کشمیر: مین سٹریم سیاست، عسکریت پسندی کی ڈوریں ریاست سے باہر

کشمیر میں مین سٹریم سیاست اور عسکریت پسندی ساتھ ساتھ چلتے نظر آرہے ہیں لیکن دونوں میں نظریاتی فرق سے عوام بھی آپس میں بٹتے جا رہے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پلوامہ کے  پنجران  علاقے  میں مقامی افراد سیکورٹی فورسز کے ساتھ 7 جون 2019 کو ایک جھڑپ کے بعد مکان کو دیکھ رہے ہیں۔ بھارتی فوج کے لگ بھگ ہر دن کے اینکاونٹر میں تین سے پانچ عسکری پسند مارے جاتے ہیں۔ (اے ایف پی)

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جہاں ایک طرف عسکری تحریک کا زور برابر قائم ہے وہیں سیاسی افق پر نئے نئے لوگ نمودار ہونے لگے ہیں۔ ان میں نمایاں طور پر ڈاکٹر شاہ فیصل ہیں، جنہوں نے 2009 میں ہندوستان کی سول سروسز کے امتحان میں اول آکر کشمیری نوجوانوں کے لیے ایک نئی سمت کا تعین کیا تھا۔

ڈاکٹر شاہ فیصل گذشتہ برس کمشنر سیکرٹری کے عہدے سے مستعفی ہوکر سیاست میں کود پڑے اور وہ بھی مین سٹریم میں۔۔۔

گذشتہ سال جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی اتحادی حکومت کو زمین بوس کیا ہے، جو اب مختلف حصوں میں بکھر چکی ہے، تب سے مین سٹریم میں نئی نئی جماعتیں شامل ہو رہی ہیں یا دل بدلی کا سلسلہ سرعت سے جاری ہوا ہے۔

کپوارہ ضلع کے سابق رکن اسمبلی انجینئیر رشید اپنی پارٹی عوامی اتحاد کو اکیلے چلاتے رہے ہیں۔ اسمبلی کے فلور پر حق خود ارادیت کی مانگ کرکے انہیں بعض مرتبہ اسمبلی سے گھسیٹ کر باہر کردیا گیا، جس سے عوام کے ایک حلقے میں ان کی مقبولیت بڑھ گئی اور حالیہ پارلیمانی انتخابات میں وہ ووٹوں کی شرح میں دوسرے نمبر پر پہنچ گئے۔

ان کو دیکھتے ہوئے شاہ فیصل نے اسمبلی انتخابات سے پہلے ان کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا۔ خیال ہے کہ انتخابی کمیشن اگست میں امرناتھ یاترا کے اختتام کے بعد اسمبلی انتخابات کا انعقاد کرے گا۔ فیصل اور رشید کے اتحاد سے روایتی جماعتیں نیشنل کانفرنس کانگریس اور دوسری درجنوں جماعتیں مخمصے کا شکار ہو رہی ہیں۔

بیشتر لوگوں کا خیال ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے کئی بار ریاست جموں و کشمیر میں خاندانی سیاست کو ختم کرنے کا جو وعدہ کیا ہے۔ موجودہ پارٹیوں کا وجود میں آنا اسی وعدے کو پورا کرنا ہے اور اس کے لیے شاہ فیصل سمیت کئی لوگوں کا انتخاب کیا گیا ہے، گو کہ شاہ فیصل نے اس بات کو وقتا فوقتا مسترد کیا ہے۔

شاہ فیصل نے رشید کی پارلیمانی انتخابات میں بھی حمایت کی تھی جس سے ان کے حوصلے مزید بلند ہوگئے کیونکہ نیشنل کانفرنس، کانگریس اور پی ڈی پی نے انہیں کھل کے بات کرنے کا کبھی موقع نہیں دیا جو اسمبلی میں ان کے چیخنے اور چلانے کی ایک بڑی وجہ بنی اور ان کی شہرت کا موجب بھی۔

دوسری طرف پیپلز کانفرنس کے رہنما مرحوم عبدالغنی لون کے جو حریت کانفرنس میں شامل رہے ہیں فرزند سجاد لون نے اپنی جماعت کو مضبوط بنانے کے لیے دوسری پارٹیوں کے سرکردہ اراکین کو پارٹی میں شامل کیا ہے۔

ان میں اہل تشیع رہنما عمران رضا انصاری قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاہ نیشنل کانفرنس کے نوجوان کارکن جنید متو بھی عمران کے ساتھ مل گئے ہیں جو سجاد لون کی کوششوں سے سرینگر کے مئیر بھی بنے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واضح رہے سجاد لون نے ایک بار مودی سے ملاقات کے بعد انہیں اپنے والد جیسے بتایا تھا جس پر عوام کے بڑے طبقے میں انہیں کافی سبکی ہوئی تھی۔ لیکن اب یہ تاثر عام ہے کہ وہ مودی کے چہیتے کی لسٹ سے خارج ہوگے ہیں۔

تاہم کشمیر کے شمال میں ان کے خاندان کا خاصا اثر پایا جاتا ہے اور شعیہ ووٹ کی بدولت وہ چند نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے اگرچہ وہ بڑے خواب دیکھنے لگے ہیں۔

نیشنل کانفرنس نے اگرچہ کشمیر میں پارلیمان کی تینوں نشستیں حاصل کیں ہیں مگر انہیں اس بات کا اندازہ ہے کہ اسمبلی انتخابات میں جیت کے باوجود مودی کے زیرسایہ کام کرنا آسان نہیں ہوگا جس نے پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد کرکے اس کی ایک بھی نہیں مانی۔ نتیجہ یہ کہ اس وقت پارٹی کے لیے ریاست میں شبیہ بچانہ بھی مشکل ہوگیا ہے۔

ادھر مسلح تحریک میں بھی کوئی کمی نظر نہیں آ رہی۔ بھارتی فوج کے لگ بھگ ہر دن کے انکاؤنٹر میں تین سے پانچ عسکری پسند مارے جاتے ہیں اور اسی تعداد میں نو عمر لڑکے عسکریت پسندوں کے ساتھ مل رہے ہیں۔ بیشتر لڑکوں پر جیسے جنونیت سوار ہوگی ہے اور والدین کے منع کرنے پر بھی وہ گھروں سے نکل کر عسکری جماعتوں سے تعلق بڑھا رہے ہیں۔

مائیں بچوں کے لیے کافی پریشان ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنے بچوں کو واپس بلانے کے ویڈیوز ہر روز منظر عام پر آ رہی ہیں۔ جنوبی کشمیر میں حالات کافی ابتر ہیں اور سکیورٹی ایجنسیوں پر آئے دن حملے ہو رہے ہیں حالانکہ سکیورٹی فورسز کا چاروں طرف جال بچھا ہوا ہے۔

جب میں نے پلوامہ میں کئی نوجوانوں سے عسکریت پسندوں میں شامل ہونے کی وجہ پوچھی تو ایک نوعمر لڑکے نے کہا ’ذلت کی زندگی سے بہتر ہے عزت سے مرنا- میں اپنی بہنوں کی عصمت کو تار تار ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا۔‘

دوسرے نے رعب دار لہجے میں کہا ’میری تمنا ہے کہ کافر کی گولی سے مروں۔‘ میں نے کہا پر امن طریقے سے بھی اپنی جنگ لڑی جا سکتی ہے، ہتھیار اٹھانے سے خون خرابہ اور تباہی ہورہی ہے تو ان میں شامل ایک دبلے پتلے لڑکے نے کہا ’جس ملک میں گاندھی کے قاتلوں کو اب شہید کہا جاتا ہے کیا وہاں پر ہماری پرامن تحریک کامیاب ہوسکتی ہے؟ تشدد کوئی نہیں چاہتا مگر عدم تشدد کی تحریک کو خود بھارتیوں نے زمین بوس کیا۔ ہم بھی اپنی آزادی بندوق اٹھا کر ہی حاصل کریں گے چاہے ہماری کتنی نسلیں قربان کیوں نہ ہو۔‘ اور وہ مزید بات کیے بنا الوداع کرکے چل پڑے۔

کشمیر میں مین سٹریم اور عسکریت پسندی دونوں ساتھ ساتھ چلتے نظر آرہے ہیں لیکن دونوں میں نظریاتی فرق سے عوام بھی آپس میں بٹتے جارہے ہیں اور اس صورتحال کے پیش نظر آبادی کا ایک بڑا حصہ ذہنی بیماریوں کا شکار ہو رہا ہے۔ یہ تاثر گہرا ہے کہ مین سٹریم اور عسکریت کے پیچھے جو ریموٹ کنٹرول کام کر رہے ہیں وہ کشمیر سے باہر ہیں۔

عام آدمی کو کوئی امید دکھائی نہیں دیتی کہ مستقبل قریب میں جموں و کشمیر میں امن قائم ہوسکتا ہے اور یہ بات بھی باعث تشویش بنی ہوئی ہے کہ خود پاکستان بھارت کو ممکنہ عسکری حملوں سے اب خبردار بھی کرنے لگا ہے جس پر پھر کبھی بات کرنا ضروری بنتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ