رشید ناز: فروٹ منڈی سے فلموں کی عالمی منڈی تک

رشید ناز اپنا کردار ادا کر کے پشاور سینٹر کے داخلی دروازے پر کھڑے مسکرا مسکرا کر سب کو الوداع کہہ رہے ہیں۔

فہمید خان کے ساتھ سیٹ پر موجود رشید ناز (تصویر: فہمید خان)

بہت کچھ بدل گیا ہے۔ پی ٹی وی پشاور سٹیشن جو دو دہائیاں قبل ایک زندگی سے بھرپور عمارت ہوا کرتی تھی۔ نوجوان آنکھوں میں ہیرو بننے کے سپنے سجائے عمارت میں داخلے کی تمنا رکھتے تھے آج گورا قبرستان کی طرح لگتا ہے۔

جس طرح پشاور کے گورا قبرستان میں گوروں کی قبروں پر ان کی مختصر سوانح عمری درج کر کے صلیب گاڑھ دی گئی ہے اسی طرح پشاور سنٹر میں بھی یہاں جنم لینے والے شہرہ آفاق ڈراموں اور پروگراموں پر پٹیوں سے نمبر اور لیبل کا اندارج کرکے اسے درازوں میں دفن کر دیا گیا ہے۔

اسی کے عشرے کے اواخر اور 90 کے اوائل میں والد صاحب کے ہمراہ پشتو ادب کے حوالے سے شوز کی ریکارڈنگ کے لیے اس عمارت میں کئی بار جانے کا موقع ملا۔ اس وقت کی یادیں فیوجی کلر میں آج بھی ذہن کے پردے پر موجود ہیں۔

جن شخصیات کو یہاں دیکھا ان کی اکثریت اب مرحومین میں شمار ہوتی ہے۔ وہ خود تو باہر دفن ہیں لیکن ان کا فن ابھی بھی یہاں دفن ہے۔

ڈاکٹر اعظم اعظم، قلندر مومند، پروفیسر افضل رضا، سید تقویم الحق کاکا خیل تو دوسری طرف ہندکو کے ادیب مختیار علی نیئر، افتخار قیصر، پروفیسر خاطرغزنوی، پشتو اور ہندکو زبانوں کا ایسا ماحول تھا کہ دونوں کے ملاپ سے ایک اور زبان جنم لینے لگی تھی۔

ایسے ہی ماحول میں میری ملاقات اداکار رشید ناز سے ہوئی۔

وہ کسی ڈرامے میں خان کا کردار ادا کر رہے تھے۔ ان کی آواز سیٹ پر گونج رہی تھی۔ ان کی رعب دار آواز اور غضب ناک چہرے کو دیکھ کر میں ڈر کر واپس پروڈیوسر کے کمرے میں پہنچا۔

کیا پتا تھا کہ یہ رشید ناز آگے چل کر پاکستانی فلموں، ہالی وڈ اور بالی وڈ تک نام کمائیں گے۔ اب لگتا ہے اس وقت انہوں نے بھی نہیں سوچا ہوگا۔

پی ٹی وی کے اس وقت کے پروڈیوسرمسعود احمد شاہ کا کہنا ہے کہ وہ ایک مرتبہ پشاور سینٹر سے خفا ہوئے اور دوبارہ سبزی منڈی کا رخ کرکے کاروبار کرنے لگے۔ صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ سینٹر کے خلاف پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس تک کر ڈالی۔

اس دوران ایک ڈراما کے لیے ان کی ضرورت محسوس ہوئی تو مسعود احمد شاہ انہیں منانے ان کے گھر پہنچ گئے، لیکن رشید ناز نے ضد پکڑی تھی۔ آخر رات کے نو بج گئے تو مسعود احمد شاہ نے آخری تیر چلایا اور انہیں بتایا کہ رشید ناز بہ طور فرد خود کچھ نہیں ہے۔ یہ تو ان کی اداکاری ہے اور اداکار رشید ناز عوام کا ہے۔ عوام کا حق ہے کہ وہ رشید ناز کو دیکھیں۔ اس پر رشیدناز پگھل گئے اور ڈراما کے لیے ہاں کر دی۔

رشید ناز جو اپنے جاننے والوں میں ’نازصاحب‘ کے نام سے جانے جاتے تھے تعلیم کے حصول کے بعد فروٹ منڈی کے کاروبار سے وابستہ ہوئے۔

افغانستان سے پھلوں کی آمد کے ساتھ ہی وہ پورے پاکستان کو ان پھلوں کی سپلائی کا کاروبار کرتے تھے۔ جب فن کی دنیا میں قدم رکھا تو پشاور کے ’ناز‘ کہلائے۔

رشید ناز کے چہرے کی ساخت اور تاثرات نے انہیں یکتا بنا رکھا تھا۔ اس حوالے سے جاننے کی کوشش کی تو ان کے عزیز احتشام نے بتایا کہ بنیادی طور پر ان کا خاندان قریشی تھا اور وہ عرب سے ازبکستان آئے۔ ان کے پردادا روسی استبداد کے باعث متحدہ ہندوستان کوچ کر گئے۔ ان کے والد نے یہاں ایک چترالی خاتون سے شادی کی۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس طرح رشید ناز فارسی، ہندکو، پشتو، اردو یہاں تک اپنی مادری زبان چترالی روانی سے بولتے تھے۔ اس لیے جب پاکستانی ہدایت کار شعیب منصور نے ایک کمرشل میں گانے کی پروڈکشن کے دوران شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کا کردار دیا جو کہ ان کے چہرے کی وسطی ایشیائی خدوخال سے قربت اور فارسی کے انداز بیاں سے سینچا گیا تھا تو عوام میں خوب سراہا گیا۔

انہوں نے ہندکو، پشتو اور اردو ڈراموں کی طرح پشتو اور اردو فلموں میں بھی کام کیا۔ شعیب منصور نے ان کو بعد ازاں اپنی فلم ’خدا کے لیے‘ میں بھی موقع دیا۔ اس طرح ان کی صلاحیتیں بالی وڈ پہنچیں۔

بالی وڈ فلموں میں انہوں نے نیراج پانڈے کی فلم ’بے بی‘ میں اکشے کمار، انوپم کھیر اور کے کے مینن کے ہمراہ کام کیا۔ اس سے قبل ہی انہوں نے ہالی وڈ کی برطانوی فلم ’قندہار بریک‘ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا تھا۔

ان کے فن کو جاننے والوں کا ماننا ہے کہ مسکراتے ولن کا چہرہ ان کے تاثرات کی معراج ہے۔ وہ ولن کا کردار بھی ادا کرتے تو ان کے چہرے پر ایک شریر سی مسکراہٹ ان کے کردار کی چھاپ کو گہرائی میں لے جاتی۔

چترالی، فارسی، اردو، پشتو اور ہندکو کی آمیزش نے ان کو ایک منفرد لہجے کا حامل بنایا۔ ان کی شخصیت پر پشاور کا غلبہ ہمیشہ طاری رہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے عزیزوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کراچی اور لاہور میں بھی زندگی کا ایک اچھا خاصہ عرصہ گزارا لیکن پشاور سے ان کی محبت عقیدت کی حد تک تھی۔ اگر کہا جائے کہ وہ اس شہر کے پیار میں خود پشاور ہو گئے تھے تو بے جا نہ ہوگا۔ ان میں پشاور کا عکس جھلکتا تھا۔

اردو کے ممتاز نغمہ نگار شاعر جاوید اختر کی ایک نظم ’یہ وقت کیا ہے؟‘ کا ایک بنیادی خیال ہے کہ کیا پتا یہ وقت ٹھہرا ہوا ہو اور یہ ہم ہوں جو گزر رہے ہوں اور سمجھ رہے ہوں کی یہ وقت ہے جو گزر رہا ہے۔

جس طرح گاڑی میں دوران سفر ہمیں لگتا ہے کہ باہر درخت قطار در قطار پیچھے کو دوڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ ہم ہوتے ہیں جو آگے کو دوڑ کر جا رہے ہوتے ہیں، درخت تو اپنی جگہ پر قائم اور ساکت کھڑے ہوتے ہیں۔

پی ٹی وی پشاور کی عمارت آج بھی اپنی جگہ پر قائم ہے۔ صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے۔ گھڑیال کی سوئیاں گھومتی رہتی ہیں۔ لوگ آتے ہیں اور جاتے ہیں۔ گھڑیال کی سوئیاں پیچھے گھما کر پھر فیوجی کلر میں لے جائیں تو وہی لوگ ملتے ہیں جو اب گزر چکے ہیں۔

رشید ناز اپنا کردار ادا کر کے پشاور سینٹر کے داخلی دروازے پر کھڑے مسکرا مسکرا کر سب کو الوداع کہہ رہے ہیں۔ جاتے جاتے باہر دیکھا تو وہ باہر کھڑے رکشہ میں سوار ہوتے ہیں۔ میں نے والد صاحب سے پوچھا یہ تو وہ خان ہیں جو اندر بہت غصہ میں گرج رہے تھے۔

والد صاحب نے مسکرا کر کہا ’نہیں بیٹا! یہ تو ڈراما ہوتا ہے۔ یہ خان نہیں ہے بے چارہ اداکار ہے۔ ڈرامے میں ان کا یہی کردار ہے۔‘

آج اپنے حصہ کا کردار ادا کرکے اب واپس گھر جا رہے ہیں۔ کل کا اداکار اور آج پشاور کا ناز چلا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ