ’پانچ اگست 2019 کو گرفتاری کے بعد رہا ہونے والے چند وکلا سے اس بارے میں تحریری بانڈ بھی لیا گیا ہے کہ وہ ’تحریک کشمیر‘ سے متعلق معاملات میں قانونی مدد فراہم نہیں کریں گے جن کو حکومت دہشت گرد تعبیر کرتی ہے۔‘

پانچ اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی اندرونی خودمختاری ختم کرکے اور ریاست کو دو یونین ٹریٹریز بنانے کے بعد تقریباً ساڑھے چار ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں وکلا اور انسانی حقوق کے بیشتر کارکن شامل تھے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ خرم کو گرفتار کرنے سے تصدیق ہوتی ہے کہ ’بھارت میں یو اے پی اے کا قانون اختلاف رائے کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سرکاری اداروں سے پوچھنے کی بجائے کہ وہ کیسے عام لوگوں کے بنیادی حقوق چھین رہے ہیں، انسانی حقوق کے کارکنوں کی آواز بند کرنے کے لیے انہیں جیلوں میں دھکیلا جا رہا ہے۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بھارت میں 30 ستمبر 2020 کو اپنے دفاتر مجبوراً بند کرنا پڑے، جب تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے 2019 کو بنگلور اور دہلی میں اس کے دفاتر پر چھاپے مارے۔ این آئی اے نے اس وقت بھی کہا تھا کہ وہ غیرملکی فنڈنگ کے معاملات کی چھان بین کر رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ناروے میں مقیم رافٹو فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر جاسٹین ہول کوبللٹوئٹ نے بھارتی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ’افسوس ہے کہ بھارتی حکومت بنیادی حقوق کی پاسداری کرنے والے شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو خود اپنے آئین کی خلاف ورزی ہے۔ جس ملک نے عالمی سطح پر انسانی حقوق قوانین کے چارٹر پر دستخط کیے ہیں وہ اس کا بھی لحاظ نہیں رکھتا۔‘

جموں و کشمیر میں تقریباً ساڑھے تین ہزار افراد کو یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، جن میں انسانی حقوق کے چند کارکنوں کے علاوہ بیشتر شہری ہیں۔

بھارت کے بعض نامور کارکن سدھا بھاردواج، رونا ولسن، ورورا راو، گوتم نولکھا اور ہینی بابو کو بھی گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے رکھا گیا ہے۔ ان میں اکثر پر الزام ہے کہ وہ ماؤ وادی تحریک کی حمایت یا نچلے طبقے کے ہندو دلتوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔

دو روز قبل ہی سدھا بھاردواج کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی گئی ہے۔

برطانیہ کی مشہور یونیورسٹی آکسفورڈ کے تقریباً 70 طلبہ نے چند روز پہلے خرم پرویز کی گرفتاری اور کشمیر میں جاری جعلی فوجی کارروائیوں کے خلاف ایک خاموش مظاہرہ کیا جس میں کشمیر کی آزادی کے نعرے بھی سنے گئے۔ احتجاج کے دوران کشمیر سے یکجہتی کے طور پر سات منٹ تک خاموشی اختیار کی گئی جس میں شامل ممبئی کی شانتی (سکیورٹی کی وجہ سے نام تبدیل کیا گیا ہے) کہتی ہیں کہ ’انسانی حقوق کی پاسداری میں ہندو مسلم کی تفریق کیوں، بھارتی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ہمیں، ہندوؤں کو پوری دنیا میں خفت اٹھانی پڑ رہی ہے، پہلے جس ملک کی جمہوریت اور انسانی حقوق کی پاسداری کی تعریف کی جاتی تھی آج اس ملک کی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف ہر ملک میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بھارت کی جمہوری شبیہ کو تار تار کیا جارہا ہے۔ میں مظاہرے میں شامل ہو کر بتانا چاہتی ہوں کہ میں موجودہ سرکار کی تانا شاہی پالیسیوں کے خلاف ہوں، کشمیریوں کے حق کے لیے یہاں کھڑی ہوں بھلے ہی حکومت مجھے دہشت گرد کیوں نہ قرار دے۔‘

ہیومن رائٹس واچ کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی حکومت انسانی حقوق کے کارکنوں، سماجی کارکنوں، صحافیوں، طلبہ، دانشور اور اختلاف رائے رکھنے والوں کو مسلسل ہراساں کرنے کی اپنی پالیسی پر گامزن ہے جس میں اب خرم پرویز کا نام بھی جڑ گیا ہے اور عالمی تشویش اور مذمت کے باوجود بھارتی حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی۔


نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی ذاتی رائے پر مبنی ہے۔ ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ