تصور کریں سہولت کا عالم، آپ نہا دھو کر نکلے، ریڈی ٹو وئیر شلوار قمیض اٹھائی، پہنی اور چل پڑے سیدھے باہر، پورا دن آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہو رہا۔ کمر سنبھالنے کا، نہ پائنچے بچانے کا، نہ اس کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا۔
آخر کیوں ہم خود ان تمام راستوں سے گزریں جن سے وہ لوگ پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ اگر سمجھا رہے ہیں کہ یار، یہ کام مت کرو، اس سے بچ جاؤ، اس راستے سے ہٹ جاؤ تو کم از کم ان کو ہم اتنی اہمیت تو دے سکتے ہیں کہ معاملے کو ان کے پہلو سے دماغ میں بٹھانے کی کوشش کر لیں۔