سوشل میڈیا، ڈسکاؤنٹ اور منشیات

انسداد منشیات فورس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہیروئن مقبول ترین نشہ ہے اور منشیات کے عادی 77 فیصد افراد اس کی لت میں مبتلا ہیں۔

سات جنوری 2022 کی اس تصویر میں پاکستانی کسٹمز حکام کو پشاور میں ضبط شدہ منشیات کا جائزہ لیتے دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں منشیات کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے اور اس کی لت میں نوجوان نسل پھنس رہی ہے۔

چرس اور کوکین کے بارے میں تو سنا ہوا تھا اور کتنے کی ملتی ہے اور کتنی آسانی سے ملتی ہے، لیکن جیسے جیسے ٹیکنالوجی میں جدت آئی ہے اسی طرح منشیات کے ڈیلر بھی اس کا استعمال کرنے لگ گئے ہیں۔

حال ہی میں نوجوانوں کے ایک گروپ سے ملاقات ہوئی۔ لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی کون کون سی منشیات استعمال کرتے ہیں، کے بارے میں بتانے میں ان کو کوئی ہچکچاہٹ نہیں تھی۔ لیکن کہاں سے لیتے ہیں اس بارے میں وہ کسی بھی قسم کی معلومات دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔

 اصل نام نہ شائع کرنے کی شرط پر اس گروپ کے کچھ نوجوان بات کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ لیکن پھر ایک اور شرط آ گئی کہ ڈیلر کا نام وہ نہ بتائیں گے اور نہ ہی دکھائیں گے۔

باقی کہانی 22 سالہ انعم (نام بدل دیا گیا ہے) کی زبانی۔

رسائی کیسے ممکن ہوتی ہے؟

’مجھے انسٹاگرام پر ایک اکاؤنٹ سے فرینڈ ریکوئسٹ آئی۔ مجھے معلوم تھا کہ اس اکاؤنٹ پر منشیات فروخت کی جاتی ہیں۔ لیکن مجھے میرے دوستوں اور ان کے دوستوں سے معلوم چلا کہ فرینڈ ریکوئسٹ بھجوانے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ کسی بھی اجنبی کو اکاؤنٹ تک رسائی نہیں دیتے۔ جو ان سے پہلے سے خرید رہا ہو اگر وہ آپ کا ریفرنس دے اور کہا کہ یہ بھی خریدے گا یا گی تو تب وہ فرینڈ ریکوئسٹ بھیجتے ہیں۔ اور اسی طریقے سے اس اکاؤنٹ سے مجھے فرینڈ ریکوئسٹ آئی۔‘

اس انسٹاگرام پیج پر کیا کچھ ملتا ہے؟

انعم کا کہنا ہے کہ ’ان کا مینیو ہے جو ان کے پیج پر ہے اور وہاں سے چیزیں دیکھ کر آرڈر کر سکتے ہیں۔ کوکین سے لے کر ویڈ، ایکسٹسی، ایل ایس ڈی وغیرہ۔ ایکسٹسی برطانیہ، جرمنی، ایمسٹرڈیم، روٹرڈیم وغیرہ سے آتی ہے اور تین سو سے چار سو گرام کی قیمت تین ہزار سے چار ہزار ہے۔‘

’پھر آئیے ویڈ کی جانب تو پانچ گرام ویڈ کی قیمت 14 ہزار ہے جب کہ پرپل کش کی قیمت 45 ہزار ہے۔ دو گرام خالص ایم ڈی ایم اے کی قیمت 20 ہزار ہے جبکہ کولمبیئن کوک بھی دستیاب ہے جو کہ تین گرام 48 ہزار کی ہے۔‘

کس صورت میں ملتی ہے؟

انعم نے کہا کہ ’تمام منشیات کھانے کی اشیا میں ہوتی ہے جیسے گمی بیئر وغیرہ۔آپ بھی سوچ رہے ہوں گے ان سب لڑکے لڑکیوں کی عمریں تو 20 سے 25 سال تک ہیں لیکن گمی بیئر کھا رہے ہیں۔ ہم نے ایک پیکٹ خریدا ہے جس میں 25 گمی بیئر ہیں اور ایک گمی بیئر میں سولہ گرام ٹی ایچ سی ہوتی ہے۔ ٹی ایچ سی میری جوانا میں ہوتی ہے۔ اس کی قیمت سات ہزار ہے۔ مجھے تو اس کا خاص نشہ نہیں ہوا لیکن دوسروں کو بڑا لطف آ رہا ہے۔‘

آرڈر کیسے کرتے ہیں؟

ان کے مطابق ’میں ان کے انسٹاگرام پیج پر جاتی ہوں اور پیغام بھیجتی ہوں کہ میں نے آرڈر کرنا ہے۔ ہم انسٹاگرام پر آرڈر نہیں کر سکتے کیونکہ انسٹاگرام اکاؤنٹ بند کر دے گا۔ اور اسی لیے انھوں نے اپنے گاہکوں کو دو غیر ملکی نمبرز بھی دیے ہوئے ہیں جن پر واٹس ایپ پر آرڈر دیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ نمبر ہم اسی صورت میں استعمال کریں گے اگر انسٹاگرام ان کا اکاؤنٹ منشیات بیچنے کے جرم میں بند کر دیں۔‘

’خیر انسٹاگرام پر میسج بھیجنے کے بعد وہ ہمیں ایک لوکل نمبر بھیجتے ہیں جس پر ہم واٹس ایپ پر آرڈر کرتے ہیں۔ ہم اس نمبر پر کال نہیں کر سکتے کیونکہ وہ سختی سے منع کرتے ہیں کہ نہ تو بات ہو گی اور نہ ہی آمنے سامنے آئیں گے تاکہ وہ بھی کسی خطرے میں نہ پڑیں اور نہ ہی ہم۔ وہ ہمیں ہمارے آرڈر کی قیمت بتاتے ہیں اور ساتھ ہی ایک ایزی پیسہ کا نمبر۔ ہم ایزی پیسہ کر کے سکرین شاٹ ان کو بھیجتے ہیں اور وہ کنفرم ہونے پر آرڈر کی ترسیل کی شروعات کرتے ہیں۔‘

آرڈر کیسے ڈیلیور ہوتا ہے؟

انعم کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے کئی بار آرڈر کیا ہے۔ آرڈر کنفرم ہونے پر وہ ایک لوکیشن بھیجتے ہیں۔ اس لوکیشن پر ہمیں کرائے کی گاڑی یا موٹر سائیکل بھیجنی ہوتی ہے۔ ہم اس ڈرائیور سے رابطے میں رہتے ہیں اور جب وہ لوکیشن کے قریب پہنچتا ہے تو ہم ڈیلر کو مطلع کر دیتے ہیں اور اپنا بندہ پیکج کے ساتھ اس لوکیشن پر بھیجتے ہیں۔ ایک بار جب پیکج ڈرائیور کے پاس آ گیا تو اس ڈیلر کا کام ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ہم اس ڈرائیور کو لوکیشن بتاتے ہیں جہاں سے اس سے پیکج لیتے ہیں۔‘

انعم کہتی ہیں کہ ’کوئی بھی پیکج اپنے گھر نہیں منگواتا بلکہ کسی بھی گلی جو سنسان رہتی ہو کی لوکیشن سے اس سے پیکج حاصل کرتے ہیں۔ اس ڈرائیور کو علم ہی نہیں ہوتا کہ اس نے ابھی ابھی منشیات ڈیلیور کی ہیں۔‘

منشیات کی کوالٹی؟

انعم کہتی ہیں کہ ’ان کے انسٹاگرام پیج پر لکھا ہے کہ جو بھی منشیات فروخت کی جاتی ہیں ان کو پہلے ریجنٹس کٹ سے ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور اس کے بعد ہی فروخت کی جاتی ہیں۔ یہ لوگ خیال بھی رکھتے ہیں۔ اگر کوئی زیادہ منشیات بھری کھانے کی اشیا کھا لے اور طبیعت ناساز ہو جائے تو چوبیس گھنٹے ان کے لوگ ہیلپ لائن پر موجود ہوتے ہیں جو ان کو بتاتے ہیں کہ اب کیا کریں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انعم کے مطابق ’اس کے علاوہ اگر کسی کو یہ اشیا کھانے سے پہلے کسی قسم کی معلومات چاہیئیں تو وہ بھی مہیا کرتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’گمی بیئر جب آرڈر کیا تو انھوں نے بتایا کہ پچیس گمی بیئر ایک پیکٹ میں ہیں اور ایک گمی بیئر میں سولہ ملی گرام ٹی ایل سی ہوتی ہے۔ ایک شخص کے لتے سات گمی بیئر کافی ہوتی ہیں یا پھر پندرہ لیکن پندرہ سے زیادہ نہیں کھانی۔ ڈیلر کے مطابق سو سے ڈیڑھ سو ٹی ایل سی کا مطلب ہے ایک نشہ آور سگریٹ۔ لیکن یہ منشیات بھری کھانے کی اشیا کا اثر سگریٹ سے مختلف ہوتا ہے۔ اس کا اثر بہت آہستہ ہوتا ہے۔‘

ڈسکاؤنٹ؟

انعم کے مطابق وہ اپنے پیج پر بتاتے رہتے ہیں کہ کون سے منشیات سے بھری اشیا آنے والی ہیں۔ دیگر دکانداروں کی طرح ان کی بھی مختلف مہم چلتی رہتی ہیں جیسے کہ ایک خریدیں اور ایک مفت، بیس سے تیس فیصد کی رعایت، ریگولر خریدنے والوں کے لیے سات سے آٹھ ہزار کی خریداری پر ایک چیز مفت دیتے ہیں۔

انسداد منشیات فورس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہیروئن مقبول ترین نشہ ہے اور 77 فیصد منشیات کے عادی افراد اس کی لت میں مبتلا ہیں۔ منشیات کی دنیا میں قدم رکھنے والوں کا آغاز چرس سے ہوتا جو سستی بھی ہے اور باآسانی دستیاب بھی ہے۔

گذشتہ سال شائع ہونے والی رپورٹ ’Causes of drug abuse among university students in Pakistan‘ کے مطابق 96 فیصد نوجوان لڑکے اور لڑکیاں منشیات کی ابتدا اپنے دوستوں اور سماجی طور پر مقبول اور لڑکے اور لڑکیوں کے گروپ میں داخل ہونے کے لیے کرتے ہیں۔ 90 فیصد نوجوان پڑھائی کے شدید دباؤ اور 88 فیصد تجسس کے باعث کرتے ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 76 لاکھ ہے جن میں زیادہ تر تعداد نوجوانوں کی ہے۔ اس میں 78 فیصد مردوں کی ہے جبکہ 22 فیصد لڑکیاں ہیں۔ منشیات کی لت میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد میں ہر سال 40 ہزار کا اضافہ ہو رہا ہے جو کہ بہت ہی تشویشناک اعداد و شمار ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ضرورت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ چلیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے منشیات کے پھیلاؤ پر نظر رکھیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ