نجیب اللہ نے یہ سمجھ لیا تھا کہ صرف فوجی طاقت سے افغانستان کو نہیں چلایا جا سکتا۔ اسی لیے انہوں نے ’قومی مفاہمت‘ کی پالیسی متعارف کروائی، جس کا مقصد مجاہدین کو مذاکرات کی میز پر لانا تھا۔
دو روزہ دورے میں پاکستان کے صدر اور وزیراعظم سے باضابطہ مذاکرات علاوہ وہ پاکستان، قازقستان بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے۔