’پی ایس ایل پشاور زلمی ہی جیتے گی‘: زرسانگہ کی پیش گوئی

زرسانگہ کوہاٹ کے ایک نواحی علاقے میں سڑک کنارے خیمے میں آباد ہیں۔ جس میں ان کے ساتھ ان کے بیٹے اور خاندان کے دیگر لوگ رہتے ہیں۔

پی ایس ایل 7 کے لیے پشاور زلمی کا نغمہ گانے والی پشتو لوک گلوکارہ زرسانگہ کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے اس بار پی ایس ایل پشاور زلمی ہی جیتے گی۔

دہائیوں تک پشتو لوک موسیقی پر راج کرنے والی زرسانگہ کسی پرآسائش بنگلے میں نہیں بلکہ سڑک کنارے ایک خیمے میں زندگی گزار رہی ہیں۔

ان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ سے ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’پشاور زلمی کے لیے نغمہ گایا ہے اور امید ہے پاکستان سپر لیگ میں پشاور زلمی کی ٹیم ہی جیتے گی لیکن میرے حالات ایسے ہیں کہ خیمے میں رہتی ہوں جہاں پر میچز دیکھنا تو دور کی بات  ہے، بجلی بھی نہیں ہے۔‘

زرسانگہ نے بتایا: ’میں تو اب بوڑھی ہوگئی ہوں اور میرے مرنے کے بعد شاید لوگ کہیں گے کہ اتنی سریلی آواز کی مالکہ تھیں۔ لیکن میں زندگی کے آخری ایام ایک خیمے میں بسر کر رہی ہوں۔ حکومت اتنا بھی نہیں کر سکتی کہ مجھے دس مرلہ زمین دے دے تاکہ وہاں میں گھر بنا سکوں۔‘

زرسانگہ کوہاٹ کے ایک نواحی علاقے میں سڑک کنارے خیمے میں آباد ہیں۔ جس میں ان کے ساتھ ان کے بیٹے اور خاندان کے دیگر لوگ رہتے ہیں۔ یہ ایک دو کنال کی چار دیواری ہے جس کے اندر تین چار خیمے بنائے گئے ہیں جس میں زرسانگہ، ان کے بیٹے اور نواسے بھی رہتے ہیں ۔

ان خیموں میں بجلی کا کوئی انتظام موجود نہیں ہے، تاہم دو تین سولر پینلز بجلی کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔

پشاور زلمی کا نغمہ گانے کے حوالے سے انہوں نے بتایا: ’میرے بیٹے کو زلمی انتظامیہ نے بتایا کہ اس سال میں نغمے میں شامل ہوں گی تو میں نے ہاں کر دی۔‘

زرسانگہ نے بتایا کہ ’گانے کی ریکارڈنگ ہوچکی ہے۔ لیکن مجھے پتہ نہیں ہے کہ کب وہ گانا ریلیز ہو گا کیونکہ ہمارے گھر میں ٹی وی ہے نہ بجلی، تو اپنا گانا میں خود نہیں سن سکتی۔‘

زرسانگہ سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ میچز دیکھنے کی شوقین ہیں، تو جواب میں ان کا کہنا تھا: ’اس سے پہلے ہم نوشہرہ میں رہتے تھے جہاں پر آرمی والوں نے گھر دیا ہوا تھا تو وہاں ٹی وی کا بندوبست تھا اور وہاں پر میچز دیکھتی تھی۔‘

انہوں نے بتایا کہ نئے آنے والے کھلاڑیوں کے نام تو یاد نہیں لیکن عمران خان، شاہد آفریدی، وقار یونس شعیب آختر کو جانتی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب خیمے میں کون میچ دیکھے گا کیونکہ یہاں تو کوئی بھی سہولت موجود نہیں ہے۔ بچوں کے پاس موبائل فون موجود ہے تو شاید وہ اپنے فون سے میرا گانا سن پائیں گے۔‘

زرسانگہ نے موسیقی کا آغاز کیسے کیا؟

زرسانگہ کے بارے میں اگر 40،50 سال عمر کے مرد و خواتین سے پوچھیں، تو وہ ان کا کوئی نہ کوئی گانا ضرور سنائیں گے، تاہم جدید دور میں جب موسیقی میں جدت آگئی ہے اس لیے نوجوان زیادہ تر ان کے نام سے نا آشنا ہیں۔

زرسانگہ کہتی ہیں: ’اب تو کچھ بھی گائیں اور انٹرنیٹ اور دیگر موبائل اپیلیشکنز پر ایڈیٹ کریں، تو ہر کوئی گلوکار اور موسیقار ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا: ’موسیقی سیکھنے میں محنت شرط ہے اور وہی گلوکار اور موسیقار آگے جاتا ہے جو خود محنت کرتا ہے۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ فن کی دنیا میں کیسے آئیں، تو جواب میں زرسانگہ کا کہنا تھا کہ وہ چھوٹی تھیں اور اس وقت گھر والے ضلع بنوں کے ایک گاؤں میں رہتے تھے یہ تب کی بات ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ کسی پروگرام میں سہیلیوں کے ساتھ گئی تو وہاں پر موسیقی کے ایک استاد بھی موجود تھے۔ جب انہوں نے ان کی آواز سنی تو دوسرے دن وہی استاد ان کے گھر پہنچ گئے۔

زر سانگہ نے بتایا کہ ’اس استاد نے میرے والد کو بتایا کہ اس لڑکی کی آواز اچھی ہے، اس لیے میں ان کو ریڈیو لے جانا چاہتا ہوں تاکہ وہاں پر کچھ نغمے گا سکیں لیکن میرے والد نے صاف انکار کردیا۔‘

انہوں نے بتایا کہ انکار کے بعد میں نے دوبارہ اپنے والد سے کہا کہ موسیقی میرا شوق ہے، لیکن والد نے میری بات سن کر مجھے ایک تھپڑ رسید کر دیا۔ لیکن میں نے بتایا کہ میں ہر صورت جاؤں گی اور گانا گاؤں گی۔ ‘

زرسانگہ کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد میں نے ریڈیو میں نغمے گانا شروع کیے اور بعد میں راولپنڈی چلی گئی۔ جہاں پر پہلی مرتبہ ٹی وی پر گانا گایا اور اسی سے مشہور ہوگئی۔ اب پوری دنیا گھومی ہوں اور لوگوں کا بہت شکریہ کے انہوں نے ہمیشہ عزت دی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ