ڈیم فنڈ، مسخرے اینکر اور غدار مخالف

معاشرہ شدت پسند بنتا جا رہا ہے کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد۔ اختلاف رائے کو ملک دشمنی کے مساوی اور دلیل کو قومی مکالمے سے مکمل طور پر خارج کرنے کی بھرپور کوششیں ہو رہی ہیں۔

(اے ایف پی)

پاکستان میں پچھلی ایک دہائی سے ایک طوفان بدتمیزی پھیلا ہوا ہے جس میں مخالفین کو مرتد، غدار، تشدد پسند، را کا ایجنٹ، قادیانی، منکر ختم نبوت اور نہ جانے کیسے کیسے نام دیے جا رہے ہیں۔ پورا معاشرہ ایک شدت پسند معاشرہ بنتا جا رہا ہے۔ مختلف رائے کو ملک دشمنی کے مساوی اور دلیل کو قومی مکالمے سے مکمل طور پر خارج کرنے کی بھرپور کوششیں ہو رہی ہیں۔ نفرت اور تقسیم نے مروت اور اتفاق کی جگہ لے لی ہے۔

 اس سلسلے کو کچھ مسخرے ٹی وی اینکرز، نام نہاد دانشور، مذہبی متعصب کٹر پسند، جمہوریت دشمن اور بکاؤ قلم کار ہوا دے رہے ہیں۔ آپ ان کی زبان سنیے، ان کے الفاظ پڑھیے تو ایسا لگتا ہے کہ انہیں نہ شائستگی، معاشرتی استحکام اور نہ ہی ملکی سلامتی سے کوئی دلچسپی ہے۔ انہیں دلچسپی صرف اتنی ہے کہ وہ کتنی بڑی گالی کتنے زور و شور سے دے سکتے ہیں۔ اس انتہا پسندی کی دوڑ میں ہماری سیاسی جماعتیں، مقتدر قوتیں اور انصاف کے ادارے اپنا حصہ بقدر جثہ ڈال رہے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور قوتوں کے سوشل میڈیا پر نظر ڈالیں تو آپ کو اس میں مخالفوں کے لیے ننگی گالیوں سے لے کر غدار تک کے القابات نظر آتے ہیں۔

افسوس اس بات کا ہے کہ یہ سب قوتیں جان بوجھ کر اس سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور دانستہ نظر اندازی سے کام لے رہی ہیں۔ حکومتی وزرا آئین کی سربلندی اور قانون کی بالادستی کی بات کرنے کی بجائے 5000 پاکستانیوں کو قانونی عمل سے گزارے بغیر جان سے مارنے کی بات کرتے ہیں۔ کچھ پیشہ ور لکھاری جو اس نظام سے فائدہ حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں اس نظام کو ’تیزاب سے غسل‘ کی باتیں سرعام ٹی وی پر کر رہے ہوتے ہیں اور پیمرا خاموش رہتا ہے۔

ایک اینکر نے ریحام خان کے خلاف ٹی وی پر کھلے عام غلیظ زبان استعمال کی لیکن انہیں یہ کہنے سے کوئی روک نہ سکا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ کچھ عرصہ پہلے اسی خاتون کو پاکستان کی دوسری فاطمہ جناح کہتے رہے اور ان سے زیادہ نیک، مذہبی اور ایمان کے اعلیٰ درجہ پر فائز کوئی اور خاتون نہیں تھی۔ یہی اینکر کلثوم نواز کی رحلت پانے سے قبل کہتے رہے کہ وہ حقیقت میں فوت ہو چکی ہیں اور شریف خاندان اس خبر کو انتخابات تک چھپائے رکھے گا۔ یہ کس قسم کا رویہ تھا جو ان اینکرز نے فروغ دیا اور انہیں کیسے پیمرا نے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ قوتیں جو کہ پیمرا سے بھی طاقتور تھیں، چاہتی تھیں کہ اس قسم کی غلط اطلاعات کی مہم جاری رہے۔

بہت سارے اینکرز نے مذہب کا سہارا لے کر مخالفوں کے لیے کفر کے فتوے جاری کیے۔ لبیک جیسی قوتوں کو شہ دی گئی کہ وہ حکومت کی مشکلات میں اضافہ کریں۔ کچھ اینکرز کی ذمہ داریوں میں یہ شامل تھا کہ جمہوریت کا مسلسل مذاق اڑایا جائے اور عوام میں یہ شعور پیدا کیا جائے کہ جمہوریت کی بجائے آمریت میں ہی اس قوم کی بقا ہے اور ہمارے تمام مسائل کی جڑ جمہوریت ہے۔ سیاسی قیادت کو رسوا کرنے کے لیے پھکڑ پن کو بھی پوری طرح فروغ دیا گیا اور کچھ خود ساختہ تجزیہ کاروں کو یہاں تک کہتے پایا گیا کہ ’بلاول بھٹو خوبرو ہیں، انہیں خیبرپختونخوا میں زیادہ پذیرائی ملے گی۔‘ کیا یہ الفاظ ایک نام نہاد سینیئر تجزیہ کار کی زبان سے اچھے لگتے ہیں؟ مگر مقصد سیاسی قیادت کو رسوا اور بدنام کرنا تھا۔ اس انتہا پسندی کو نئی حد تک لے جانے کے لیے فہم و دانش والے اینکرز اور لکھاریوں سے چھٹکارا ضروری تھا اور اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ تمام دلیل والی آوازیں آہستہ آہستہ بند کردی گئی ہیں یا انہیں بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو معاشرے کے رویے میں مزید انتہا پسندی کو فروغ دے گا۔

انصاف دینے والے ادارے بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر اس میں پیچھے نہیں رہے۔ ہمارے ہاں عدالتیں، عدالتی فیصلوں پر تنقید کو پسند نہیں کرتیں اور اپنے فیصلوں پر قانونی تنقید کو بھی توہین سمجھتی ہیں۔ جج کے عدالت میں طریقہ کار پر بات کریں تو وکیل کا لائسنس معطل ہو سکتا ہے جبکہ سارے مہذب آئینی معاشروں میں عدالتی فیصلوں پر تنقید احسن سمجھی جاتی ہے کہ اس سے ججوں کو مستقبل میں فیصلے کرنے میں رہنمائی ملتی ہے۔ فیصلوں پر عوامی احتجاج کو کبھی برا نہیں سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ میں ہر سال roe بنام wade مقدمے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے حق میں اور مخالفت میں مظاہرے ہوتے ہیں مگر کبھی بھی امریکی سپریم کورٹ نے اسے اپنی توہین نہیں سمجھا نہ ہی کبھی ججوں نے عدالتوں میں ان کی جرح پر تنقید کو توہین سمجھا۔ 

بدقسمتی سے ہماری اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے اس رویے نے بھی ایک طرح سے معاشرے میں غیر رواداری کو شہ دی ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے جس طرح عدالت کو چلایا ہے اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ کب کسی چیف جسٹس نے ایسی باتیں عدالت میں کہیں جیسی ثاقب نثار کرتے رہے۔ توہین عدالت کے خدشے کی وجہ سے ان کے فرمودات پر یہاں تبصرہ ممکن نہیں لیکن ان بیانات نے معاشرے میں غیر روادار رویے کو فروغ دینے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ کہیں آپ نے ججوں کو وکلا کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ چھٹیوں میں بھی کام کرو۔ یقیناً یہ جج کا منصب نہیں لیکن اس رویے کو کیسے بدلا جائے جب آپ کو کوئی بھی روکنے والا نہ ہو اور آپ کا جو جی چاہے اسے قانون کا جامہ پہنا دیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ججوں کو سیاسی بیانات بھی نہیں دینے چاہییں، مگر ہمارے سابق چیف جسٹس کھلے عام عدالت میں یہ بھی کہتے رہے کہ نواز شریف اور زرداری نے اپنے دور حکومت میں کچھ نہیں کیا۔ یہ الفاظ ایک چیف جسٹس کی زبان پر کیسے آسکتے ہیں؟ لیکن یہ ہوتا رہا ہے۔ ایسے بے شمار واقعات ہیں جہاں بظاہر قانون کی حد کو پھلانگا گیا۔ یہ رویہ عام لوگوں کے لیے حوصلہ افزائی فرماتا ہے کہ آپ کے جو جی میں آئے کریں یا کہیں۔ یہاں کوئی نہیں پوچھے گا اور اگر آپ نے کوئی قانون توڑا ہے تو ڈیم فنڈ میں پیسے جمع کرا دیں تو آپ کا گناہ معاف ہو جائے گا۔ اگر یہ قابل تحسین اقدام ہوتے تو ثاقب نثار کے بعد بھی یہ روایت جاری رہتی۔

ان سارے عوامل نے عوام میں ایک ہیجان، غصہ اور عدم رواداری کی فضا کی پرورش کی ہے۔ یہ طوفان بدتمیزی جاری ہے اور معاشرے کی جڑوں میں سرایت کرنا شروع ہوگیا ہے۔ کوئی بھی دلیل سننے کو تیار نہیں ہے۔ وہ صرف اسے سچ سمجھتا ہے جو اسے سمجھایا گیا ہے۔ ایسا معاشرہ نہ معاشی میدان میں اور نہ ہی دانش کے میدان میں قدم جما سکتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ غیر رواداری اور تنگ نظری کا بحیثیت قوم مقابلہ کیا جائے۔ اس منفی درجہ حرارت کو کم کیا جانا چاہیے اور اس سلسلے میں سیاسی قیادت کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ اسے موجودہ نفرت اور تقسیم کی سیاست کو ختم کرنا ہوگا اور رواداری کو فروغ دینا ہوگا۔ ہمارے ریگولیٹری اداروں کو اپنے اختیارات بغیر کسی دباؤ کے استعمال کرنے ہوں گے تاکہ ہم ایک متوازن معاشرے کی تشکیل کرنے میں کامیاب ہو سکیں جس میں مختلف رائے کی عزت ہو اور دلیل کو احترام سے سنا جائے۔ دلیل کا جواب دلیل سے دیا جائے نہ کہ گالی اس کی جگہ لے۔

 ہماری سیاسی قیادت کو ہماری تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ ان کے آپس کے جھگڑے اور ’سیاسی کھیل‘ کے اصولوں کی پاسداری نہ کرنا ہمارے جمہوری اداروں کو مزید کمزور کرے گا اور اس صورت میں ہار صرف جمہوری اداروں اور سیاسی قوتوں کی ہوگی۔ جمہوریت ایک پودا ہے اور ثقافت کی مانند ہے جس کو مکمل توجہ اور پرورش کی ضرورت ہے۔ اسے طوفانوں، گرم اور سرد حالات سے محفوظ کرنا ہوتا ہے اور تب یہ ایک تناور درخت بن کے سایہ مہیا کرتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر