نواز شریف کی واپسی:حقیقت یا سیاسی پوائنٹ سکورنگ؟

مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز صادق کی جانب سے رواں ہفتے بیان دیا گیاکہ وہ 20جنوری کو لندن روانہ ہورہے ہیں اور میاں نواز شریف کو ساتھ ہی واپس لائیں گے۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف 6 جولائی 2018 کو سنٹرل لندن میں اپنے دفتر جاتے ہوئے (فائل تصویر: اے ایف پی)

پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی لندن سے وطن واپسی کی خبروں پر سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان کی واپسی فوری ممکن نہیں ہو گی۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں ابھی پاکستان میں ایسی صورتحال نہیں کہ نواز شریف کی واپسی کا ماحول بن چکا ہو، یہ صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہے اور ن لیگ اپنے کارکنوں کو اپنے قائد کی واپسی کا تاثر دینے میں کامیاب رہی ہے، کیونکہ حکومت بھی یقین کر کے ردعمل ظاہر کرنا شروع ہوگئی۔

کیا نواز شریف واقعی واپس آرہے ہیں؟

مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز صادق کی جانب سے رواں ہفتے بیان دیا گیاکہ وہ 20جنوری کو لندن روانہ ہورہے ہیں اور میاں نواز شریف کو ساتھ ہی واپس لائیں گے۔ مسلم لیگ ن لیگ پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے بھی نواز شریف کی جلد واپسی کا دعویٰ کیاہے، اس بیان کے بعد بعض صحافیوں نے بھی سوشل میڈیا پر خبر دی کہ نواز شریف جلد وطن واپس آرہے ہیں۔ اس کے بعد وزیر اعظم عمران خان اور دیگر وزرا نے ردعمل دیا۔

سیاسی تجزیہ کار سابق نگران وزیر اعلی پنجاب حسن عسکری رضوی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ان خبروں کو سیاسی چال قرار دیا کہ ’ابھی ملکی حالات ایسے دکھائی نہیں دیتے کہ نواز شریف فوری واپس آئیں گے کیونکہ ابھی تک ان کے خلاف عدالتوں میں کیس بھی زیر سماعت ہیں اور برطانیہ میں ان کے ویزے کی مدت ختم ہونےکے خلاف اپیل کا بھی فیصلہ نہیں آیا۔ لہذا مسلم لیگ ن نے یہ خبریں اس لیے پھیلائی ہیں کہ انہیں بلدیاتی انتخابات اور ممکنہ آئندہ انتخابات سے قبل کارکنوں کی مکمل حمایت حاصل ہوسکے۔‘

حسن عسکری کے خیال میں مسلم لیگ ن کی قیادت ڈیل کی کوشش کر رہی لیکن ابھی تک کامیابی نہیں مل سکی لہذا جب تک ڈیل مکمل نہیں ہوتی نواز شریف واپس نہیں آئیں گے۔

سینئر صحافی سلمان غنی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے نواز شریف کی واپسی کی خبریں پھیلا کر حکومت کو پریشان ضرور کر دیا لیکن وہ ابھی واپس نہیں آرہے ایسی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے۔‘

ان کے بقول ن لیگ نے اپنے قائد کی واپسی کے تاثر کو پھیلایا، وزیر اعظم اور وزرا کے ردعمل سے ثابت ہوگیا کہ ن لیگی رہنما اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔ سلمان غنی نے کہاکہ ’مسلم لیگ ن کے کارکنوں میں ان خبروں سے جوش وخروش بڑھا ہے اور یہ حکمت عملی بلدیاتی انتخابات اور ممکنہ قبل از وقت عام انتخابات کی تیاری کے حوالے سے موثر دکھائی دیتی ہے۔‘

انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن کی قیادت اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کافی عرصے سے کر رہی ہے لیکن ان دونوں میں معاملات طے کرنے کے لیے سعودی عرب جیسی موثر ضمانت لازمی ہوسکتی ہے۔

ان کے مطابق اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ کی قیادت میں عدم اعتماد پایا جاتاہے اتنی جلدی معاملات طے ہوتے دکھائی نہیں دے رہے جب تک معاملات طے نہیں پائیں گے نواز شریف کی وطن واپسی کا امکان نہیں۔

سیاسی ردعمل:

سابق وزیر اعظم کی وطن واپسی کی خبروں کے بعد وزیر اعظم اور وزرا نے شدید ردعمل دیاہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اپنے بیان میں کہا کہ جو لوگ وطن واپسی کیلئے ڈیلوں کا انتظار کریں وہ سیاست میں ہمیشہ بونے ہی رہیں گے، نون لیگ والے بوٹ پالش کا سامان لے کر کھڑے ہیں صرف کوئی بوٹ آگے نہیں کر رہا۔ آپ پاکستان کا تاریک دور ہیں ہواؤں کا رخ اب آپ کا نہیں ، روشنی ہو جائے تو تاریکی ختم ہو جاتی ہے اور پاکستان میں یہ ہی ہوا۔

مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے حکومتی ردعمل پر بات کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے قائد کی واپسی سے متعلق اطلاعات کی خبریں سن کر ہی حکومت کی نیندیں اڑ گئیں اور بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہے۔

عظمیٰ بخاری نے کہاکہ نواز شریف کی واپسی کے بارے میں ابھی حتمی تاریخ نہیں بتا سکتی لیکن وہ جلد واپس آرہے ہیں اور ایئر پورٹ پر ان کا تاریخی استقبال ہوگا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہاکہ حکومت غیر موثر ہوچکی ہے انہیں سہارے تلاش کرنا پڑ رہے ہیں لیکن اب ان کے دن گنے جاچکے ہیں۔

انہوں نے کہا وہ حکومت کو بتانا چاہتی ہیں کہا کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے آگے آگے دیکھیں ہوتا ہےکیا۔

حکومت عوامی مسائل حل کرنے کی بجائے مسلم لیگ ن کی قیادت پر تنقید کر کے اقتدار کو طول دینے کی کوشش کرتی رہی ہے لیکن اب یہ سلسلہ زیادہ نہیں چلے گا۔

مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف کی واپسی سے متعلق کہنا تھا کہ پارٹی کا فیصلہ کہ جب تک انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی نہیں ہوتی انہیں واپس نہیں آنا چاہیے۔

واضح رہے تین بار ملک کے وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف 19نومبر 2019کو عدالتی احکامات پر ضمانت کے بعد حکومت کی جانب سے ان کا نام ای سی ایل سے نکالے جانے پر علاج کے لیے لندن گئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست