’ماہواری کے دوران سمیئر ٹیسٹ کے لیے وقت نہ لیں‘

ڈاکٹر ربیکا شوسمتھ اور دیگر ڈاکٹروں کے مطابق رحم میں سرطان کے خلیوں کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے سمیئر ٹیسٹ ناقابل یقین حد تک سادہ، تیز رفتاراور ہر جھنجٹ سے پاک ہے۔

کچھ خواتین کو یہ خوف ہوتا ہے کہ ان کا معائنہ کوئی مرد ڈاکٹر کرے گا جبکہ بعض خواتین کو ٹیسٹ کے نتیجے کی پریشانی ہوتی ہے(اے ایف پی)۔

رحم میں سرطان کے خلیوں کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے مخصوص ٹیسٹ کوعام طور سمیئر ٹیسٹ (smear test) کہا جاتا ہے۔

ٹیسٹ کی خاطر ہسپتال جانا جہاں کسی خاتون کے لیے اہم اور ضروری تجربہ ہوتا ہے، وہیں اس حوالے سے کافی ابہام بھی پایا جاتا ہے کہ دراصل یہ ٹیسٹ ہوتا کیا ہے ؟

کچھ خواتین کو یہ خوف ہوتا ہے کہ ان کا معائنہ کوئی مرد ڈاکٹر کرے گا جبکہ بعض خواتین کو ٹیسٹ کے نتیجے کی پریشانی ہوتی ہے۔

برطانیہ میں ایک تازہ جائزے سے پتہ چلا ہے کہ ہر تین میں سے ایک خاتون خوف کی وجہ سے سمیئر ٹیسٹ کے سلسلے میں ڈاکٹر سے طے شدہ ملاقات کے لیے نہیں جاتی۔

درحقیقت برطانیہ میں اس وقت سمیئر ٹیسٹ کے لیے جانے والی خواتین کی تعداد گذشتہ 19 برس میں سب سے کم ہے۔ سکاٹ لینڈ اور ویلزمیں 10 برس میں اس ٹیسٹ کے لیے جانے والی خواتین کی تعداد سب سے کم ہے۔

تمام طبی ٹیسٹوں کی طرح رحم کے معائنے کے دوران گھبرانے والی کوئی بات نہیں ہوتی۔ خاص بات یہ ہے کہ سمیئر ٹیسٹ ناقابل یقین حد تک سادہ، تیز رفتاراور ہر جھنجٹ سے پاک ہے۔ سمیئر ٹیسٹ کیا ہوتا ہے آپ کو بتاتے ہیں۔

ٹیسٹ کے لیے وقت لیں

آپ کو اپنی سہولت کے مطابق مقامی ہسپتال میں کال کرکے وقت لینا ہوگا۔

برطانیہ میں خیراتی ’جوز سروائیکل کینسر ٹرسٹ ‘ میں شعبہ سپورٹ سروسز کی سربراہ ڈاکٹر ربیکا شوسمتھ نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ اگر ایک خاتون کو ماہواری باقاعدگی سے آتی ہے تو کوشش کریں کہ اس دوران ٹیسٹ کے لیے وقت نہ لیں کیونکہ ماہواری کے دوران رحم کے خلیوں کا نمونہ لینا مشکل ہو جائے گا۔

سمیئر ٹیسٹ سے 24 گھنٹے پہلے کوئی مانع حمل کریم یا کوئی اور مرہم استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے ٹیسٹ کے نتائج متاثر ہوں گے۔

ڈاکٹر ربیکا شوسمتھ کہتی ہیں کہ سمیئر ٹیسٹ والے دن کوئی خاص لباس پہننے کی ضرورت نہیں، بس وہی لباس پہنیں جو آپ کے لیے آرام دہ ہو۔

ہسپتال آمد کے بعد

ڈاکٹر ربیکا شوسمتھ مزید بتاتی ہیں کہ سمیئر ٹیسٹ کے لیے ہسپتال آمد کے بعد نرس کو رحم کی سکرینگ کے بارے میں بتانا چاہیے۔ اس دوران آپ کو سوال کرنے کا موقع ملے گا۔

خواتین کے امراض کے ہسپتال ’لندن گائناکالوجی‘ کی کنسلٹنٹ مس میگ ولسن کے مطابق آپ کو معائنے لیے رکھے گئے تمام آلات پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ ان آلات میں ’سپیکولم‘ (Speculum ) ( رحم کے معائنے کے لیے پلاسٹک یا دھات سے بنا ٹیوب کی شکل کا آلا )، تیل ( سپیکولم کو رحم تک لے باآسانی لے جانے کے لیے )، ایک چھوٹا صاف برش اور ایک مخصوص باکس ہوگا جس میں رحم کے خلیے محفوظ کیے جاتے ہیں۔

سمیئر ٹیسٹ کی تیاری

ڈاکٹر میگ ولسن نے دی انڈپینڈنٹ کو مزید بتایا کہ ٹیسٹ سے پہلے آپ کو کمر کے گرد مخصوص چادرلپیٹنے کے لیے وقت دیا جائے گا۔ اس کے بعد آپ کو ایسی حالت میں لیٹنے کے لیے کہا جائے گا جس میں آپ آرام محسوس کریں۔ یہ پوزیشن کمرکے بل ہوسکتی ہے لیکن بعض خواتین ایک بازو نیچے اور دوسرا اوپر کی طرف کرکے لیٹنا پسند کرتی ہیں۔

سمیئر ٹیسٹ بذات خود

ڈاکٹر ربیکا شوسمتھ نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ آپ کو ٹیسٹ کے وقت کے بارے میں بتایا جائے گا۔ جب آپ تیار ہوں گی تو ایک صاف ’سپیکولم‘ آپ کے رحم میں داخل کر دیا جائے گا۔ سپیکولم رحم کے معائنے میں مدد دیتا ہے۔

یہ عمل آپ کے لیے بے آرامی کا سبب تو ہو سکتا ہے لیکن تکلیف دہ نہیں ہونا چاہیے۔ نرم برش کا استعمال کرتے ہوئے تیزی کے ساتھ آپ کے رحم کے خلیوں کا نمونہ لے لیا جائے گا۔ اس کے بعد سپیکولم ہٹا لیا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آپ کے رحم سے لیے گئے خلیوں کا نمونہ مخصوص باکس میں موجود مائع میں محفوظ کرلیا جائے گا۔ یہ نمونہ کسی بھی قسم کی بے قاعدگی کا پتہ لگانے کے لیے لیبارٹری بھیجا جائے گا۔

سمیئرٹیسٹ کے حوالے سے کسی پریشانی کی صورت میں معلومات

ڈاکٹر ربیکا شوسمتھ کہتی ہیں کہ سمیئر ٹیسٹ کے دوران کسی مرحلے پر تکلیف محسوس ہونے کی صورت میں آپ نرس کو ٹیسٹ روک کر چھوٹے سپیکولم یا دوسری صنف کے نرس کا کہہ سکتی ہیں۔

ٹیسٹ کے لیے آپ اپنے ساتھ اعتماد کے فرد کو بھی لا سکتی ہیں جو کوئی دوست، خاندان کا رکن یا کوئی دوسرا ہو سکتا ہے۔

یہ جاننا اہم ہے کہ آپ کو ٹیسٹ پر مکمل کنٹرول حاصل ہو۔ آپ ٹیسٹ کو اپنے لیے آسان بنا سکتی ہیں۔

اس کے بعد کیا ہوگا ؟

برطانیہ میں نیشنل ہیلتھ سروسز کی ویب سائٹ کے مطابق رحم کی سکریننگ کے نتیجے میں خون کا معمولی اخراج یا رحم کی دیواروں پر نشان پڑنا معمول کی بات ہے، جس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ خواتین چاہیں تو خون جذب کرنے کے لیے سینیٹری پیڈ یا زیر جامہ استعمال کر سکتی ہیں۔

ٹیسٹ کے نتائج کا حصول

رحم کے ٹیسٹ کے نتائج 3 طرح کے ہو سکتے ہیں۔

نارمل رپورٹ

بہت سی خواتین کے ٹیسٹ کے نتائج معمول کے ہوتے ہیں۔ اس مطلب ہوتا ہے کہ مزید کسی ٹیسٹ کی ضرورت نہیں اوراگلا ٹیسٹ تین سے پانچ برس بعد کیا جانا چاہیے۔

غیرتسلی بخش نتائج

سمیئرٹیسٹ کا نتیجہ غیر فیصلہ کن ہونے کی صورت میں تین ماہ میں ایک اور ٹیسٹ کے لیے بلایا جاتا ہے۔

معمول سے ہٹ کر نتائج

سمیئرٹیسٹ کا نتیجہ معمول سے ہٹ کر آنے کی صورت میں اگلا مرحلہ ایک اور ٹیسٹ ’کولپو سکوپی‘ ہو سکتا ہے۔ علاج نہ ہونے کی صورت میں رحم کے ’غیرمعمولی‘ خلیے سرطان میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

یہ خلیے جنسی تعلق سے منتقل ہونے والے عام وائرس ’ایچ پی وی‘ کی موجودگی کی نشاندہی بھی کرسکتے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ایچ پی وی جنسی عمل کے بغیر بھی جسم میں منتقل ہو سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت