سندھ حکومت کا اپنے مہمانوں کے ساتھ برتاؤ قابل مذمت: سہیل آفریدی

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے مسلسل دوسرے دن سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اجرک اور سندھی ٹوپی کی عزت نہیں رکھی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سندھ کی روایتی اجرک میں 11 جنوری 2026 کو نظر آ رہے ہیں (پی ٹی آئی/ایکس)

صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پیر کو مسلسل دوسرے دن سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اجرک اور ٹوپی کی عزت نہیں رکھی اور اپنے ’مہمانوں‘ کے ساتھ جو برتاؤ کیا، وہ قابل مذمت ہے۔

صوبہ پنجاب کا دورہ کرنے کے بعد سہیل آفریدی ان دنوں سندھ کے دورے پر ہیں, جہاں انہوں نے گذشتہ روز کراچی میں مزار قائد پر ایک جلسہ بھی کیا۔

انہوں نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے بعد سندھ حکومت نے بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعلیٰ کا قافلہ جلسے کے لیے آ رہا تھا کہ راستے میں رکاوٹوں اور بڑی تعداد میں کارکنوں کے استقبال کی وجہ سے سست روی کا شکار ہوا۔

گذشتہ روز ہی صوبہ سندھ کے مقامی حکومت کے وزیر ناصر حسین شاہ نے دورے کے دوران سہیل آفریدی کے ساتھ پیش آنے والے ’ناگوار واقعات‘ پر معذرت کر لی تھی۔

ناصر حسین شاہ نے ایک نجی نیوز چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوا ہے تو میں ذاتی طور پر معذرت خواہ ہوں، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘ 

سوموار کو کراچی میں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس ایچ سی بی اے) سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ سندھ کی عوام بہادر، دلیر اور وسیع القلب ہے اور کراچی نے ہمیشہ تمام قومیتوں کو جگہ دی ہے۔

تاہم انہوں نے سندھ حکومت کے رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے اپنے مہمانوں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا اور اجرک و ٹوپی جیسی سندھی ثقافتی علامتوں کی عزت کا خیال نہیں رکھا۔

انہوں نے کہا ’میرا خیال ہے کہ ہر سندھی اس کی پوری طرح مذمت کرے گا۔‘

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آئین اور قانون کے ساتھ جو کھیل‘ کھیلا جا رہا ہے وہ ناصرف اداروں بلکہ پورے پاکستان کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ااسلام آباد کے تین ججوں نے حکم دیا تھا کہ انہیں راول پنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید پی ٹی آئی کے سربراہ  عمران خان سے ملنے دیا جائے، لیکن ’جیل سپرنٹنڈنٹ اس حکم کو اٹھا کر پھینک دیتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ہم پر احتجاج کی سیاست کا الزام لگایا جاتا ہے، مگر ہمارا آئین ہمیں اس کی اجازت دیتا ہے، اس لیے ہم احتجاجی سیاست کریں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہمیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے، اس لیے اب ہمارے پاس احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ہم نے آواز نہ اٹھائی تو ہم پر مزید دباؤ ڈالا جائے گا۔‘

سہیل آفریدی نے کہا کہ جب حکومت اور عدلیہ تعاون نہ کریں اور آئینی حقوق سلب ہوں تو احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔

انہوں نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم سے قبل ہونے والے انتخابات پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، انتخابی نشان اور ووٹ دونوں چھین لیے گئے جبکہ عمران خان کو جیل میں ڈال کر سیاسی جدوجہد کو محدود کیا گیا۔

معیشت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ ملکی حالات انتہائی خراب ہیں، لوگ ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں اور بے روزگاری 7.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے پی ٹی آئی رہنما فہیم خان کے گھر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طرف سے پیغام ملا کہ وہ ملاقات نہیں کر سکتے، جس کی وجہ سے ان کے ساتھ ملاقات منسوخ ہوئی۔

اس سے قبل انہوں نے آج پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ مزار قائد پر فاتحہ خوانی بھی کی۔

ان کے ہمراہ پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، عمر ڈار،  ریحانہ ڈار، نعیم حیدر پنجوتہ، شفیع جان، شوکت بسرا و دیگر  رہنما تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست