جی 20 سمٹ: روس کی شرکت پر امریکہ اور اتحادیوں کا واک آؤٹ

دنیا کی 20 بڑی معیشتوں کی میٹنگ میں روس کے نمائندے کی تقریر کے دوران امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا کے نمائندے اجلاس سے اٹھ کر باہر چلے گئے۔

واشنگٹن میں جی 20 ممالک کے وزارت خزانہ کے نمائندوں کے ایک اجلاس میں جب روسی نمائندے نے اپنی تقریر کا آغاز کیا تو یوکرین جنگ پر احتجاج کے ضمن میں امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا کے نمائندوں نے واک آؤٹ کر دیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جی 20 ممالک کی تنظیم کے موجودہ سربراہ انڈونیشیا کا موقف ہے کہ سب سے بڑی معیشتوں کے حامل ممالک یعنی امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا کے نمائندوں کے واک آؤٹ کرنے سے اجلاس کی توجہ منتشر نہیں ہو گی کہ عالمی ترقی کے لیے مشترکہ میدان تلاش کرنے میں حائل مشکلات کا حل نکالا جائے۔

جی 20 اجلاس سے بڑی معیشتوں کے نمائندوں نے واک آؤٹ اس وقت کیا جب روس کے نمائندے اپنی گفتگو کو آغاز کر رہے تھے جس سے تنظیم میں روس کی موجودگی سے گہری ہوتی تقسیم کی طرف اشارہ ملتا ہے۔

روئٹرز نے اجلاس کی کارروائی سے واقف ایک ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس موقع پر یوکرینی حکام نے بھی واک آؤٹ کیا جو واشنگٹن میں موجود ہیں تاکہ اربوں ڈالرز اضافی امداد حاصل کر سکیں۔

انڈونیشیا کی وزیر خزانہ سری ملیانی اندراواتی واشنگٹن میں ہونے والے جی 20 کے اجلاس کی سربراہی کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس سے واک آؤٹ سے ’مکمل حیرانی‘ نہیں ہوئی اور گروپ کی وسیع تر گفتگو متاثر نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے اعتماد ہے کہ اس سے جی 20 فورم کی اہمیت اور تعاون زائل نہیں ہو گا۔‘

اندراواتی کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے۔ یہ معمول نہیں ہے۔ بہت ڈرامائی اور کٹھن ہے۔‘

جی 20 ممالک کی تنظیم میں وہ مغربی ممالک بھی شامل ہیں جو ماسکو پر یوکرین میں جنگی جرائم کا الزام لگاتے ہیں اور چین، بھارت، انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ بھی اسی گروپ میں ہیں جنہوں نے مغرب کی جانب سے روس پر عائد پابندیوں کا ساتھ نہیں دیا تھا۔

اندراواتی کا کہنا تھا کہ اجلاس میں کچھ ممالک نے جنگ کے خلاف بات کی ہے لیکن انہوں نے ان ممالک کی نشاندہی نہیں کی۔

یاد رہے کہ یوکرین جنگ کے دوران 24 فروری کو روسی حملے کے بعد سے 50 لاکھ یوکرینی پڑوسی ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔

یہ 1945 کے بعد کسی بھی یورپی ملک پر ہونے والا سب سے بڑا حملہ تھا۔

امریکہ نے روس پر یوکرین میں جنگی جرائم سرزد کرنے کا الزام عائد کیا ہے جسے روس ’خصوصی فوجی کارروائی‘ کا نام دیتا ہے اور الزامات کی تردید کرتا ہے۔

جی 20 واشنگٹن اجلاس کا ایجنڈا کیا تھا؟

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق واشنگٹن میں ہونے والے جی 20 اجلاس کا محور تھا کہ کس طرح عالمی معیشت کو روس کے حالیہ حملے کے جھٹکے سے باہر نکالا جا سکتا ہے جس سے خوراک اور فیول کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور آئی ایم ایف نے اس سال عالمی بڑھوتری کی شرح کم کر کے 3.6 فیصد کر دی ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے روس کو جی 20 ممالک کی تنظیم سے نکالنے کی تجویز دی تھی اور مغربی ممالک نے حملے کے جواب میں روس پر پابندیاں عائد کی تھیں جس کا مقصد روس کی معیشت کو نقصان پہنچانا اور اسے عالمی سطح پر تنہا کرنا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا