سی ٹی ڈی کا کوئٹہ میں چھ دہشت گرد ہلاک کرنے کا دعویٰ

سکیورٹی حکام کے مطابق دہشتگردوں کے قبضے سے ایک موٹر سائیکل برآمد کی گئی ہے جس میں بم نصب کیا گیا تھا۔

گذشتہ سال پانچ ستمبر کو کوئٹہ میں چیک پوسٹ کے قریب ہونے والے دھماکے کے بعد جایے وقوعہ پر موجود سکیورٹی اہلکار (اے ایف پی/فائل)

محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے مطابق پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے مشرقی بائی پاس پر انٹیلی جنس اطلاع پر کارروائی کے دوران چھ مبینہ دہشت گرد مارے گئے ہیں۔

سی ٹی ڈی کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’باوثوق ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ اس جگہ پر اصغر سمالانی نامی دہشت گرد جس کے سر کی قیمت 20 لاکھ روپے رکھی گئی تھی، موجود ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’مذکورہ دہشت گرد کا نام ریڈ بک میں درج ہے۔ بتایا گیا کہ اصغر سمالانی دیگر ساتھیوں کے ہمراہ مشرقی بائی پاس پر کیوڈی اے قبرستان کے قریب چھپے ہوئے ہیں۔‘

ترجمان کے مطابق ’مذکورہ دہشت گرد کی موجودگی اور معلومات کی بنیاد پر کارروائی کا آغاز ہفتے کی شب کو کیا گیا۔ اس دوران فورسز نے دہشت گردوں سے ہتھیار ڈالنے کا کہا گیا۔‘

ترجمان کے بقول: ’ملزمان کوئٹہ میں اہم سرکاری تنصیبات پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ دہشت گردوں نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے اندھا دھند فائرنگ شروع کی اور سی ٹی ڈی اہلکاروں پر دستی بم سے حملہ  کر دیا۔ اس دوران اہلکاروں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی اور جس کے نتیجے میں چھ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ جن میں اصغر سمالانی شامل ہیں۔‘

ترجمان نے بتایا کہ ’رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چار سے پانچ دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ جن کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔‘

سکیورٹی حکام کے مطابق دہشتگردوں کے قبضے سے ایک موٹر سائیکل برآمد کی گئی ہے جس میں بم نصب کیا گیا تھا۔ جبکہ کمپاؤنڈ سے تین ایس ایم جی رائفل، دو سو گولیاں، دو نائن ایم ایم پستول، ایک دستی بم اور دو موٹر سائیکلیں برآمد کرلی گئی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترجمان نے بتایا کہ ’ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم شدت پسند تنظیم داعش سے ہے۔ جبکہ فرار ہونے والے ملزمان کی تلاش کے لیے بڑی پیمانے پردیگرعلاقوں میں کارروائی کی منصوبہ بندی کرلی گئی ہے۔‘

سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری کردہ اس بیان کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق ’اس کارروائی کے حوالے سے مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔‘

یاد رہے کہ جنوری 2021 میں بلوچستان کے ضلع کچھی کے علاقے مچھ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کان کنوں اور مزدوروں کو قتل کرنے کی ذمہ داری بھی داعش نے قبول کی تھی۔

ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی لاشوں کو شناخت کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کردیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان