حاجت خانے کا لوٹا، چھوٹی زنجیر اور میر واہ کی راتیں

نذیر آخر کار شمیم کو چائے پلاکر پیالی میں اتارنے میں کامیاب ہوگیا۔ مجھے پہلے ہی چائے کی طلب ہو رہی تھی نذیر کو ریلوے سٹیشن پر چائے کی پیالی میں محبتیں گھولتا دیکھ کر یہ طلب شدت اختیار کرگئی۔

عبقری شاعر، افسانہ نگار، ناول نگار اور ڈرامہ نویس رفاقت حیات سے گھریلو قسم کی ملاقات مدت سے ادھار تھی۔ اتفاق سے یہ ملاقات اسی دن ہوپائی جس دن انڈپینڈنٹ اردو میں میری پچھلی ریل کہانی شائع ہوئی۔

رفاقت حیات کے لیے یہ تحریر اس لیے بھی دلچسپ تھی کہ ایک تو وہ ضلع نوشہرو فیروز کے قصبے محراب پور میں پیدا ہوئے، دوسرا وہ ’میر واہ کی راتیں‘ نامی ناول کے مصنف ہیں۔

محراب پور میں ان کا بچپن ریلوے سٹیشن ہی کے آجو باجو اچھل کود میں گزرا اور ’میر واہ‘ کے مرکزی کردار نذیر ریل ہی کے سفر میں شمیم نامی ایک پردہ نشین خاتون  کی آنکھوں پر مرمٹا تھا۔

میں نے رفاقت حیات کی شیلف میں موجود ناول کا یہ آخری نسخہ اس لیے اٹھا لیا کہ ریل  کے سفر میں جس معاشقے کی بنیاد پڑی اسے ریل ہی میں پڑھنے کا لطف لیا جانا چاہیے۔

اسلام آباد واپسی کا سفر ہمیں ’رحمن بابا ایکسپریس‘ سے درپیش تھا۔ ہماری روانگی صبح دس بجے تھی اور سوا نوبجے ایک ٹرین پلیٹ فارم پر آکر رک گئی۔ گمان ہوا کہ رحمن بابا ایکسپریس ہے۔ مگر اٹھتے قدم اس لیے رک گئے کہ اس پر جلی حروف میں ’خیبرمیل‘ لکھا ہوا تھا۔

ہمارے برابر میں بھی ایک خاتون نے بھاگ کر اسی ریل میں سوار ہونے کی کوشش کی مگر ان کے ساتھ بزرگ نے آواز دی، بیٹھ جاؤ بیٹھ جاؤ یہ تو خیبر میل ہے۔

خاتون بچوں سمیت اطمینان سے واپس خستہ شکستہ بینچ پربیٹھ گئی۔ میرے اطمینان کا عالم تو یہ تھا کہ پلیٹ فارم پر واقع نیشنل بک فاؤنڈیشن کی گرد آلود دکان کے شیشے میں جھانکا تانکی شروع کردی۔ لکڑی کا بنا یہ کھوپچہ کتابوں سے تقریبا بے نیاز تھا اور جو کتابیں تھیں وہ زیادہ تر اوراد ووظائف پر مشتمل تھیں۔

مجھے راولپنڈی سٹیشن میں واقع نیشنل بک فاؤنڈیشن ہی کی دکان یاد آگئی جہاں ادب، فلسفے اور تاریخ کے حوالے سے خاصا معتبر لٹریچر دستیاب ہوتا ہے۔

پنڈی اور کراچی کی اس ادبی مسافت کو ماپ رہا تھا کہ خیال آیا روانگی میں کچھ ہی دیر رہ گئی ہے اور رحمن بابا ایکسپریس ابھی تک آئی نہیں؟ سوچا کہ رسم کے مطابق تاخیر کی شکار ہوگی مگر ساتھ ہی خیال آیا کہ کسی سے پوچھ لیا جائے۔

آتے جاتے جس بھی قلی سے پوچھا، اس نے خیبر میل کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ یہی رحمن بابا ہے۔ اس ٹرین پر درج تمام فقرے ہندسے پڑھ لیے، سب مل گیا رحمن بابا لکھا ہوا کہیں نہ ملا۔

خلقِ خدا کی گواہی کو ہی وقت کا نقارہ جانتے ہوئے ہم جھٹ پٹ سوار ہوگئے۔ ٹی ٹی کے آنے تک یہ دھڑکا رہا کہ بہت بے آبرو ہو کر اس کوچے سے نکلنا پڑسکتا ہے۔ ٹی ٹی نے ٹکٹ سے مطمئن ہوکر ٹکٹ واپس کیے تو ہی دلِ ہنگامہ جُو کو قرار آیا کہ ہاں ہم ’رحمن بابا ایکسپریس‘ پرہی سوار ہیں۔

گھنٹہ بھر کے سفر کے بعد ایک اہلکار سے پانی کا تقاضا کیا تو جواب آیا، پانی تو نہیں ہے، حیدرآباد گاڑی رکے گی، وہاں سے مل جائے گا۔

کسی کروٹ اطمینان نصیب نہیں ہوا تو اہلکار کو آواز دے کر چادر تکیے کا تقاضا کیا۔ جواب آیا، چادر تکیے تو اس ٹرین میں نہیں ہوتے۔ حیرت سے کبھی اہلکار کو گھوروں  کبھی دیوار و در کو دیکھوں۔ رات کے آنے میں ابھی وقت تھا مگر یہ اندیشہ ابھی سے لاحق ہوگیا کہ اس بے سروسامانی میں رات کیسے بسر ہوگی۔

دل میں ’اللہ مالک ہے‘ کہا اور ایک بیگ سرہانے رکھتے ہوئے رفاقت حیات کا ناول ’میر واہ کی راتیں‘ اٹھا لیا۔ ناول کے اہم کردار کو بذریعہ ٹرین سفر درپیش ہوا تو ٹرین میں سوار قاری کی دلچسپی میں اضافہ ہونے لگا۔ بات اور بھی دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگئی جب نذیر کی آنکھیں پڈعیدن سٹیشن پر ایک نقاب پوش خاتون شمیم سے چار ہوگئیں۔

نذیر نے شمیم تک پہنچنے کے لیے سٹیشن پر موجود چائے بیچنے والے جوان کا تعاون حاصل کیا۔ نذیر نے کامیاب سفارت کاری کے لیے چائے کا استعمال کیا۔ تقریبا اُس شعر جیسی صورت حال پیدا ہوگئی تھی جو بھارتی پائلٹ ابھینندن کی گرفتاری پر کسی ستم ظریف نے تخلیق کیا تھا:

دل کی سرحد کو کراسو کبھی دشمن کی طرح
ہم تمہیں چائے پلائیں ابھی نندن کی طرح

شاعر نامعلوم سا ہے مگر پہلی بار میں نے یہ شعر ایم کیو ایم کے خوش ذوق و خوش گفتار رہنما فیصل سبزواری سے سنا تھا۔

نذیر آخرکار شمیم کوچائے پلا کر پیالی میں اتارنے میں کامیاب ہوگیا۔ مجھے پہلے ہی چائے کی طلب ہو رہی تھی نذیر کو ریلوے سٹیشن پر چائے کی پیالی میں محبتیں گھولتا دیکھ کر یہ طلب شدت اختیار کرگئی۔

کہانی میں محو تھا کہ ٹرین کے پہیوں کی رفتار کم ہوتی گئی اور چرچراہٹ کے بعد جھٹکے سے ٹرین رک گئی۔ یکایک انہماک ٹوٹنے پر کھڑکی سے باہرجھانکا تو لکڑی کے ایک تختے پر ’پڈعیدن سٹیشن‘ لکھا ہوا دکھائی دیا۔

اب اس سے اچھی بات کیا ہوسکتی تھی کہ نذیر نے جس سٹیشن پر چائے کاری کی، اسی سٹیشن پر آپ کو چائے سڑکنے کو مل جائے۔ جھٹ سے دروازے کی طرف گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آگے تو ایک ویران دنیا ہے جس میں تپتی ہوئی دھول اڑ رہی ہے۔

اتر کر کہیں پیر جمانے کی گنجائش ہی نہیں تھی۔ باہر جھانک کر دیکھا تو دور ایک چھوٹا سا سٹیشن ہے مگر وہ بھی کسی اجڑے دیار جیسا۔ اہلکار نے بتایا، یہ کبھی بہت بڑا سٹیشن ہوتا تھا مگر اب ویران ہوگیا ہے۔ ابھی ٹرین یہاں اس لیے رکی ہے کہ آگے سے دوسری ٹرین آرہی ہے۔

اپنی ناتمام حسرت پر سرد سی آہ بھرتے ہوئے اہلکارسے پوچھا چائے تو ہوگی ٹرین میں؟ جواب آیا، چائے چھوڑیں اس ٹرین میں تو کھانے پینے کی سہولت بھی نہی۔ بے اختیار میرے منہ سے نکلا، کیا مطلب؟ جی سائیں اس گاڑی میں ڈائننگ والی بوگی ہی نہیں۔ تو اب کھانے کا کیا کرنا ہوگا؟ کھانا تو روہڑی سٹیشن پر ملے گا، یعنی روہڑی سٹیشن پر اتر کے کھانے کا بندوبست کرنا پڑے گا؟ جی ہاں!

سر پیٹتا ہوا اپنے کُپے میں آکر بیٹھ گیا۔ اب تو ناول کھولنے کا من بھی نہیں تھا کہ اس کربلائی ماحول میں نذیر اور شمیم کو مزید چائے پیتا دیکھنا خود اذیتی کے سوا کچھ نہیں تھا۔

بھوکے پیاسوں اور چائے کے ماروں کو اب روہڑی سٹیشن کا ہی آسرا تھا۔ روہڑی سٹیشن کے لیے پلان یہ تھا یہاں واقع ایک بہت معتبر کتب خانے میں اچھی کتابیں دیکھ کر اپنا دل جلاؤں گا اور شاعر دوست حفیظ تبسم کے لیے انیس ناگی کی کتابیں خریدوں گا۔

حفیظ تبسم نے کہا تھا کہ یہ دکان انہیں دو برس سے بند مل رہی ہے سو آپ ہی کچھ کیجیے۔ روہڑی سٹیشن پر گاڑی بیس منٹ کے لیے رکی۔ بیس منٹ کے اس عرصے میں اتنا وقت بھی نہیں تھا جو یہ سوچنے پر ضائع کیا جائے کہ پہلے کتب خانے جایا جائے کہ باورچی خانے۔

سوچنے پر وقت  ضائع کرنا اس لیے بھی حماقت تھا کہ پوری ٹرین کے مسافر سٹیشن پر موجود چار ڈھابوں پر ٹوٹ پڑے تھے۔ یہ قیامتِ عظمی کا ایک منظر تھا جس میں بھائی بھائی کا نہ تھااور اولاد ماں کی نہ تھی ۔

میں نے ’جان ہے تو جہان ہے‘ پر عمل کرتے ہوئے حفیظ تبسم کے حکم سے سرمو انحراف کیا اور ڈھابے کی طرف بڑھ گیا۔ مجھ جیسے کاہلوں کی شنوائی ہونے تک کوچوان نے آہنی گھوڑے کو ایڑ لگانا شروع کردی تھی۔

اس دھکم پھیل میں کسی کے بقایا پیسے رہ گئے، کسی کی کچھ پلیٹیں رہ گئیں اور کچھ کی تو رکعتیں بھی رہ گئیں۔ چوکس اور فوکس تو بس دوچار ہی تھے، جنہیں خدا اور صنم دونوں مل گئے۔ میں ان میں سے تھا جسے تنگیِ وقت نے بقایا پیسے لینے کا موقع نہ دیا۔ دکھ  مگر اس بات کا تھا کہ چائے کی حسرت یہاں بھی ناتمام ہی رہ گئی۔ محرومی کا احساس اس قدر شدت اختیار کرگیا کہ مجھے اپنا آپ باقاعدہ بلوچستان محسوس ہونے لگا۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ میں نے اسلام آباد سے کراچی جانے کے لیے بھی رحمن بابا ایکسپریس ہی کے ٹکٹ لینے کی کوشش کی تھی۔ یہ جان کر آپ کی حیرت مزید بڑھ جائے گی کہ یہ کوشش میں نے آرام دہ سفر کے لیے کی تھی۔

کہانی یوں ہے کہ مجھے بتایا گیا کہ رحمن بابا ایکسپریس بالکل نئی ٹرین ہے جس کا حال ہی میں آغاز ہوا ہے۔ اس میں دستیاب سہولیات گرین لائن سے بھی زیادہ ہیں۔ اس بات پر یقین اس لیے بھی کیا کہ رحمن بابا ایکسپریس کا ٹکٹ گرین لائن سے بھی مہنگا پڑ رہا تھا۔ رحمن بابا کا ٹکٹ نہیں ملا تو دو سیڑھی نیچے اتر کر گرین لائن کے ٹکٹ  مل گئے۔

خدا عمار کو سلامت رکھے کہ اس کی کوششوں سے واپسی کے لیے بدقسمتی سے رحمن بابا ایکسپریس کے ٹکٹ مل گئے۔ جاتے ہوئے چائے پانی، تکیہ چادر، دال دلیہ ، ٹی وی اخبار اور جاڑو پوچا ساری سہولیات میسر تھیں۔

میں سوچ رہا تھا کہ جب سستے میں یہ سب مل رہا ہے تو مہنگی ٹرین تو بار بار اس خیال پر مجبور کردے گی کہ اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ !

میں سوچتا رہا کہ اس ٹرین کی یہ بے نیازی جو حد سے گزری ہوئی ہے اس کی آخر کیا وجہ ہوسکتی ہے۔ اچانک دھیان رحمن بابا اور ان کی تعلیمات کی طرف چلا گیا۔ گرین لائن سے تو شادابی کا ہی خیال آنا چاہیے مگر رحمن بابا کا نام سن کر آسائش و آرائش کا خیال کیونکر آسکتا ہے۔

ٹرین کی حالت دیکھ کر یقین ہوچلا کہ ہو نہ ہو رحمن بابا کی درویشی اور فلسفہ ِ بے ثباتی سے متاثر ہوکر ہی اس ٹرین کو رحمن بابا سے منسوب کیا گیا ہوگا۔ کہا جا سکتا ہے کہ کھانے کی سہولت سے اس لیے محروم رکھا گیا ہو کہ موت اور آخرت کا خیال ہر گام رہے۔

پانی کی سہولت اس لیے نہیں تھی کہ شہدائے کربلا پر جو گزری وہ ہر دم سامنے رہے۔ چادر تکیے کی سہولت اس لیے نہیں دی گئی کہ ائیرکنڈیشنڈ ڈبے میں ہوتے ہوئے بھی خیال آتا رہے کہ بیشک انسان خسارے میں ہے۔

صفائی کا اہتمام اس لیے نہیں تھا کہ اس بات کا احساس رہے کہ دنیا کی حیثیت تارِ عنکبوت سے زیادہ کچھ نہیں اور یہ کہ انسان نے بالآخر اس سے بھی زیادہ مٹی میں اترجانا ہے جو اس وقت ٹرین کے ڈبے میں موجود ہے۔

خانقاہوں اور آستانوں پر دنیا کی بے ثباتی کا یقین دلاتے ہوئے مرشدوں کو سالہا سال لگ جاتے ہیں، مگر رحمن بابا ایکسپریس نے معرفت کی یہ بات چوبیس گھنٹوں میں سمجھا دی۔ اس حساب سے مجھے حیرانی ہے کہ محکمہ ریلوے نے گرین لائن کے مقابلے میں دوچار پیسے ہی اوپر کیوں رکھے؟

اگر اس ٹرین کو رحمن بابا سے منسوب کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک بڑے شاعر گزرے ہیں تو تکنیکی طور پر یہاں مجھے ایک اختلاف ہے۔ اس ٹرین کے مصرعے جس درجہ بے جوڑ اور قافیہ وردیف جس قدر بے ربط تھے، اس حساب سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ ٹرین آزاد نظم جیسی بھی نہیں بلکہ مادر پدر آزاد نظم جیسی تھی۔

پوری ٹرین میں جو واحد چیز پابند تھی وہ حاجت خانے کا لوٹا تھا جس کی زنجیر چھوٹی بحر میں کہی گئی کسی غزل کے مصرع جیسی تھی۔ اِس واحد پابند چیز کی وجہ سے پوری مادر پدر آزاد ٹرین کو پابند کلام کہنے والے رحمن بابا سے منسوب کرنا نری بدذوقی اور کج فہمی ہے۔ رحمن بابا سے اس ٹرین کی نسبت جوڑنا ان گرما گرم شعرا کی حق تلفی بھی ہے جوابھی ابھی توے سے اترے ہیں!

 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ