یوکرینی صدر سبز شرٹ پہن کر کیا پیغام دے رہے ہیں؟

روسی حملے سے قبل صدر زیلنسکی جب بھی قوم سے خطاب کرتے تو وہ عام طور پر سوٹ اور ٹائی پہنتے تھے لیکن اب محصور صدر نے سوٹ کی بجائے سادہ لباس اپنایا ہے۔

16  مارچ، 2022 کو یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی دارالحکومت کیئف سے امریکی کانگریس سے ویڈیو  لنک خطاب کرتے ہوئے (فوٹو: اے ایف پی/ یوکرین صدارتی دفتر/ ہینڈ آؤٹ)

کیا اس سے بھی سادہ کوئی لباس ہوسکتا ہے۔ زیتونی سبز رنگ کی آدھی آستین والی ٹی شرٹ جو یوکرین کی مسلح افواج کی علامت ہے۔ اکثر اوقات یہ شرٹ صدر وولودی میر زیلنسکی کے بازوں کے مضبوط پٹھوں کے باعث اوپر کو چڑھ جاتی ہیں۔

جب روس ان کے ملک پر چڑھائی کی منصوبہ بندی کر رہا تھا تو یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی جب بھی قوم سے خطاب کرتے تو وہ عام طور پر سوٹ اور ٹائی پہنتے تھے۔ وہ اپنے صدارتی دفتر میں کھڑے ہونا یقینی بناتے اور عام طور پر پس منظر میں یوکرینی پرچم موجود ہوتا۔

اس کے برعکس حالیہ ہفتوں میں جب روس کی افواج یوکرین کے ایک کے بعد دوسرے شہر پر دھاوا بول رہی تھیں اور دارالحکومت کیئف کو گھیرے میں لینے کی کوششیں جاری تھیں تو محصور صدر نے سوٹ کی بجائے یہ سادہ لباس اپنایا اور ایسا کرتے ہوئے انہوں نے ان لوگوں کے سامنے ایک حیرت انگیز تصویر پیش کی ہے، جن سے وہ خطاب کرتے ہیں۔

امریکی کانگریس، برطانوی اور کینیڈین پارلیمان سے خطاب اور اپنے عوام کے لیے بھیجے گئے ویڈیو پیغامات میں 44 سالہ یوکرینی رہنما نے ایک سبز ٹی شرٹ پہننے کا انتخاب کیا جو ایک عام سی کرسی پر بیٹھ کر تقریر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ویڈیوز اور خطابات میں وہ ایک مصنوعی طور پر روشن کمرے میں نظر آتے ہیں جو ایک آپریشن سینٹر، کوئی بنکر یا دونوں ہو سکتے ہیں اور ان ویڈیوز سے ان کے ٹھکانے کا سراغ نہیں لگایا جا سکتا۔

رواں ہفتے صدر زیلنسکی نے کانگریس سے ایک پرجوش خطاب کیا جس میں انہوں نے امریکہ کے دونوں ایوانوں کے اراکین سے درخواست کی کہ وہ یوکرین کی مدد کے لیے اور خاص طور پر نو فلائی زون کے نفاذ کے لیے مزید اقدامات کریں۔

انہوں نے یوکرین پر روسی جارحیت کو القاعدہ کے نائن الیون حملوں اور  دسمبر 1941 کے پرل ہاربر حملے سے تعبیر کیا، جس نے امریکہ کو دوسری عالمی جنگ میں دھکیل دیا تھا۔

انہوں نے یوکرینی زبان میں کہا: ’پرل ہاربر کو یاد کریں جب سات دسمبر 1941 کی خوفناک صبح آپ پر حملہ کرنے والے طیاروں کی وجہ سے آپ کا آسمان تاریک ہو گیا تھا۔‘

جب مترجم نے اپنی بات ختم کی تو انہوں نے اپنے امریکی ہم منصب جو بائیڈن سے براہ راست انگریزی زبان میں گفتگو کی۔

زیلنسکی کا کہنا تھا: ’میں صدر بائیڈن سے مخاطب ہوں۔ آپ اپنی عظیم قوم کے رہنما ہیں۔ میری خواہش ہے کہ آپ دنیا کے رہنما بنیں۔ دنیا کے رہنما ہونے کا مطلب امن کا رہنما ہونا ہے۔ آپ کے ملک میں امن صرف آپ اور آپ کے لوگوں پر منحصر نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں پر منحصر ہے جو آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور جو مضبوط ہیں۔‘

زیلنسکی کے خطاب کو امریکی قانون سازوں نے زور دار تالیوں سے سراہا اور گرم جوشی سے اس کا خیرمقدم کیا گیا۔

یہی نہیں بلکہ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ یوکرین کو مزید فوجی امداد بھیج سکتا ہے اس کے باوجود کہ اگر صدر بائیڈن اور نیٹو کے دیگر رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ نو فلائی زون نافذ کرنے سے روس کے ساتھ مزید خطرناک تنازع شروع ہونے کا خطرہ ہے۔

اس سب کے باوجود ان کے اس سادہ لباس پر تنقید بھی سامنے آئی ہے جیسا کہ اس پر ایک ماہر معاشیات اور سٹاک بروکر پیٹر شِف کی طرف سے بھی غیر متوقع الفاظ میں تنقید کی گئی جنہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا: ’میں سمجھتا ہوں کہ یہ وقت مشکل ہے لیکن کیا یوکرین کے صدر کے پاس سوٹ نہیں ہے؟‘

شِف کے تبصرے پر لوگوں نے ان کا بڑے پیمانے پر مذاق اڑایا جنہوں نے صدر زیلنسکی کی اپنی قوم کو متاثر کرنے کی کوشش پر ان کو سراہا، خاص طور پر گفتگو کے دوران ان کی آستینوں سے نظر آنے والے بازو کے انداز کو۔

لندن کے کورٹالڈ انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ میں لباس کی تاریخ کی سینیئر لیکچرر ربیکا آرنلڈ نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’انہوں نے ایسا لباس پہننے کا انتخاب کیا جو انہیں مسلح افواج سے جوڑتا ہے، بظاہر عسکریت کے بغیر، اور وہ اس سے یہ پیغام بھیج رہے ہیں کہ وہ عملی معاملات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’رنگ کا انتخاب ان کے لیے خاص طور پر اہم ہے کیوں کہ لباس انہیں عام لوگوں سے جڑتا ہے۔ اسے ان کی جدوجہد کا حصہ بناتا ہے لیکن ان کپڑوں کا رنگ اور بار بار انہیں پہننا قیادت کے لیے یونیفارم جیسا ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کارروائی کے لیے تیار ہے۔‘

ان کے بقول: ’وہ حکومت میں اپنے ارد گرد موجود لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ وہ ڈیجیٹل اور روایتی میڈیا کے ذریعے اپنے ملک کے لوگوں اور باقی دنیا سے جڑ رہے ہیں۔

’وہ ان ویڈیوز سے، جو ان کے الفاظ کی نمائندگی کرتے ہیں، دنیا کو عملی طور پر متحد ہونے کا پیغام دے رہے ہیں۔‘

صدر زیلینسکی جنگ کے وقت یا تنازع کے دوران اپنے لباس کے ذریعے ایسا پیغام بھیجنے والے پہلے رہنما نہیں ہیں۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران ونسٹن چرچل نے اپنی معروف سیاہ ہمبرگ ہیٹ میں سگار کا کش لیتے ہوئے تصویر کھنچوائی تھی گویا کہ وہ لندن پر بم گرنے اور جرمن افواج کے یورپ بھر میں مارچ کرنے کے باوجود یہ پیغام دے رہے ہوں کہ ’سب کچھ نارمل ہے۔‘

کیوبا کے فیڈل کاسترو اپنی قوم یا اقوام متحدہ سے خطاب کے دوران فوجی لباس زیب تن رکھتے تھے گویا وہ دنیا کو اپنی انقلابی نیک نیتی کی یاد دلانا چاہتے ہوں۔

نائن الیون کے حملوں کے بعد صدر جارج ڈبلیو بش نے لوئر مین ہٹن میں واقع ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے جڑواں ٹاورز کے گرد آلود ملبے کا دورہ کرتے ہوئے فائر فائٹر کے لاؤڈ ہیلر کا استعمال کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا: ’میں آپ کو سن سکتا ہوں، باقی دنیا آپ کی سنتی ہے اور جن لوگوں نے ان عمارتوں کو گرایا وہ جلد ہی ہم سب کو سنیں گے۔‘

اور میانمار میں کئی دہائیوں تک جمہوریت پسند رہنما آنگ سان سوچی نے ہمیشہ ایک استری شدہ ریشمی لونگی پہنے رکھی جو خاموشی اور پروقار طور پر اس وقت تک اختلاف کا احساس پیدا کرتی رہیں، جب جنتا فوج کے جرنیل ملک کے اقتدار پر قابض تھے۔

ووگ میگزین کی سابق کمیونیکیشن ڈائریکٹر اور آرٹیمیس سٹریٹیجیز کی بانی شراکت دار ہلڈی کریک کا کہنا ہے کہ ’لباس ہمارے جذبات، احساسات اور مقصد کی عکاسی کرتے ہیں۔

’وسیع تناظر میں یہ ہماری ثقافت کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔ عقل مند رہنما سمجھتے ہیں کہ وہ جو پہنتے ہیں ان سے ان کے خیالات کو سمجھا جا سکتا ہے اور اس سے ایک پیغام بھیجا جا سکتا ہے جو کسی بھی تقریر سے زیادہ پر اثر ہوتا ہے۔‘

ان کے بقول: ’اگرچہ خواتین رہنماؤں کا تجزیہ کرتے وقت ان کے لباس پر اکثر زیادہ بحث کی جاتی ہے لیکن لباس کے ذریعے دکھنے کا فن صنف سے بالا تر اور عالمگیر ہے۔

’صدر زیلنسکی اپنے لباس سے ایک واضح پیغام بھیج رہے ہیں کہ وہ اس جنگ میں پوری طرح شامل ہیں نہ کہ وہ باہر بیٹھ کر یہ سب کچھ دیکھنے والی شخصیت ہیں۔ وہ لڑائی میں شامل ہیں اور خطرات سے قطع نظر اپنے لوگوں کے ساتھ رہنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ تاریخ کے دوسرے رہنماؤں کے برعکس جنہوں نے یہ اشارہ دینے کے لیے کیموفلاج والے کپڑے پہننے کہ وہ اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، صدر زیلینسکی جانتے ہیں کہ یوکرین کے سپاہی اس ملک کے عام شہری ہیں۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ صدر زیلنسکی ملک کے ان عام شہریوں ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں جو ایک دن بیدار ہوئے اور حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے وطن کے محافظ بن گئے یا ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔

صدر زیلنسکی کی ظاہری شکل یقینی طور پر ان لوگوں پر اثر انداز ہوئی ہے جنہوں نے حالیہ ہفتوں میں ان کے ساتھ بات کی ہے۔

یہ بڑے پیمانے پر رپورٹ کیا گیا تھا کہ جب انہوں نے ملک پر روسی حملے کے چند دن بعد یورپی یونین کے رہنماؤں سے بات کی تو وہ ان کی حالت زار سے بہت متاثر ہوئے۔

انہوں نے کہا تھا: ’شاید یہ آخری بار ہو جب آپ مجھے زندہ دیکھیں۔‘

ان کے الفاظ کی طاقت اور صورت حال کی واضح سنگینی نے سننے والوں پر ایک لرزہ طاری کر دیا تھا۔ چند گھنٹوں کے اندر پورے یورپ کے دارالحکومتوں کے ساتھ ساتھ امریکہ بھی ولادی میر پوتن کے خلاف اتنی سخت پابندیوں کو مربوط کر رہے تھے جتنی کبھی کسی نے تصور بھی نہیں کی تھیں۔

جن چیزوں کا تصفیہ ہونا ناممکن دکھائی دے رہا تھا جیسے سوئفٹ بینکنگ سسٹم سے روس کا اخراج، ان پر تیزی سے اتفاق کیا گیا۔ صدر پوتن پر ذاتی پابندیاں بھی لاگو کر دی گئیں۔

مزید بھی بہت کچھ ہوا۔ مثال کے طور پر جرمنی، جس کا ماسکو کے ساتھ اہم تعلق تھا، نے پہلے ہی نورڈ سٹریم ٹو گیس منصوبے کو معطل کر دیا۔ پھر جرمن چانسلر اولاف شولز نے اعلان کیا کہ برلن اپنی فوج کی ایک بڑی توسیع پر سو ارب یورو خرچ کرے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یوکرین کی حالت زار اور اس کے صدر کو فیشن کی حقیقی دنیا نے بھی غور سے دیکھا۔

رواں ماہ کے آغاز میں جارجیا نژاد جرمن تخلیقی ڈائریکٹر ڈیمنا گواسالیا نے فیشن ہاؤس کے موسم سرما کے 23-2022 شو کو یوکرین اور وہاں سے انخلا کرنے والے لاکھوں پناہ گزینوں کے لیے وقف کیا۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق پیرس میں کمپنی کے حالیہ شو میں ہر نشست پر ایک نوٹ چھوڑا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ’فیشن ویک ایک طرح کی بیہودگی کی طرح محسوس ہوتا ہے، شو کو منسوخ کرنے کا مطلب اس برائی کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہو گا جس نے مجھے پہلے ہی تقریباً 30 سالوں سے تکلیف پہنچائی ہے۔‘

40 سالہ گواسالیا 1993 میں خانہ جنگی کے شکار جارجیا سے اس وقت فرار ہونے پر مجبور ہوئے تھے جب ان کی عمر صرف 12 سال تھی۔ بعد میں وہ جرمنی جانے سے پہلے یوکرین اور روس میں مقیم رہے۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا: ’یوکرین میں جنگ نے ماضی کے صدمے کے درد کو تازہ کر دیا ہے جو 1993 سے میرے ساتھ ہے، جب میرے آبائی ملک میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔‘

کیا صدر زیلنسکی کے ٹی شرٹ پہننے کا فیصلہ دانستہ ہے؟

کورٹالڈ کی ربیکا آرنلڈ کا اس بارے میں کہنا ہے: ’میرے خیال میں یہ دانستہ ہے۔ یہاں تک کہ اگر یہ اس طرح شروع نہ بھی ہوتا تو اس لباس کا انتخاب واضح پیغام دیتا کہ ان کی توجہ اپنے کپڑوں پر نہیں ہے اور یہ ایک طرح کا غیر رسمی یونیفارم ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا