اکیڈیمیا میں تنخواہیں جتنی محدود ہیں، کام کا بوجھ اتنا ہی زیادہ ہے۔ ہفتے میں تین سے چار لیکچرز، درجنوں طلبہ سے ملاقاتیں، ڈیپارٹمنٹل میٹنگز اور مختلف انتظامی ذمہ داریوں کے بعد دفتری اوقات کے بعد اپنی تحقیق پر بھی کام کرنا پڑتا ہے۔
جامعات
طلبہ کو ایسے راستے میں بیٹھے ہوئے دیکھ کر غصہ بھی آتا ہے لیکن اس بات کا احساس بھی ہوتا ہے کہ ہماری جامعات کے ڈیزائن میں طلبہ کو نظر انداز کیا گیا ہے۔