روسی حملے کے بعد سے یوکرینی خاتون اول کی زندگی کیسی ہے؟

یوکرین کے صدر وولودی میرزیلنسکی کی اہلیہ اولینا زیلنسکا نے ایک انٹرویو میں فروری کے آخر میں شروع ہونے والے روسی حملے کے آغاز کو یاد کیا اور بتایا کہ کس طرح وہ ’ایک دھماکے کی وجہ سے بیدار ہوگئیں۔‘

یکم ستمبر 2021 کی اس تصویر میں یوکرینی خاتون اول اولینا زیلنسکا آرلنگٹن، ورجینیا میں ایک فوجی تقریب میں شریک ہیں (فائل فوٹو: اےا یف پی)

یوکرین کے صدر وولودی میرزیلنسکی کی اہلیہ اور خاتون اول اولینا زیلنسکا نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ روس کے حملے کے بعد انہیں اپنے ملک کے محاصرے میں آجانے کے حوالے سے پہلی بار کیسا محسوس ہوا۔

44 سالہ سکرین رائٹر زیلنسکا، جن کی تصویر 2019 میں جریدے ووگ یوکرین کے سرورق پر شائع ہوئی، نے میگزین سے دوبارہ چیت کی اور بتایا کہ یوکرین پر پانچ ہفتے سے زیادہ عرصے قبل شروع ہونے والے روسی حملے کے بعد سے ان کی زندگی کیسی ہے۔

 انہوں نے جمعرات 25 فروری کو علی الصبح حملے کے آغاز کو یاد کیا اور بتایا کہ کس طرح وہ ’ایک دھماکے کی وجہ سے بیدار ہو گئیں۔‘

زیلنسکا کے بقول: ’مجھے فوری طور پر احساس نہیں ہوا کہ یہ ایک دھماکہ تھا۔ میں سمجھ نہیں پائی کہ یہ کیا ہو سکتا ہے۔ میرے شوہر بستر پر نہیں تھے۔‘

زیلینسکا کا کہنا تھا کہ وہ زیلنسکی کو دیکھنے کے لیے اٹھیں جن کے ساتھ انہوں نے 2003 میں شادی کی۔ وہ پہلے ہی’معمول کے مطابق سوٹ پہن چکے تھے‘ تاہم زیلنسکا نے بتایا کہ یہ آخری موقع تھا جب انہوں نے انہیں سفید شرٹ اور جیکٹ میں دیکھا۔اس کے بعد سے آج تک وہ فوجی (لباس) میں ہیں۔‘

بقول خاتون اول: ’زیلنسکی نے بس اتنا کہا کہ جنگ شروع ہو چکی ہے۔‘

زیلنسکا نے بتایا کہ اس وقت ’کشمکش‘ تھی لیکن کوئی خوف نہیں تھا اور زیلنسکی نے ان سے کہا: ’ضروری سامان اور دستاویزات اکٹھی کر لیں۔‘ اس دوران انہوں نے انتظار کیا کہ زیلنسکی انہیں مزید تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

17 سالہ اولیکسینڈرا اور نو سالہ کیریلو کی والدہ زیلنسکا نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ اور ان کے شوہر پہلے ہی بچوں کے ساتھ’تمام معاملات پر بات کر چکے تھے۔‘

زیلنسکا نے کہا: ’بچے بہت ایماندار اور مخلص ہوتے ہیں۔ آپ ان سے کچھ نہیں چھپا سکتے، لہذا بہترین حکمت عملی سچائی ہے۔ ہم بہت سی باتیں کرتے ہیں، جن سے تکلیف ہوتی ہے، لہذا خاموش نہ رہنا ایک ثابت شدہ نفسیاتی حکمت عملی ہے۔ یہ کام کرتی ہے۔‘

حال میں زیلنسکا کی فرانسیسی اخبار لے پیریزیئن میں ایک تحریر شائع ہوئی جس میں انہوں نے جنگ کی وجہ سے فرار ہونے والے یوکرین کے تارکین وطن کی مدد کرنے پر دوسرے ملکوں کی خواتین اول اور’تمام یورپی شہریوں‘کا شکریہ ادا کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق حملے کی وجہ سے یوکرین سے ایک کروڑ سے زیادہ لوگ گھر بار چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ان لوگوں میں سے 43 لاکھ پڑوسی ممالک میں منتقل ہوچکے ہیں اور 65 لاکھ ملک کے اندر ہی بے گھر ہو چکے ہیں۔

زیلنسکا نے مارچ میں لکھا تھا: ’میں ان تمام یورپی شہریوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جو اب ہمارے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔ انہیں گھر دے رہے ہیں۔ انہیں کھانا کھلا رہے ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ ہماری طرح آپ بھی اپنے ملک میں صدمے سے دوچار اتنے لوگوں کے لیے تیار نہیں تھے۔‘

’لیکن جس طرح سے آپ نے ردعمل ظاہر کیا وہ اجتماعی نوبیل امن انعام کا مستحق ہے۔ یوکرینی شاندار لوگ ہیں اور وہ بہت شکر گزار ہیں۔ ہمارے بچے کبھی نہیں بھولیں گے کہ آپ نے ہمارے لیے کیا کیا۔‘

دوسری جانب زیلنسکا نے ووگ یوکرین کو دیے گئے انٹرویو میں ان مسائل پر روشنی ڈالی، جن کا جنگ کے دوران یوکرین کی خواتین کو سامنا ہے۔ انہوں نے بموں سے بچنے لیے بنائی گئی پناہ گاہوں میں بچوں کو جنم دینے یا ان کی پرورش کرنے والی خواتین کی حالت زار کو بیان کرتے ہوئے مزید کہا کہ مقبوضہ شہروں میں رہنے والی خواتین کو’مکمل عدم تحفظ اور تشدد کے خطرے‘کا سامنا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ان حالات میں زندہ رہنا کیسا ہوگا جب آپ اپنے کپڑے بھی نہ پہن سکیں؟ ایک بچی کو کیسے سمجھائیں گے کہ وہ اپنے بستر پر کیوں نہیں سو سکتی؟ یہ ایک ایسا امتحان ہے جس کے بارے میں آپ نہیں چاہیں گے کہ کسی کو بھی اس میں سے گزرنا پڑے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین