کیا گاڑی کا یہ اشتہار خواتین کو ہراساں کرنے پر اکسا رہا ہے؟

معروف مصری گلوکار عمر دیاب نے فرنچ کار میکر سیٹرون کے ایک اشتہار میں کام کیا ہے جس کی وجہ سے انہیں زبردست آن لائن تنقید کا سامنا ہے۔

مصر میں موجود سیٹرون کمپنی کے دفتر نے اشتہار پر معافی مانگی ہے (سکرین شاٹ)

مصر کے عالمی شہرت یافتہ پاپ سٹار عمر دیاب شدید آن لائن تنقید کی زد میں ہیں اور صارفین کا الزام ہے کہ ان کا کار بنانے والی کمپنی سیٹرون کا نیا اشتہار ’خاتون کو جنس طور پر ہراساں‘ کرنے جیسا ہے۔

عرب نیوز کے مطابق سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اس اشتہار میں’جنسی تفریق، جنسی ہراسانی، تشدد اور خواتین کو مواد سے تشبیہ دینے‘ کو فروغ دیا گیا۔

اشتہار میں کار کی ایسی خصوصیت دکھائی گئی ہے جس کی مدد سے ڈرائیور فرنٹ سکرین پر لگے بیک مرر کے نیچے ہاتھ لگا کر سامنے موجود کسی بھی چیز کی تصویر بنا سکتا ہے۔

فرانسیسی کار کمپنی سیٹرون کے ویڈیو اشتہار میں دکھایا گیا کہ پاپ سٹار کی گاڑی کے سامنے سے ایک خوبرو لڑکی گز رہی ہے اور وہ کار کی فرنٹ سکرین کو ٹچ کرنے سے ان کی تصویر کھینچ لیتے ہیں۔

پاپ سٹار عمر دیاب تصویر کھینچ کر اسے اپنے موبائل فون پھر بھی بھیجتے ہیں۔ ویڈیو کے دیگر مناظر میں مصری پاپ سٹار کو خاتون کے ساتھ  سیٹرون کار میں ڈرائیور کرتے اور گھومتے پھرتے دیکھایا گیا۔

گذشتہ ماہ نشر کیے گئے اس اشتہار کو مبینہ طور پر یوٹیوب سے ہٹا دیا گیا اور اطلاعات کے مطابق اس صورتحال پر تبصرہ کرنے کے لیے مصری پاپ سٹار سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔

مصر میں موجود سیٹرون کمپنی کے دفتر نے اس اشتہار پر معافی مانگتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ کمپنی کو ’منفی تشریح کی سمجھ اور اس پر گہرا افسوس ہے۔‘

عرب نیوز کے مطابق کار بنانے والی کمپنی نے تمام چینلز سے ویڈیو اشتہار بھی واپس لے لیا۔

دانی حجار نامی ایک ٹوئٹر صارف نے اس تبصرے کے ساتھ ویڈیو شیئر کی کہ ’سیٹرون کی جانب سے یہ اشتہار واقعی ڈرؤنا ہے، عمر دیاب سے میرے بہت سارے سوالات ہیں۔‘

ایک اور صارف نے ٹویٹ کیا کہ’عمر دیاب کے طریقے سے خواتین کو ہراساں کرنا۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ