بابر اعظم اور عبداللہ شفیق نے کراچی ٹیسٹ کو دلچسپ بنا دیا

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کراچی میں جاری دوسرا ٹیسٹ میچ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا۔

بابر اعظم اور عبداللہ شفیق 15 مارچ، 2022 کو کراچی ٹیسٹ کے چوتھے دن کھیل کے اختتام پر میدان سے باہر جاتے ہوئے (اے ایف پی)

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کراچی میں جاری دوسرا ٹیسٹ میچ بابر اعظم اور عبداللہ شفیق کی شاندار بلے بازی کی بدولت فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگیا۔

آسٹریلیا کے 506 رنز کے ہدف کے جواب میں پاکستان نے منگل کو چوتھے دن کھیل کے اختتام تک 192 رنز بنائے اور اس کے صرف دو بلے باز آؤٹ ہوئے۔

اس سے قبل آسٹریلیا نے آج اپنی دوسری اننگز کے مجموعی سکور میں 16 رنز کا اضافہ کرنے کے بعد 97 رنز پر اننگز ڈیکلئیر کر دی اور پاکستان کو جیتنے کے لیے 507 رنز کا ہدف دیا۔

جواب میں پاکستان کی دوسری اننگز کا آغاز بھی مایوس کن رہا اور راولپنڈی ٹیسٹ میں دو سنچریاں سکور کرنے والے امام الحق دوسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں بھی ناکام رہے۔

وہ نیتھن لائن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ انہوں نے امپائر کے فیصلے کو چینلج کرتے ہوئے ریویو بھی لیا لیکن کامیابی نہ ہوئی۔

پاکستان کے دوسرے آؤٹ ہونے والے بلے باز اظہر علی تھے، جو کیمرون گرین کی ایک شارٹ پچ گیند کو چھوڑنے کی پاداش میں ایل بی ڈبلیو قرار دیے گئے۔

گیند زیادہ اٹھی نہیں اور ان کے جسم پر لگی اور وہ وکٹ کے سامنے بھی تھے اس لیے انہیں آؤٹ دیا گیا۔ تاہم ری پلے سے معلوم ہوا کہ گیند پہلے ان کے داستانے پر لگی تھی۔

اس کے بعد بابر اعظم اور عبداللہ شفیق نے اننگز کو سنبھالا اور محتاط انداز میں کھیل کے اختتام تک کریز پر جمے رہے۔

دونوں بلے بازوں نے مشکل حالات میں شاندار بیٹنگ کی اور پہلی اننگز کی ناکامی کو بھول کر آسٹریلوی بولرز کو بھرپور جواب دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دونوں بلے بازوں نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں 171 رنز جوڑے۔

اس دوران بابر نے دو سال کے انتظار کے بعد اپنی چھٹی سنچری سکور کی جبکہ ان کے ساتھ کریز پر موجود نوجوان عبداللہ نے بھی نصف سنچری مکمل کی۔

بابر کی اننگز میں 12 چوکے شامل ہیں اور وہ 102 پر ناٹ آؤٹ ہیں۔

دونوں بلے باز کی عمدہ کارکردگی کے بعد ٹیسٹ میچ کا پانچواں اور آخری دن دلچسپ ہو گیا ہے، جہاں پاکستان کو جیت کے لیے مزید 314 رنز جبکہ آسٹریلیا کو آٹھ وکٹیں درکار ہیں۔

پاکستان ماضی میں سب سے زیادہ 377 رنز کا ہدف عبور کر چکا ہے اور اگر پاکستان بدھ کو آسٹریلیا کے خلاف 507 رنز کا ہدف عبور کر لیتا ہے تو یہ ایک نیا ریکارڈ ہوگا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ