ضم شدہ قبائلی اضلاع کے پہلے بلدیاتی انتخابات میں مسیحی خاتون امیدوار

ضم شدہ قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل سے مسیحی کمیونٹی کی ارشاد بی بی خواتین کی جنرل نشست پر الیکشن لڑ رہی ہیں۔

ارشاد بی بی کا تعلق پاکستان اور افغانستان کے درمیان طور خم سرحد کے آخری علاقے لنڈی کوتل سے ہے اور وہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے پہلے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔

مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی 46 سالہ ارشاد بی بی پرائمری سکول میں استانی تھیں اور ایک سال قبل ریٹائر ہوچکی ہیں۔ اب وہ خیبرپختونخوا کے 18 اضلاع میں 19 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے نیبر ہڈ کونسل کی خواتین کی جنرل نشست پر الیکشن لڑ رہی ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ارشاد بی بی نے بتایا کہ انہوں نے اس علاقے کے مختلف گرلز سکولوں میں 26 سال تک بچیوں کو پڑھایا ہے۔

بقول ارشاد: ’مجھے خوب پتہ ہے کہ یہاں پر خواتین کے کیا مسائل ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ ’میں لنڈی کوتل میں بچیوں کی تعلیم کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہوں، میں چاہتی ہوں کہ اپنی سیٹ پر کامیاب ہوکر لنڈی کوتل کی خواتین، جن سے مجھے بہت لگاﺅ ہے، کی مدد کروں۔‘

ارشاد بی بی نے مزید بتایا کہ لنڈی کوتل میں پینے کے پانی کی عدم فراہمی کا بڑا مسئلہ ہے، خواتین دور دراز کے علاقوں سے پانی بھر کر سروں پر رکھ کرلاتی ہیں، پھر ان کو کوئی نہ کوئی تکلیف اور بیماری ہوجاتی ہے۔

وہ چاہتی ہیں کہ یہاں صحت کے مراکز قائم کریں جہاں غریب خواتین کا مفت علاج کیا جائے۔

ارشاد بی نے بتایا کہ انہوں نے گھر گھر انتخابی مہم شروع کی ہے اور انہیں امید ہے کہ وہ کامیاب ہوں گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’مسلم کمیونٹی کے ساتھ مسیحی افراد کے گھروں میں بھی جاتی ہوں۔ مجھے کامیاب کیا گیا تو میں خواتین کی فلاح اور بہبود کے لیے کام کروں گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا