کجا است شیخو؟ مان سنگھ؟ انار کلی!: رشید ناز، ایک عہد گزر گیا

 دربار میں شہنشاہ اکبر کی آمد کا اعلان ہوتا ہے۔ وہ آ کر بیٹھتے ہیں اور پدری شفقت لیے دھیمے لہجے میں اپنے وزیر مان سنگھ سے پوچھتے ہیں۔ ’کجا است شیخو؟‘ مان سنگھ سر جھکاتے ہیں تو اپنے شک اور اندیشوں کی بنا پر اس بار گرجدار سوالیہ آواز آتی ہے’مان سنگھ؟‘

مان سنگھ جواباً انار کی چند کلیاں دونوں ہاتھوں میں لیے انہیں شہنشاہ جلال الدین اکبر کے سامنے کر دیتے ہیں (سکرین گریب: سپریم عشق، یو ٹیوب شبنم مجید)

پی ٹی وی پشتو ڈراموں سے آغاز کرنے والے سینیئر اداکار رشید ناز ایک سال کی علالت کے بعد سوموار کی صبح اسلام آباد میں وفات پاگئے۔

یہ خبر ان کی بہو اور اداکارہ مدیحہ رضوی نے اپنے انسٹاگرام پر جاری کی۔ رشید ناز کی نماز جنازہ پشاور میں عیدگاہ چارسدہ روڈ پر تین بجے ادا کی جائے گی۔

رشید ناز کا تعلق اگرچہ خیبر پختونخوا سے تھا اور ان کی ابتدائی وجہ شہرت پشتو اور ہندکو ڈرامے تھے تاہم بہترین اداکاری کے سبب انہیں اردو ڈراموں اور فلموں میں بھی کام کرنے کا موقع ملا، جس کے لیے انہیں پشاور سے کراچی منتقل ہونا پڑا۔

رشید ناز کو ملک گیر شہرت سپریم عشق (بس عشق محبت اپنا پن)  نامی اس گانے سے ملی جسے شبنم مجید نے گایا اور شعیب منصور نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ اس گانے میں ان کی انٹری ابتدائی لمحات سے ہی بہت جاندار تھی۔ جس وقت دربار میں شہنشاہ اکبر کی آمد کا اعلان ہوتا ہے۔ وہ آ کر بیٹھتے ہیں اور پدری شفقت لیے دھیمے لہجے میں اپنے وزیر مان سنگھ سے پوچھتے ہیں۔ ’کجا است شیخو؟‘ مان سنگھ سر جھکاتے ہیں تو اپنے شک اور اندیشوں کی بنا پر اس بار گرجدار سوالیہ آواز آتی ہے’مان سنگھ؟‘

مان سنگھ جواباً انار کی چند کلیاں دونوں ہاتھوں میں لیے انہیں شہنشاہ جلال الدین اکبر کے سامنے کر دیتے ہیں۔ حیرت زدہ اور زہر خند، جس لہجے میں رشید ناز نے اب ’انار کلی‘ کا لفظ ادا کیا، باقی گانا امر ہو جانے میں اس ایک سین کا بڑا ہاتھ تھا۔

ان کے بیٹے حسن نعمان بھی والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شوبز کی دنیا میں آئے، جو ایک نجی چینل ہم نیوز کے حالیہ ڈرامے ’سنگ ماہ‘ میں بادام گل کا کردار ادا کررہے ہیں۔

شوبز کی دنیا سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے رشید ناز کی وفات پر گہرے رنج کا اظہار کیا۔ سب نے ایک ہی بات کہی کہ وہ اچھے اداکار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی ملنسار، شفیق، خدا ترس، متقی اور عمدہ انسان تھے۔

شوبز کی شخصیات کے تاثرات

خیبر پختونخوا کی ایک بہت ہی معروف ڈراما آرٹسٹ شازمہ حلیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جب انہوں نے اس شعبے میں قدم رکھا تو رشید ناز تب بھی اچھی خاصی شہرت حاصل کرچکے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ادارکاری کے فن میں اعلی صلاحیتوں کے مالک تھے یہی وجہ ہے کہ جب انہیں لگا کہ ان کا فن خیبر پختونخوا میں ضائع ہو رہا ہے تو انہوں نے لاہور اور کراچی کا رخ کیا۔

’ہم نے ایک ساتھ کئی ڈراموں میں کام کیا۔ وہ ایک اچھے ایکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نفیس انسان بھی تھے۔‘

ایک اور معروف اداکارہ نجیبہ فیض نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ رشید ناز ایک سال سے  سخت بیمار تھے، تاہم ان کی فیملی نے اس خبر کو بہت حد تک مخفی رکھا اور عوام و شوبز کے لوگوں کو زیادہ خبر نہیں ہونے دی۔ نجیبہ نے مزید بتایا کہ رشید ناز اس حوالے سے خوش قسمت تھے کہ ان کے اکلوتے بیٹے حسن نعمان نے والد کی بہت خدمت کی اور پچھلے ایک سال سے بیوی بچوں کو کراچی میں چھوڑ کر والد کے ساتھ اسلام آباد میں ان کی علاج کی غرض سے مقیم رہے۔

’حسن نے والد کی وجہ سے اپنے پراجیکٹس پر بھی سمجھوتہ کیا اور ایک سال بیوی بچوں سے دور رہے۔ سنگ ماہ کے لیے وہ بمشکل وقت نکال پائے تھے۔‘

نجیبہ فیض نے بتایا کہ انہوں نے کئی ایک منصوبے جیسے کہ فلم ’خدا کے لیے‘  ڈراما ’خدا زمین سے گیا نہیں‘ میں رشید ناز کے ساتھ کام کیا اور اس دوران انہیں مزاج اور شخصیت میں دیگر فنکاروں سے بہت ہی مختلف پایا۔

’جب میں خیبر پختونخوا سے کام کی غرض سے کراچی منتقل ہوئی تو ناز انکل نے میرا بہت خیال رکھا۔ یہی وجہ تھی کہ میرا ان کے گھر آنا جانا بھی رہتا تھا۔ میں نے انہیں کبھی کسی کی غیبت کرتے نہیں سنا۔ بلکہ ڈرامے کے سیٹ پر گیٹ اپ میں بھی نماز پڑھتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ایک بہت ہی مثبت سوچ رکھنے والے انسان تھے اور میری اور دیگر نوجوانوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے تھے۔‘

رشید ناز نے انگریزی فلم ’قندھار بریک‘ میں ایک کمانڈر کا کردار ادا کیا۔ ان کے ڈراموں میں دیدن، ناموس، غلام گردش، دوسرا آسمان، ناموس، پتھر، دشت، انکار، ودیگر شامل ہیں جن میں انہوں نے اداکاری کے جوہر دکھائے اور کئی ایوارڈ حاصل کیے۔

نجی ٹی وی چینل اے وی ٹی خیبر میں اسسٹنٹ جنرل مینیجر فہمید خان نے بھی اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ رشید ناز نے بیماری سے کچھ ہی عرصہ قبل ان کے ساتھ اٹھارہ اقساط پر مشتمل ایک پشتو ڈراما ’پیغور‘ میں کام کیا۔ یہ ’آنر کلنگ‘ کے موضوع پر تھا۔ ’یوں تو میری اور مرحوم کی شناسائی کافی پرانی تھی، جب میں نوجوان تھا اور ایک مرتبہ پی ٹی وی کی کینٹین میں ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ لیکن پیغور ڈرامہ کے دوران ہم نے بہت وقت ساتھ گزارا۔ رشید ناز وقت کے بہت پابند تھے۔ ہمیشہ سیٹ پر وقت سے پہلے ہی پہنچ جاتے تھے۔ان کو اپنے ڈائیلاگ یاد رہتے تھے، اوراس کا تسلسل وہ نہیں ٹوٹنے دیتے تھے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فہمید خان نے کہا کہ چونکہ اداکار کے خاندان نے ان کی بیماری کوچھپائے رکھا لہذا فہمید کو بھی کچھ دن قبل معلوم ہوا کہ وہ شدید بیمار ہیں۔ ’ان کو برین ہیمرج ہوا تھا، جس کے بعد ناز صاحب کوفالج ہوا اور وہ چارپائی سے لگ گئے۔ مجھے ایک دوست نے پرسوں بتایا کہ وہ شدید بیمار ہیں۔ میں نے ارادہ کیا تھا کہ ان کی عیادت کے لیے جاؤں گا، لیکن افسوس، قسمت نے اس کی مہلت نہیں دی۔‘

برطانوی ڈائریکٹر ڈیوڈ وٹنی کی فلم ’قندھار بریک‘ جس کی کچھ شوٹنگ کوئٹہ میں بھی ہوئی تھی کے سیٹ ڈیزائنر اسحق لہڑی نے بھی اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے اس فلم میں رشید ناز سے ملاقات ہوئی۔ ’وہ اس فلم میں کمانڈر کا کردار ادا کر رہے تھے۔ باوجود شوبز کی دنیا میں اتنی شہرت رکھنے کے وہ مجھ سے ایسے ملے جیسے مجھے برسوں سے جانتے ہوں۔ بڑے لوگوں کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ ان کے اندر غرور نہیں ہوتا۔ مجھے لگا ہی نہیں کہ میں اتنے بڑے ایکٹر سے بات کررہا ہوں۔‘

رشید ناز کی اہلیہ کچھ سال قبل وفات پا گئی تھیں۔ مرحوم کے سوگواران میں ایک بیٹا، ایک بیٹی، بہو اور دو پوتیاں شامل ہیں۔ ان کی وفات پر نہ صرف شوبز بلکہ شعبہ سیاست  کی شخصیات کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر تعزیت کے پیغامات جاری کیے گئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی