’حساس ٹیکنالوجی کو سنبھالنے کی بھارتی صلاحیت پر سوالیہ نشان ہیں‘

پاکستان میں قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے کہا ہے کہ بھارتی حکام کا پاکستان کو فوری طور پر میزائل کے نادانستہ طور پر فائر کے بارے میں نہ بتانے کا فیصلہ ’انتہائی غیر ذمہ دارانہ تھا۔‘

15 ستمبر 2021 کو پاکستان میں وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں (اے ایف پی)

پاکستان میں وزیر اعظم کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے حساس ٹیکنالوجی کو سنبھالنے کی بھارت کی صلاحیت پر سوال اٹھاتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ایک بھارتی میزائل کے پاکستان میں ’حادثاتی طور پر‘ گرنے کے اعتراف کے بعد سامنے آیا ہے۔

معید یوسف نے جمعرات کو ٹوئٹر پر پیغامات کے ایک سلسلے میں کہا کہ بھارت سے سپرسانک میزائل 40 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے 250 کلومیڑر کا فاصلہ طے کر کے پاکستانی حدود میں گرا اور ’بھارت کو یہ تسلیم کرنے میں دو دن لگے کہ یہ اس کا میزائل تھا جو تکنیکی خرابی کی وجہ سے لانچ ہوا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس سے ’بھارت کی حساس ٹیکنالوجی کو سنبھالنے کی صلاحیت پر سنجیدہ سوال اٹھتے ہیں۔‘

یاد رہے کہ پاکستان میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے نو مارچ کو ایک پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ ’بھارت سے اڑنے والا ایک سپرسانگ میزائل میاں چنوں میں گرا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھارتی وزارت دفاع نے جمعے کو ایک بیان میں تسلیم کیا تھا کہ ایک بھارتی میزائل تکنیکی خرابی کے باعث حادثاتی طور پر فائر ہوگیا تھا جس پر بھارت کو ’سخت افسوس ہے‘ اور معاملے ’کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔‘

بیان میں کہا گیا تھا کہ ’معمول کی دیکھ بھال کے دوران ایک تکنیکی خرابی کے باعث میزائل فائر ہوا۔ بھارتی حکومت اسے سنجیدگی سے لیتی ہے اور اعلیٰ سطح کی انکوائری کا حکم دیا ہے۔‘

بھارتی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ اسے معلوم ہوا کہ میزائل پاکستانی حدود میں گرا، ’جو انتہائی افسوس ناک ہے۔‘ تاہم اس نے حادثے میں جانی نقصان نہ ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

بھارتی بیان کے بعد پاکستان میں قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ بھارتی حکام کا پاکستان کو فوری طور پر میزائل کے نادانستہ طور پر فائر ہوجانے کے بارے میں نہ بتانے کا فیصلہ ’انتہائی غیر ذمہ دارانہ تھا۔‘

ان کے مطابق یہ میزائل قومی اور بین الاقوامی کمرشل ایئرلائز کے راستے کے قریب سے گزرا اور مسافروں کے لیے خطرہ تھا۔

معید یوسف نے لکھا: ’ایک جوہری ماحول میں اس طرح کی لاپروائی اور نااہلی بھارت کے ہتھیاروں کے نظام کے تحفظ اور سلامتی پر سوالیہ نشان ہے۔‘

انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ بھارت میں یورینیم کی چوری کے کئی واقعات ہوچکے ہیں اور حالیہ ماہ میں یورینیم کی سمگلنگ کے الزام میں لوگ گرفتار بھی ہوچکے ہیں۔

انہوں نے دنیا کو یاد کرایا کہ بھارت میں انتہا پسند حکومت میں شامل ہیں اور 2019 میں پاکستان میں بم گرانے کی کوشش کی گئی تھی۔ ’ہم نے بار بار دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے غیر ذمہ دارانہ رویے پر غور کرے جو علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے مگر اس ہمیں نظر انداز کیا گیا ہے۔ اب اس واقعے اور اس پہلے ہونے والے واقعات کو دیکھتے ہوئے دنیا کو اس پر نظر ثانی کرنا ہوگی کہ یا بھارت اپنے جوہری اور دیگر  جدید ہھتیاروں کا تحفظ کر سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہ بھارت حکومت پر اعتبار کرنا مشکل ہے اس لیے اس واقعے کے حقیقی حالات کی تحقیقات ہونی چاہییں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ واقع غیر دانسانہ طور پر ہوا یا نہیں۔

یاد رہے کہ اس ماہ پاکستانی بحریہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے ایک بھارتی آبدوز کو ساحلی پانیوں میں پایا تھا اور اس پاکستانی پانیوں میں داخل ہونے سے روکا تھا۔

فوج کے ترجمان کے مطابق پاکستان نے بھارت کی جانب سے ایسی چوتھی کوشش کو ناکام بنایا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان