اے پی سی: کیا اپوزیشن تمام اہداف حاصل کر پائے گی؟

اپوزیشن جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ کو تبدیل کرنے اور 25 جولائی، 2018 کو مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف یوم سیاہ منانے پر اتفاق کیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزشن کا یوں اکھٹا ہونا عوام کے لیے خوش آئیند ہے لیکن اسے حکومت مخالف حتمی تحریک نہیں کہا جاسکتا (پاکستان مسلم لیگ ن میڈیا ونگ)

گذشہ روز اسلام آباد میں ہونے والی حزب اختلاف جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں کئی اہم معاملوں پر اتفاق رائے ہوئی۔ اجلاس کے بعد جاری علامیے کے مطابق، اپوزیشن جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ کو تبدیل کرنے اور 25 جولائی، 2018 کو مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف یوم سیاہ منانے پر اتفاق کیا۔

اس کے علاوہ ، جمعیت علما اسلام ف کی جانب سے بلائی گئی اس بڑی بیٹھک میں اپوزشن پارٹیوں نے قرضوں سے متعلق وزیر اعظم کی تحقیقاتی کمیشن کو پارلیمنٹ پر حملہ قراردی کر مسترد کر دیا، حکومت کا 20-2019 وفاقی بجٹ مسترد کیا، اپوزیشن کی رہبر کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا اورججوں کے خلاف دائر ریفرنسو ں کو بھی سازش قراردے کر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

مولانا فضل الرحمن نے اپنے اراکین کے استعفے خود جمع کرنے اور حکومت گرانے کی تجویز دی، لیکن ذرائع کے مطابق، اسے مسترد کردیا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزشن کا یوں اکھٹا ہونا عوام کے لیے خوش آئیند ہے لیکن اسے حکومت مخالف حتمی تحریک نہیں کہا جاسکتا، البتہ پہلا قدم ضرور ہے کیونکہ حکومت گرانے کے لیے سیاسی کارکنوں کے ساتھ عوام کا نکلنا ضروری ہے۔

اے پی سی میں کیا طے پایا؟

آٹھ گھنٹوں تک جارے رہنے والے اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمن نے اس میں کیے گئے متفقہ فیصلوں پر مشتمل اعلامیہ میڈیا کے سامنےپڑھ کر سنایا۔

اعلامیہ کے مطابق،اجلاس نے بجٹ کو عوام دشمن ، تاجر دشمن اورصنعت دشمن ، صحت و تعلیم دشمن قرار دے کر یکسر مسترد کر دیا، اور اعلان کیا کہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی تمام سیاسی جماعتیں اس کے خلاف پارلیمان کے اندر اور باہر بھرپور احتجاج جاری رکھیں گی۔

اجلاس کے شرکا نے دعویٰ کیا کہ حکو،ت دھاندلی سے بجٹ پاس کرنے کی کوش کررہی ہے اور اس کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دو  زر حراست ممبران قومی اسمبلی کے پروڈیکشن آرڈرز بھی جاری کیے جائیں تاکہ وہ اپنے عوام کی نمائندگی کر سکیں۔

مولانا فصل کے مطابق اجلاس نے پارلیمان آئین اور سول حکمرانی کی بالادستی پر زور دیا، ججوں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ریفرنس کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا اور مطالبہ کیااورریفرینسز کو فوراً واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

اجلاس نے عدلیہ میں اصلاحات ، ججوں کی تقرری کے طریقہ کار پر نظر ثانی اور سوموٹو اختیارات کے استعمال کے متعلق قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس کت شرکا نے عوام کے جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ تشدد کے استعمال کے خلاف اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قانون سازی کی جائے، جبکہ جو  افراد  سیکورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں اور کسی عدالت کے سامنے پیش نہیں کیے گئے ان کو عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے۔

اس کے علاوہ شرکا نے الیکشن کمیشن کی ایک حالیہ نوٹیفیکیشن کو واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا جس میں تحت ضم شدہ اضلاع میں 20 جولائی کو ہونے والے صوبائی اسمبلی کے  انتخابات کے لیے فوج کو پولنگ اسٹیشنوں کے اندر تعیات کرنے اور سمری ٹرائل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شرکا نے مطالبہ کیا کہ سابقہ قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں گذشتہ کئی سالوں سے قائم حراستی مراکز کو عام جیلوں میں تبدیل کر کے ان میں قید لوگوں کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔

میڈیا پر اعلانیہ اور غیر اعلانیہ پابندیوں اور سنسر شپ کی مذمت بھی کی گئی اور ان پابندیوں کو فورا ًہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔

اپوزشن جماعتوں نے منصفانہ اور غیر جانبدار احتساب پر زور دیا  اور مطالبہ کیا کہ احتساب کا ایک نیا مؤثر قانون بنایا جائے جس کے تحت محض چند مخصوص طبقوں کا نہیں بلکہ قومی خزانے سے تنخواہ وصول کرنے والے تمام افراد کا ایک ہی قانون اور ایک ہی ادارے کے تحت احتساب کیا جا سکے۔

اپوزشن لیڈروں نے فیصلہ کیا کہ سینیٹ کے موجودہ چیئرمین کو آئینی اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے ہٹایا جائے اور نیا چیئرمین سینیٹ لانے کا فیصلہ کیا۔

شرکا نے سابق وزیر اعظم میان محمد نواز شریف سے ملاقات پر پابندی اور ان کے ذاتی معالج کو ان تک رسائی نہ دینے کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ قانون کے مطابق میان محمد نواز شریف کے ساتھ ملاقات اور ان کے ذاتی معالج کو فی الفور رسائی دی جائے۔

کیا اپوزیشن اہداف حاصل کرسکتی ہے؟

سینیر صحافی سہیل وڑائچ نے انڈپنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا اے پی سی موجودہ حالات میں عوام کے لیے خوش آئیند ہے،لیکن اس کے اعلامیہ میں جو اہداف مقررکیے گئے ان سب کا حصول فی الحال مشکل لگتا ہے۔کیونکہ سیاسی کارکنوں کے احتجاج اور سینیٹ میں تبدیلی سے حکومت کو نہیں گرایاجاسکتا۔

سہیل کے مطابق، حکومت کو ہٹانے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کا ایک پیج پر ہونا لازمی ہے۔انہوں نے کہا  کہ جس طرح حکومت مشکلات کو حل کرنے میں ناکام ہے اگر قابو نہ پایاگیا تو آنے والے چند ماہ میں عوام باہر نکل سکتی ہے  اور اس وقت اپوزیشن جماعتوں کو کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔

 دو جماعتوں کی غیر حاضری

سربراہ جمعیت علما اسلام ف کی دعوت کے باوجود بلوچستان نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی نے اے پی سی میں شرکت نہیں کی۔

جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف نے انڈپنڈنٹ اردو کو بتایاکہ جماعت اسلامی، مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی قیادت پر کرپشن الزامات کے پیش نظر انکے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں، جبکہ جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے ایک بیان میں کہا کہ ضروری نہیں اپوزیشن جماعتیں ہرایجنڈے پر اکھٹے ہوجائیں۔

 بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی)کے جنرل سیکرٹری جہانزیب جمال دینی نے انڈپنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انکی جماعت چھ نکات پر عمل درآمد چاہتی ہے اور  اے پی سی میں شرکت کی تیاری تھی لیکن عین وقت پر وزیر اعظم نے بی این پی کو انکے نکات پورے کرنے کی یقین دہانی کرادی۔

انہوں نے کہا کہ  ان کی جماعت پہلے بھی حکومت کی اتحادی ہے۔اختلاف صرف معاہدے پر عمل درآمدکا نہ ہونا تھا۔انہوں نےبتایا کہ بلوچستان کے عوام ستر سال سے محرومیوں کا شکار ہیں۔’ہم اپنی سیاست سے زیادہ اہم اپنے چھ نکات سمجھتے ہیں جن میں لاپتہ افراد کی بازیابی بھی شامل ہے۔اگر نکات پورے نہ ہوئے تو اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ کھڑے ہونگے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست