دہشت گردی کی معاونت کے الزام میں معروف کشمیری کارکن گرفتار

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کے ممتاز کارکن خرم پرویز کی گرفتار پر عالمی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انسانی حقوق کے ممتاز کارکن خرم پرویز  (بائیں) جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی  کےپروگرام کوآرڈینیٹر ہیں  (اے پی، فائل)

بھارت کی دائیں بازو کی وفاقی حکومت کا اپنے کشمیر میں انسانی حقوق کے گروپوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، جس میں ایک ممتاز کارکن خرم پرویز کو انسداد دہشت گردی کی اعلیٰ ایجنسی نے گرفتار کر لیا ہے۔

42 سالہ خرم پرویز شہری گروپ جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی (جے کے سی سی ایس) کے پروگرام کوآرڈینیٹر بھی ہیں جس کی بنیاد 2000 میں انسانی حقوق کے وکیل اور کارکن پرویز امروز نے رکھی تھی۔

بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے نیم فوجی دستے اور مقامی پولیس کے ساتھ مل کر پیر کو خرم پرویز کے مکان اور جے کے سی سی ایس کے دفتر پر چھاپہ مارا اور انہیں دہشت گردی کی مبینہ مالی معاونت کے معاملے میں جاری تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا۔

ایجنسی کے عہدیداروں نے کئی گھنٹوں تک ان کے مکان اور جے کے سی سی ایس کے دفتر میں تلاشی جاری رکھی۔

ابتدائی طور پر انہیں پیر کی سہ پہر پوچھ گچھ کے لیے این آئی اے کے دفتر طلب کیا گیا تھا اور شام کو ملک کے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کی متعدد دفعات کے تحت باضابطہ طور پر گرفتار کیا گیا تھا، جسے ناقدین نے سخت اور آمرانہ قانون قرار دیا ہے۔

انہیں مجرمانہ سازش اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے غیر قانونی رقم کی منتقلی سے متعلق چھ نومبر کو درج مقدمے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا۔

یو اے پی اے کا قانون بھارتی حکام کو اجازت دیتا ہے کہ وہ بغیر کسی قابل اعتراض ثبوت کے لوگوں کو حراست میں لے سکتے ہیں اور ضمانت کے لیے سخت تقاضے طے کرکے لوگوں کو بغیر کسی مقدمے کے جیل میں رکھ سکتے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی کے دور حکومت میں اس قانون کو حکومت کے ناقدین کے خلاف بے خوفی سے استعمال کیا گیا ہے جن میں طلبہ اور صحافی بھی شامل ہیں۔

گرفتاری سے قبل خرم پرویز کا موبائل فون، لیپ ٹاپ اور ان کی اہلیہ کے موبائل فون کے ساتھ کچھ کتابیں ضبط کر لی گئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اکتوبر 2020 میں این آئی اے نے سری نگر میں خرم پرویز کی رہائش گاہ اور دفتر پر چھاپہ مارا تھا۔ اس سے قبل 2016 میں ان کے خلاف ملک کے پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے تحت بغیر کسی مقدمے کے ایک سال تک حراست میں رکھنے کی اجازت ہے۔ انہیں 76 دن کی قید کے بعد رہا کیا گیا تھا۔

جے کے سی سی ایس نے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں مبینہ تشدد کی متعدد رپورٹیں شائع کی ہیں جن میں تشدد، جنسی حملے، غیر قانونی قتل اور بے نشان اجتماعی قبریں شامل ہیں۔

وہ ایشیا میں جبری گمشدگیوں کا جائزہ لینے والی فلپائن میں قائم بین الاقوامی حقوق کی تنظیم ایشین فیڈریشن اگینسٹ انوالنٹری ڈس اپیرینسز کے چیئرپرسن بھی ہیں۔ انہیں 2006 میں ریبوک ہیومن رائٹس ایوارڈ ملا تھا۔

جے کے سی سی ایس نے گذشتہ ہفتے سری نگر میں مبینہ عسکریت پسندوں پر چھاپے کے دوران تین شہریوں کو ہلاک کرنے پر سرکاری فورسز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

ان کی لاشوں کو مقامی پولیس نے خفیہ طور پر ان کے رشتہ داروں کی معلومات کے بغیر دفن کیا، جنہوں نے الزام لگایا کہ بھارتی فوجیوں نے انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ عوامی مظاہروں کے بعد تین میں سے دو شہریوں کی لاشیں نکال کر ان کے اہل خانہ کو واپس بھیج دیں۔

خیال ہے کہ جموں و کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوجی زون ہے اور بھارت اور پاکستان کے درمیان کئی دہائیوں پرانے تنازعے کا مرکز ہے۔ دونوں ممالک خطے کشمیر پر اپنا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اس کے صرف کچھ حصوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے خطے کی نیم خود مختار خصوصی حیثیت منسوخ کرنے اور 2019 میں ریاست کو وفاقی زیر انتظام دو علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد خطے میں ناقدین، صحافیوں اور کارکنوں کے خلاف کارروائی میں تیزی لائی گئی تھی۔

خطے کی خصوصی حیثیت بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت دی گئی تھی جسے وفاقی حکومت نے منسوخ کر دیا تھا۔

اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی حقوق کے اداروں نے خرم پرویز کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی خصوصی رپوٹیئر مریم لالور نے ایک ٹویٹ میں لکھا: ’میں پریشان کن اطلاعات سن رہی ہوں کہ خرم پرویز کو آج کشمیر میں گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں بھارت میں حکام کی جانب سے دہشت گردی سے متعلق جرائم کے الزامات عائد کیے جانے کا خطرہ ہے۔‘

انہوں نے لکھا: ’وہ دہشت گرد نہیں، وہ انسانی حقوق کے محافظ ہیں۔‘

رافٹو فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر جوسٹائن ہول کوبلٹوٹ نے ایک بیان میں کہا کہ وہ افسوس کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کہ بھارتی حکومت آئین اور خود حکومت کی طرف سے توثیق شدہ بین الاقوامی معاہدوں دونوں میں درج اقدار اور اصولوں کو محفوظ بنانے کے لیے کام کرنے والے شہریوں کو خوفزدہ کرتی ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا