پانچ پاکستانی آئٹم نمبرز کی دلچسپ پس پردہ کہانیاں

پاکستان میں آئٹم نمبر ہمیشہ سے ہی متنازع رہے لیکن اس کے باوجود فلم ساز اسے کامیابی کا پیمانہ سمجھتے ہوئے اپناتے رہے۔

خواب ناک ماحول، ذُو معنی شاعری، پُرشور موسیقی اور مختصر لباس میں تھرکتے، چھلکتے بدن۔ آئٹم نمبر کا نام سنتے ہی یہ سب ذہن میں آتا ہے۔

پاکستان میں آئٹم نمبر ہمیشہ سے ہی متنازع رہے ہیں۔ ایوارڈ یافتہ ہدایت کار جامی محمود نے تو ہمیشہ ان کی شدید مخالفت کی ہے۔ اداکار حمزہ علی عباسی تو کہتے ہیں کہ مجرے اور آئٹم نمبرمیں کوئی فرق نہیں۔

اس سب کے باوجود پاکستانی فلموں میں آئٹم نمبر ڈالنےکا رواج زور پکڑتا گیا اور تمام ترتنازعات کے باوجود فلم ساز اسے کامیابی کا پیمانہ سمجھتے ہوئے اپناتے رہے۔

قطع نظر اس کے کہ آیا آئٹم نمبر ہونے چاہییں یا نہیں ہم یہاں ایسے پانچ آئٹم نمبرز کی بات کرتے ہیں جن کے پس منظر کے بارے میں آپ نے یقینا نہیں سُنا ہوگا۔

نامعلوم افراد کی ’بلی‘

پاکستانی فلم ’نامعلوم افراد‘ میں مہوش حیات کا آئٹم نمبر ’بلِّی‘ اب تک کا سب سے مقبول آئٹم نمبرہے۔

یہ مہوش حیات کی پہلی فلم تھی اور اس کی کامیابی میں ان کے اس آئٹم نمبر کو بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔

فلم کو پاکستانی سنیما کےاحیا میں کلیدی حیثیت حاصل ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ پروڈیوسر فضہ علی میرزا اور ہدایت کار نبیل قریشی نے مہوش حیات سے پہلے بلّی کے لیے میرا جی کو سائن کیا تھا اور ان کے ساتھ عکس بندی بھی شروع  کردی تھی۔

تاہم اس دوران میرا جی کی وہ مشہورزمانہ ویڈیو لیک ہوگئی جس کے بعد فلم بنانے والوں نے کسی قسم کی مشکل سے بچنے کے لیے میرا جی کو الوداع کہنا ہی بہتر سمجھا۔

لاہور سے آگے کا ’قلاباز دل‘

صبا قمر کا ’لاہورسےآگے‘ میں ’قلاباز دل‘ پر کیا گیا رقص تو سب کو یاد ہوگا۔ تاہم یہ بات شاید کم ہی لوگ جانتے ہوں کہ ان کی پہلی فلم کا نام 8969 تھا جس میں انہوں نے ایک آئٹم نمبر’مستانی‘ بھی کیا تھا۔

اس فلم کے ہدایات کارعظیم سجاد تھے جبکہ عکس بندی دسمبر2013  سےجنوری 2014 کے درمیان ہوئی تھی، جب صبا قمر بہت بڑی سٹار نہیں تھیں۔

تاہم اسے ریلیز ہونے میں طویل عرصہ لگا اور یہ دسمبر2016 میں ریلیزکی گئی۔

اس وقت تک صبا قمر شہرت کی بلندیوں پر پہنچ چکی تھیں، لہذا انہوں نے فلم سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ایک انٹرویومیں یہ تک کہہ دیا کہ 8969 ان کے کیرئیر کی سب سے بڑی غلطی تھی۔

بہرحال تاریخ میں تو ان کی پہلی فلم اور آئٹم نمبر یہی کہلائیں گے۔

’سودائی سیّاں ‘

ماہرہ خان کی فلم ’سات دِن محبت اِن‘ تو سب نے ہی دیکھی ہوگی اور اس میں پاکستانی ٹرانسجینڈر ماڈل اور رقاص رِمل علی کا آئٹم نمبر ’سودائی سیاں‘ بھی دیکھا ہوگا۔

تاہم حقیقت میں ان کا یہ رقص اس گانے پر نہیں ہوا تھا۔ اس پورے آئٹم نمبر کی عکس بندی فلم ’کوشش‘ کے ایک مشہور گانے ’بجلی بھری ہے میرے انگ انگ میں‘ کے ریمکس پرکی گئی تھی۔

کوریوگرافر وہاب شاہ نے پورا رقص اسی گانے کی موسیقی کے حساب سے ترتیب دیا تھا مگر عین وقت پر اس گانے کے کاپی رائٹس کا مسئلہ شدت اختیار کرگیا۔

’بجلی بھری ہے میرے انگ انگ میں‘ کے کاپی رائٹس ای ایم آئی کمپنی کے پاس ہیں جس سے ڈیل نہ ہونے کی وجہ سے پھر ہدایت کار مینو اور فرجاد نے ایک نیا گانا ’سودائی سیّاں‘ بنوایا مگر اس کی عکس بندی نہیں کی کیونکہ فلم پہلے ہی بجٹ سے کافی اوپر جاچکی تھی، لہذا اِس گانے کی آواز کواُس گانےکی ویڈیو پر لگا کر کام چلایا گیا۔

’ کلو کا لونڈا ‘

ٹرانسجینڈرز کی بات ہو رہی ہے تو شاید آپ کو دسمبر 2017 میں ریلیز ہونے والی  پاکستانی فلم ’رنگ ریزہ‘ یاد ہو کیونکہ اس فلم کی تشہیر جس بڑے پیمانے پر کی گئی اس کی مثال پاکستان میں کم ہی ملتی ہے۔

فلم میں ایک آئٹم نمبر بھی تھا جو گوہر رشید پر فلمایا گیا اور اس میں ان کے ساتھ درجنوں ٹرانسجینڈرز بھی تھے۔ گوہر رشید نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ یہ پاکستان کا پہلا ایسا آئٹم نمبر ہے جس میں لڑکی نہیں بلکہ یہ ایک لڑکے اور ٹرانسجینڈرز پر بنایا گیا ہے۔

’ کلو کا لونڈا ‘ نامی یہ آئٹم نمبر پاکستان کی صحافی برادری اور پاکستانی فلمی صنعت سے تعلق رکھنے والے افراد، جو اس فلم کے پریمئیر میں موجود تھے، سب نے دیکھا۔

تاہم جب یہ فلم سنیما میں پیش کی گئی تو اس میں یہ آئٹم نمبر نہیں تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پریمئیر کے بعد کئی افراد نے فلم سازوں سے فلم کے طویل دورانیے کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئٹم نمبر تو ٹھیک ہے لیکن اسے فلم میں نہیں ہونا چاہییے۔ اس لیے اس فلم کا دورانیہ کم کرنے کے لیے کئی سین نکالے گئے جن میں یہ آئٹم نمبر بھی قربان ہوگیا۔

’ٹوٹی فروٹی‘

2015 میں ریلیز ہونے والی فلم ’کراچی سے لاہور‘ میں پیش کیا گیا عائشہ عمر کا آئٹم نمبر’ ٹوٹی فروٹی‘ کافی مقبول ہوا تھا کیونکہ اس وقت ٹی وی پرعائشہ عمر کا ’بلبلے‘ اپنے عروج پر تھا اور عائشہ کو بطور ’ خوبصورت ‘ ایک گھریلو لڑکی کے روپ سے اچانک چولی گھاگرے میں ٹھمکے لگاتے دیکھنا بہت سوں کے لیے حیران کُن تھا۔

تاہم یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ’ ٹوٹی فروٹی‘ نامی یہ گانا عائشہ عمر نے خود گایا تھا اور اس کی عکس بندی کے دوران عائشہ عمر کے پاؤں میں ہلکی موچ بھی آگئی تھی، مگر اس کے باوجود انہوں نے وقت کی کمی کے پیش نظر یہ گانا پکچرائز کرایا۔

اگرچہ گزرتے وقت کے ساتھ پاکستانی ہدایت کاروں نے اب اصرار شروع کردیا ہے کہ ایسے گانوں کو آئٹم نمبر نہیں بلکہ ’ڈانس نمبر‘ کہا جائے کیونکہ آئٹم نمبر انہیں سستا لفظ لگتا ہے۔

آئٹم نمبر کہیں یا ڈانس نمبر، ہم آپ کو خبر دیتے چلیں کہ اس سال عید الاضحٰی پر ریلیز ہونے والی ماہرہ خان کی فلم ’سپر سٹار‘ میں کبریٰ خان کا ایک خصوصی آئٹم نمبر ہے جبکہ عید الاضحٰی پر ہی ریلیز ہونے والی شہریار منوّر اور مایا علی کی فلم ’پرے ہٹ لوّ ‘ میں ماہرہ خان کا ایک آئٹم نمبر ہے جس کے بارے میں ماہرہ خان نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ بالکل روایتی نہیں بلکہ ’یہ پورا ڈھکا چھپا‘ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم