پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نے پشاور پولیس کی جانب سے 9 مئی 2023 کو ریڈیو پاکستان کی عمارت کے جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے کے حوالے سے بھیجی گئی ویڈیوز میں نظر آنے والے ملزمان کی تصدیق کی ہے، جن میں پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں سمیت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بھی شامل ہیں۔
قومی میڈیا میں اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد ایسا تاثر ابھرا کہ جیسے وزیر اعلی اس مقدمے میں اب قانونی طور پر پھنس گئے ہیں لیکن درست صورت حال کیا ہے؟
رپورٹ میں فرانزک ایجنسی کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ ویڈیوز کہاں اور کس مقام پر ریکارڈ کی گئی ہیں تاہم صرف اس میں نظر آنے والے افراد کی فیشل فیچر سے شناخت کی تصدیق کی ہے۔
جن افراد کی تصدیق کی گئی ہے، ان میں سہیل آفریدی، پی ٹی آئی پشاور کے صدر عرفان سلیم، پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر کامران خان بنگش اور تیمور سلیم جھگڑا جبکہ پی ٹی آئی یوتھ ونگ کے عامر خان چمکنی بھی شامل ہیں۔
اسی رپورٹ پر ردعمل میں تیمور سلیم جھگڑا اور عرفان سلیم کا کہنا ہے کہ ریڈیو پاکستان کے مقدمے میں وہ نامزد ہی نہیں ہیں تو فرانزک کی کوئی وجہ ہی نہیں بنتی۔
عرفان سلیم کے مطابق ’اس سے ہم نے کبھی انکار نہیں کیا ہے کہ مظاہرے میں ہم شریک نہیں تھے لیکن جلاؤ گھیراؤ سے ہمارا دور تک کوئی تعلق نہیں۔‘
کیا اس رپورٹ سے سہیل آفریدی کو خطرہ ہے؟
کیا فرانزک لیب کی اس رپورٹ سے سہیل آفریدی کی کرسی کو کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے یا نہیں اور اس رپورٹ کی قانونی حیثیت کیا ہے، جس پر قانونی ماہرین رائے منقسم ہے کیوں کہ اس واقعے کو بہت عرصہ ہو گیا ہے اور بعض کا کہنا ہے کہ اس کا فائدہ ملزمان کو مل سکتا ہے۔
تاہم بعض یہ سمجھتے ہیں کہ پولیس دورانِ تفتیش کسی بھی ملزم کو مقدمے میں نامزد کر سکتی ہے اور اس کا ٹرائل ممکن ہے۔
بیرسٹر سرور مظفر شاہ سپریم کورٹ کے وکیل ہیں اور ان کے مطابق کریمینل جسٹس نظام کو سمجھنا ضروری ہے جس کے مطابق دورانِ تفتیش اگر کیس میں گواہ سامنے آتا ہے تو وہ عدالت کے سامنے بیان ریکارڈ کرواتا ہے اور بعد میں دیگر ملزم یا ملزمان کو بھی نامزد کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ’ریڈیو پاکستان کے مقدمے میں فرانزک رپورٹ میں موجود ناموں میں کوئی بھی ملزم نامزد نہیں ہے اور نہ سپلیمینٹری بیان میں نامزد ہے، تو مقدمے میں نامزدگی سے پہلے پولیس کی کوئی بھی تفتیش خلافِ قانون ہوتی ہے۔ ‘
بیرسٹر سرور نے کہا ہے کہ فرانزک رپورٹ میں یہ بھی واضح نہیں ہے کہ جن ویڈیوز کی فرانزک کی گئی ہے یہ کہاں کی ہیں کیونکہ رپورٹ میں ایسا کچھ بھی نہیں بتایا گیا ہے تو اس مقدمے میں فیصلہ سہیل آفریدی سمیت رپورٹ میں درج دیگر افراد کے حوالے سے نہیں آ سکتا۔
اسی طرح اس فرانزک میں ایک قانونی سقم یہ بھی موجود ہے کہ پولیس کی جانب سے پہلے ملزمان کو گرفتار کیا جاتا ہے، ان کی تصاویر لی جاتی ہیں اور ملزمان کی تصاویر کو ویڈیوز کے ساتھ فرانزک کے لیے بھیجا جاتا ہے، لیکن اس مقدمے میں انٹرنیٹ سے تصاویر لے کر بھیجی گئی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’تیسری اہم بات یہ بھی ہے کہ نو مئی کے واقعات میں کامران بنگش و دیگر افراد کو ایک دوسرے مقدمے میں بری کر دیا گیا ہے تو اسی نوعیت کے مقدمے میں دوسری بار کوئی شخص قانونی طور پر ٹرائل نہیں ہو سکتا۔‘
تاہم سپریم کورٹ کے وکیل دانیال خان کے خیال میں جب کوئی بھی مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہو تو تفتیش کے دوران مزید ملزمان کو نامزد کیا جا سکتا ہے، جس طرح اب فرانزک رپورٹ آ گئی ہے تو پولیس مزید ملزمان نامزد کر سکتی ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ’تفتیش کے دوران اگر مقدمے میں کسی ملزم کو نامزد کرنا ہوتا ہے تو کریمینل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 164 کے تحت جس نے مقدمہ درج کیا ہے تو وہ مزید ملزم یا ملزمان نامزد کر سکتا ہے۔ ‘
دانیال چمکنی کے مطابق قانونِ شہادت بہت اہم جز ہے اور مقدمے کے آخر تک مقدمے میں مزید ملزمان نامزد کیے جا سکتے ہیں اور ملزمان بعد میں ضمانت لے سکتے ہیں۔
سہیل آفریدی کی اس مقدمے میں نااہلی کے حوالے سے دانیال چمکنی نے بتایا کہ مقدمہ ابھی زیرِ سماعت ہے تو فیصلہ آنے کے بعد ہی یہ واضح ہو جائے گا۔
تاحال سہیل آفریدی کی طرف سے اس بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔