بعض حکومتی اراکین اسمبلی نے صوبائی قیادت سے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ساتھ 30 سے 40 ارکان پر مشتمل ایک گروپ موجود ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما عمران خان تک ان کے ذاتی معالج کی رسائی نہ دیے جانے پر سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کر رہے ہیں۔