اب ناظرین فلم کے دوران اشتہارات سے بچ نہیں سکیں گے

امریکی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’مووی پاس‘ ناظرین کے چہرے اور آنکھوں پر نظر رکھنے کی ٹیکنالوجی استعمال کرے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ صارفین اشتہار چلنے پر سکرین سے نظریں نہ ہٹائیں۔

چھ مئی، 2004 کی اس تصویر میں نیویارک کے ایک سینیما میں شائقین ٹی وی کی مشہور سیریز فرینڈز کی آخری قسط دیکھ رہے ہیں(اے ایف پی)

صارفین کو سستی فلمیں دیکھنے کی سروس فراہم کرنے والا امریکی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’مووی پاس‘، جو 2019 میں بند ہو گیا تھا، اب ایک ایسی ایپ کے طور پر واپس آرہا ہے جو اشتہارات کے دوران صارفین کی آنکھوں کو ٹریک کرے گا۔

یہ نئی سروس چہرے کی شناخت اور آنکھوں سے باخبر رہنے کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرے گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ صارفین کی نظریں فلموں تک رسائی کے بدلے اشتہاراتی مواد کو دیکھ رہی ہوں۔

ٹیکنالوجی میگزین ’مدر بورڈ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق کمپنی کے شریک بانی سٹیسی سپائکس نے اس بارے میں بتایا: ’یہ اس لوپ کو بند کرنے اور سسٹم کو کہیں زیادہ موثر بنانے کا ایک طریقہ ہے۔

’میں اسے مفت میں دیکھنا چاہتا ہوں لیکن اشتہارات دینے والوں نے شو سے پہلے ہی شرائط عائد کی ہیں جو اس جیسا نہیں جیسا آپ عام طور پر کوئی فلم تھیٹر میں جا کر دیکھتے ہیں۔ لیکن یہ آپ کے لیے اپنی مرضی کے مطابق دکھائے جائیں گے۔‘

یہ ٹریکنگ صرف صارف کی ڈیوائس پر ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے ہوگی اور پھر یہ ورچوئل والٹ میں جمع ہو جائے گی۔

اس کے لیے فونز کے کیمروں کا استعمال کرتے ہوئے چہرے کی شناخت کا الگورتھم اس بات کو یقینی بنائے گا کہ صارف اشتہار کو نظر انداز نہیں کر رہا۔

’جیسا کہ میں انہیں (اشتہارات کو) دیکھ رہا ہوں تو یہ فلم چلتی رہے گی لیکن اگر میں ایسا نہیں کرتا اور میں اس پر توجہ نہیں دیتا تو یہ مواد (فلم) کا چلنا جاری نہیں رہے گا۔‘

ان کے بقول: ’ہمارے پاس اس کا ابتدائی ورژن تھا لیکن آپ جانتے ہیں کہ کیا ہوا۔ لوگ (اشتہارات کے دوران) فون نیچے رکھ کر چلے گئے اور ان پر کوئی توجہ نہیں دی۔

’اس وقت 70 فیصد ویڈیو اشتہارات نہیں دیکھے جاتے۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس سے نہ صرف اشتہارات دینے والوں کو مطلوبہ نتائج ملتے ہیں بلکہ آپ خود بھی فائدہ حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔‘

مستقبل میں لوگ مووی پاس ایپ کے ذریعے ان مصنوعات کو خرید سکیں گے اور مزید فلمیں دیکھنے کے لیے مزید کریڈٹ حاصل کر سکیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی موسم گرما میں دستیاب ہوگی۔

مووی پاس سبسکرپشن کی قیمتوں میں کمی کے دو سال بعد ستمبر 2019 میں بند ہو گیا تھا۔ اس کے تحت صارفین کو صرف 10 ڈالرز ماہانہ میں روزانہ ایک فلم کا ٹکٹ خریدنے کی سہولت ملتی تھی۔

یہ فیصلہ کمپنی کے مالی نقصان کو روکنے کے لیے تجزیاتی فرمز Helios اور Matheson کی جانب سے کمپنی کے اکثریتی شیئیرز خریدنے اور سپائیکس کی برطرفی کی صورت میں سامنے آیا۔

سپائکس نے کہا کہ نیا مووی پاس ورژن ویب تھری ٹیکنالوجی استعمال کرے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ویب تھری کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ بلاک چین ٹیکنالوجیز جیسے کرپٹو کرنسیز اور این ایف ٹیز سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے جو انٹرنیٹ کی اگلی ضرورت بن جائے گی۔

دیگر اسے منافع کے شوقین سرمایہ داروں کی طرف سے طاقت پر قبضہ کرنے کے طور پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

ویب تھری کی جانب سے دعوی کیے گئے فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ صارفین ڈیجیٹل سروس کو چلانے کے طریقے پر اختیار رکھتے ہیں۔

مووی پاس اس کے ذریعے صارفین کو کمپنی کی جزوی ملکیت اور زندگی بھر کی سبسکرپشن سمیت سب سے زیادہ پریمیم مواد رکھنے کے قابل بنائے گا۔

جیسا کہ سپائکس نے کہا کہ وہ کاروبار کو ’کوآپریٹیو‘ کی طرح چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی فلم