اس سال کن موضوعات پر توجہ ضروری ہے؟

2022 میں ہمارے لیے کیا لکھا ہے وہ تو اللہ کی ذات ہی جانتی ہے لیکن ہم ماضی یعنی 2021 سے سیکھتے ہوئے کوشش کر سکتے ہیں کہ ماضی میں کی گئی غلطیاں نہ دہرائیں۔

پاکستان کا شمار ان دس ممالک میں ہوتا ہے جو موسمی تبدیلی سے متاثر ہیں (فائل تصویر: اے ایف پی)

ماضی میں کیا رہنا، کیا اس وقت میں رہنا جو بیت گیا، لیکن ماضی سے سیکھنا بہت اہم ہوتا ہے اور اپنی کوتاہیوں کو جاننا اور ان سے سیکھنا کہیں زیادہ اہم ہے۔

2022 میں ہمارے لیے کیا لکھا ہے وہ تو اللہ کی ذات ہی جانتی ہے لیکن ہم ماضی یعنی 2021 سے سیکھتے ہوئے کوشش کر سکتے ہیں کہ ماضی میں کی گئی غلطیاں نہ دہرائیں۔

ہراسانی

بطور قوم ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ملک میں خواتین کی ہراسانی کے واقعات کی روک تھام کے لیے مل کر کوششیں کریں۔ ہراسانی کس حد تک بڑھ چکی ہے کہ لڑکیاں اب کنسرٹس پر جاتے ہوئے ہچکچاتی ہیں، وہ پہلے یہ دیکھتی ہیں کہ کنسرٹ ہو کہاں رہا ہے، کتنی کھلی جگہ ہے اور پھر فیصلہ کرتی ہیں۔ اب اس سے زیادہ کیا ہو سکتا ہے کہ گلوکار خود اعلان کرتے ہیں کہ لڑکیوں کی ہراسانی بند ہیں ہوئی تو وہ پرفارم نہیں کریں گے۔

لڑکیاں کتنی ہی بہادر کیوں نہ ہوں لیکن ہراساں کرنے والوں نے ان کے دلوں میں ڈر ڈال دیا ہے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا بازار جاؤں، کیا سورج ڈھلنے کے بعد اکیلے ڈرائیونگ کروں؟ کیا پیدل گھر جاؤں چاہے جتنا ہی نزدیک کیوں نہ ہو؟

یونیورسٹی کی طالبہ ہو یا کام کرتی خاتون سب ہی خواتین کو معلوم ہے کہ مارکیٹ میں، پارکوں میں، دفاتر میں، غرض ہر جگہ ہراسانی کا سامنا تو کرنا ہی ہے۔ ان کو یہ بھی معلوم ہے کہ قوانین تو موجود ہیں مگر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر۔

ہمیں 2022 میں بھی مل کر جنسی ہراسانی پر بات کرنا ہو گی اور اسی بات چیت کے ذریعے معاشرے میں آگہی آئے گی۔

کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ قانون کبھی کمزور نہیں ہوتا اس پر عمل درآمد کمزور ہوتا ہے اور اسی لیے کرپشن ہو یا ریپ یا جنسی ہراسانی، اقربا پروری ہو یا ٹریفک کی خلاف ورزی لوگ بے جھجھک کرتے چلے جاتے ہیں۔

موسمی تبدیلی

پاکستان کا شمار ان دس ممالک میں ہوتا ہے جو موسمی تبدیلی سے متاثر ہیں۔ پورتو ریکو، میانمار، ہیٹی، فلپائن کے بعد پاکستان کا نام ہے۔

موسمی تبدیلی کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھانے کے باوجود سمندری سطح میں اضافے، پانی کی قلت، زراعتی پیداوار میں کمی اور خشک سالی کے باعث خدشہ ہے کہ 2030 تک پاکستان میں چھ لاکھ افراد بے گھر ہو جائیں گے اور نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گے۔ تاہم اگر موسمی تبدیلی کو روکنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو متاثر ہونے والے افراد کی تعداد دگنی ہو سکتی ہے۔

گذشتہ سال جیکب آباد میں برداشت سے زیادہ گرمی پڑی اور درجہ حرارت 52 ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھ گیا۔ اگر اتنی گرمی کچھ گھنٹے مزید برقرار رہتی تو لوگوں کے اعضا جواب دے سکتے تھے اور موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

جیکب آباد میں اتنی زیادہ گرمی توقعات سے کہیں پہلے ہو گئی ہے۔ دریائے سندھ کے ساتھ پاکستان کے علاقے موسمی تبدیلی سے زیادہ متاثر ہوں گے اور مستقبل قریب میں درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہو گا۔

حکومت موسمی تبدیلی اور اس کے نتائج کے حوالے سے فوری اقدامات اٹھائے اور ایسے اقدامات کرے جس سے ماحول اور انسان دونوں ہی کو محفوظ رکھا جائے۔  موسمی تبدیلی سے روزگار اور صحت دونوں ہی پر اثر پڑے گا۔ اس وقت بھی 39 فیصد آبادی کثیر جہتی غربت میں مبتلا ہے اور موسمی تبدیلی کے باعث روزگار جانے سے ان کی زندگی اور صحت پر بہت زیادہ اثر پڑے گا۔

مذہبی انتہا پسندی

سیالکوٹ میں ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں سری لنکا کے شہری پریانتھا کمارا کو تشدد کر کے ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاش کو آگ لگا دی۔

جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان میں سے ایک درجن کے قریب وہ افراد بھی شامل ہیں جنہیں کچھ عرصہ قبل تحریک لبیک کے احتجاجی دھرنے سے پہلے خدشہ نقض امن کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔

ایک طرف توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال سے کوئی بھی کسی پر الزام لگا کر مار دیتا ہے تو دوسری جانب عالمی سطح پر ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔

اسی حساس موضوع کو لے کر اگر ایک جانب مذہبی شدت پسندی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے تو دوسری جانب سیاسی رہنما اس کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے جھجھکتے نہیں ہیں۔ اگر سیاسی رہنما ہی مذہبی کارڈ کا بے دریغ استعمال کریں گے تو پھر اس کے غلط استعمال کا ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جائے؟

منشیات اور ذہنی امراض

پاکستان میں ڈپریشن کے شکار لوگوں کی تعداد 34 فیصد ہے۔ پاکستان میں 22 کروڑ عوام کے لیے تقریباً پانچ سو ماہر نفسیات ہیں جس کے باعث ذہنی امراض کا علاج یا تو وقت پر نہیں ہو پاتا یا پھر ہوتا ہی نہیں ہے اور 90 فیصد ذہنی امراض میں افراد کا علاج ہوتا ہی نہیں ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں پانچ کروڑ لوگ ذہنی امراض میں مبتلا ہیں۔ ان امراض میں ڈپریشن، نشہ، شیزوفرنیا، دہری شخصیت، پسِ صدمہ ذہنی و جذباتی دباؤ شامل ہیں۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 36 فیصد افراد بے چینی اور ڈپریشن کے مریض ہیں۔

پاکستان میں ذہنی دباؤ کے باعث عورتوں کی بہ نسبت مرد زیادہ خودکشی کرتے ہیں اور اس کی شرح ایک کے مقابلے میں چھ ہے۔

سنہ 2002 سے 2019 تک مردوں میں خودکشی کی شرح 13 فیصد سے کم نہیں ہوئی جب کہ عورتوں میں یہ شرح 4.9  سے کم ہوکر 4.3 فیصد رہ گئی ہے۔

پاکستان میں انسداد منشیات فورس کے مطابق ہیروئن مقبول ترین نشہ ہے اور 77 فیصد منشیات کے عادی افراد اس کی لت میں مبتلا ہیں۔ منشیات کی دنیا میں قدم رکھنے والوں کا آغاز چرس سے ہوتا جو سستی بھی ہے اور باآسانی دستیاب بھی ہے۔

پاکستان میں 96 فیصد نوجوان لڑکے اور لڑکیاں منشیات کی ابتدا اپنے دوستوں اور سماجی طور پر مقبول اور لڑکے اور لڑکیوں کے گروپ میں داخل ہونے کے لیے کرتے ہیں۔ 90 فیصد نوجوان پڑھائی کے شدید دباؤ اور 88 فیصد تجسس کے باعث کرتے ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 76 لاکھ ہے جن میں زیادہ تر تعداد نوجوانوں کی ہے۔ اس میں 78 فیصد مردوں کی ہے جبکہ 22 فیصد خواتین ہیں۔

اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، اس سال حکومت اور سول سوسائٹی کو مل کر پاکستان میں ڈپریشن، ذہنی صحت، ناکامی، سیکس اور منشیات جیسے موضوعات پر کھل کر بات کرنی ہو گی۔

جانور

 کراچی کے چڑیا گھر میں  ایک سفید شیر ہلاک ہوگیا اور کہا گیا کہ شیر کو بروقت طبی امداد مہیا نہیں کی گئی تھی، مالی بدعنوانی، بد انتظامی اور جانوروں کی دیکھ بھال میں غفلت برتی گئی۔

پاکستان میں جانوروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔ تفریح گاہوں میں ہوں یا باہر پھرتے جانور انہیں سنجیدگی سے تحفظ دینے کی کوشش نہیں ہوتی۔ جانوروں کے تحفظ سے متعلق قوانین تو موجود ہیں لیکن بد قسمتی سے ان پرعملدرآمد نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہمارے ہاں جانوروں کو صرف تفریح کا ذریعہ سمجھا جاتا ہےْ یہ نہیں سوچا جاتا کہ یہ بھی جاندار ہیں اور ان کی زندگی بھی اہم ہے۔

جب تک ہمدردی کے تحت جانوروں کو تحفظ فراہم کرنے کا جذبہ پوری طرح بیدار نہیں ہوگا چڑیا گھر تو کیا کہیں بھی جانور محفوظ نہیں ہوں گے۔

عالمی سطح پر اس حوالے سے کافی کام ہو رہا ہے لیکن یہاں اس جانب سنجیدگی سے کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی گئی۔

دوسری جانب جانوروں کے مسکنوں میں انسانی مداخلت کے باعث جانور کم ہوتے جا رہے ہیں۔ سیاحت کے نام پر جنگلات کو کاٹا جا رہا ہے۔

یہ چند ہی ایسے موضوع ہیں جن پر اس سال اور اس سے اگلے سالوں میں توجہ دینا بہت ضروری ہے۔ کون الیکٹڈ ہے اور کون سلیکٹڈ، کون حکومت بنائے گا اور کون نہیں، کون قومی اسمبلی کے اہم اجلاسوں میں نہیں آتا اور کون آتا ہے، مہنگائی صرف پاکستان میں ہوئی ہے یا پوری دنیا میں، پیٹرول اب بھی پاکستان میں سستا ہے یا نہیں۔ ان باتوں پر سیاسی جماعتوں اور عوام کے نقطہ نظر میں یگانگت ہوتی ہے یا نہیں لیکن اوپر پیش کیے گئے پانچ موضوعات پر ہونا ضروری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ